دل کے دورے سے پیشگی آگاہی کا نیا طریقہ
روسی طالبعلمون نے مریض کو دل کا دورہ پڑنے سے چند گھنٹے پہلے انتباہ کرنے کا نیا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔
دل لا دورہ پڑنے سے پہلے پروٹین میں خصوصی ذرات نمودار ہو جاتے ہیں جو دل کے دورے کے نشانات ہوتے ہیں۔ فوٹو : فائل
امراض قلب کے مسائل کا شکار افراد کو دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ لاحق رہتا ہے، جس پر ڈاکٹر بہت پریشان ہیں۔
اگر کسی کو دل کا دورہ پڑے تو اس دوران وقت بہت قیمتی ہوتا ہے، جس میں فوری طور پر مریض کو طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔ روس کی تحقیقاتی جوہری یونیورسٹی کے شعبہ انجینئرنگ کے طالب علم لیونید پنفیلوو نے ایک طریقہ سوچا ہے جس کے ذریعے مریض کو دل کا دورہ پڑنے سے چند گھنٹے پہلے انتباہ کیا جا سکے گا۔اعداد و شمار کے مطابق تیس فی صد روسیوں کو امراض قلب میں متبلا ہونے کا خطرہ درپیش ہے۔
لیونید پنفیلوو کی تجویز ہے کہ دل کا دورہ پڑنے کے خطرے کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے انسانی تھوک میں پروٹین کی مقدار پر نظر رکھی جائے۔ بات یہ ہے کہ دل کا دورہ پڑنے سے پہلے انسانی جسم میں موجود کیمیائی مادوں میں کچھ تبدیلیاں آتی ہیں۔ پروٹین میں خصوصی ذرات نمودار ہو جاتے ہیں جو دل کے دورے کے نشانات ہوتے ہیں۔
ان ذرات کی موجودگی کا پتہ لگا کر مریض کو متنبہ کیا جا سکتا ہے۔ دل کا دورہ پڑنے کے بارے میں پیشن گوئی کرنے والے طریقے کا نام ''کارڈیو سینس'' رکھا گیا ہے۔
اس طریقے سے استفادہ کرنے کے لیے پروٹین کا جائزہ لینے والا آلہ اور نگرانی کے آلہ سے استفادہ کیا جانا ہوتا ہے۔ پروٹین کا جائزہ کرنے والے آلے کے ذریعے تھوک میں موجود پروٹین کا مسلسل معائنہ کیا جا رہا ہے۔ جب ہی پروٹین میں وہ خصوصی ذرات نمودار ہوں جو دل کے دورے کے خطرے کا نشان ہوتے ہیں تو نگران آلے کو سگنل بھیجا جائے گا۔ سگنل ملنے پر اس آلے میں ارتعاش پیدا ہوگا، یوں مریض کو خطرے کے بارے میں معلوم ہو جائے گا۔
اس طریقے سے مریض کو دل کا دورہ پڑنے سے تین سے سات گھنٹے پہلے اس بارے میں معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔ یوں مریض کو کافی وقت ملے گا کہ وہ طبی امداد کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کر لے۔ اگر یہ آلات استعمال کئے جائیں تو دل کے مریضوں کو باقاعدگی کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس نہیں جانا پڑے گا اور خون، پیشاب کا معائنہ نہیں کروانا پڑے گا۔ اس طریقے کے طفیل دل کے مریض اچانک دل کا دورہ پڑنے سے ڈرے بغیر بھرپور زندگی جی سکتے ہیں۔ ایک چھوٹا سا آلہ منہ کے اندر لگایا جاتا ہے لیکن اس سے انسان کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ دوسرا آلہ گھڑی کی شکل میں ہے، یہ بازو پر پہنا جا سکتا ہے۔ موجد لیونید پنفیلوو کا خیال ہے کہ ایسے آلات کا روشن مستقبل ہے، آئندہ ان کے ذریعے دل کا دورہ پڑنے کے خطرے کے علاوہ دیگر بیماریوں کے خطرے کے بارے میں بھی انتباہ کیا جا سکے گا۔
اگر کسی کو دل کا دورہ پڑے تو اس دوران وقت بہت قیمتی ہوتا ہے، جس میں فوری طور پر مریض کو طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔ روس کی تحقیقاتی جوہری یونیورسٹی کے شعبہ انجینئرنگ کے طالب علم لیونید پنفیلوو نے ایک طریقہ سوچا ہے جس کے ذریعے مریض کو دل کا دورہ پڑنے سے چند گھنٹے پہلے انتباہ کیا جا سکے گا۔اعداد و شمار کے مطابق تیس فی صد روسیوں کو امراض قلب میں متبلا ہونے کا خطرہ درپیش ہے۔
لیونید پنفیلوو کی تجویز ہے کہ دل کا دورہ پڑنے کے خطرے کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے انسانی تھوک میں پروٹین کی مقدار پر نظر رکھی جائے۔ بات یہ ہے کہ دل کا دورہ پڑنے سے پہلے انسانی جسم میں موجود کیمیائی مادوں میں کچھ تبدیلیاں آتی ہیں۔ پروٹین میں خصوصی ذرات نمودار ہو جاتے ہیں جو دل کے دورے کے نشانات ہوتے ہیں۔
ان ذرات کی موجودگی کا پتہ لگا کر مریض کو متنبہ کیا جا سکتا ہے۔ دل کا دورہ پڑنے کے بارے میں پیشن گوئی کرنے والے طریقے کا نام ''کارڈیو سینس'' رکھا گیا ہے۔
اس طریقے سے استفادہ کرنے کے لیے پروٹین کا جائزہ لینے والا آلہ اور نگرانی کے آلہ سے استفادہ کیا جانا ہوتا ہے۔ پروٹین کا جائزہ کرنے والے آلے کے ذریعے تھوک میں موجود پروٹین کا مسلسل معائنہ کیا جا رہا ہے۔ جب ہی پروٹین میں وہ خصوصی ذرات نمودار ہوں جو دل کے دورے کے خطرے کا نشان ہوتے ہیں تو نگران آلے کو سگنل بھیجا جائے گا۔ سگنل ملنے پر اس آلے میں ارتعاش پیدا ہوگا، یوں مریض کو خطرے کے بارے میں معلوم ہو جائے گا۔
اس طریقے سے مریض کو دل کا دورہ پڑنے سے تین سے سات گھنٹے پہلے اس بارے میں معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔ یوں مریض کو کافی وقت ملے گا کہ وہ طبی امداد کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کر لے۔ اگر یہ آلات استعمال کئے جائیں تو دل کے مریضوں کو باقاعدگی کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس نہیں جانا پڑے گا اور خون، پیشاب کا معائنہ نہیں کروانا پڑے گا۔ اس طریقے کے طفیل دل کے مریض اچانک دل کا دورہ پڑنے سے ڈرے بغیر بھرپور زندگی جی سکتے ہیں۔ ایک چھوٹا سا آلہ منہ کے اندر لگایا جاتا ہے لیکن اس سے انسان کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ دوسرا آلہ گھڑی کی شکل میں ہے، یہ بازو پر پہنا جا سکتا ہے۔ موجد لیونید پنفیلوو کا خیال ہے کہ ایسے آلات کا روشن مستقبل ہے، آئندہ ان کے ذریعے دل کا دورہ پڑنے کے خطرے کے علاوہ دیگر بیماریوں کے خطرے کے بارے میں بھی انتباہ کیا جا سکے گا۔