سچ بولنے کی دوا
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جھوٹ بولتے وقت جھوٹا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے سے گریز کرے گا۔
ہم اکثر جھوٹ بولتے ہیں اور ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کب ہم سے جان بوجھ کر دیدہ دانستہ جھوٹ بولا جا رہا ہے۔ فوٹو: فائل
ہماری روزہ مرہ زندگی میں جھوٹ اور سچ میں امتیاز کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
فلموں اور ٹی وی ڈراموں میں سوڈیم تھیوپینٹل کو اکثر ایک ایسی دوا کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس کی خوراک پلا کر قیدیوں سے صحیح معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ جھوٹے کا پتہ لگانے کے بارے میں کئی روایات ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جھوٹ بولتے وقت جھوٹا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے سے گریز کرے گا، اپنے پاؤں ہلائے گا یا پھر اپنی ناک کھجائے گا۔
اس کے باوجود ہم اکثر جھوٹ بولتے ہیں اور ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کب ہم سے جان بوجھ کر دیدہ دانستہ جھوٹ بولا جا رہا ہے۔ بے شمار تجزیوں کے بعد یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ جیسا کہ پولیس کے تفتیشی افسران جھوٹوں کا پتہ لگانے میں کسی عام شخص سے بہتر نہیں ہوتے۔ لہٰذا یہ بات کسی طور پر بھی حیران کن نہیں ہے کہ سائنسدان ایک عرصے سے اس بات کی کوشش میں ہیں کہ کوئی ایسی دوا ایجاد کی جائے جس سے انسان سے سچ اگلوایا جا سکے۔
اس طرح کی دواؤں میں سب سے پرانی اور مقبول دوا سوڈیم تھیوپینٹل ہے۔ گو کہ یہ سنہ 1930ء میں بنائی گئی تھی لیکن یہ آج بھی بہت سی جگہوں اور صورتوں میں استعمال کی جاتی ہے اور چند ملکوں میں اسے پولیس اور فوج کے تفتیشی ادارے بھی استعمال کرتے ہیں۔ تو کیا یہ دوا کارگر ہے؟ ایک تجربے اور ماہرین سے بات چیت کے بعد تحقیق کار اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس دوا کے زیر اثر آپ ایسی حالت میں ہوتے ہیں کہ جو کچھ آپ کے تفتیش کار جو سننا چاہتے ہیں آپ وہی کہنے پر آمادہ ہوتے ہیں نہ کہ سچ۔سائنس کے نامہ نگار مائیکل موزلی نے ایک ذاتی سائنسی تجربے کے بعد کہا ہے کہ سچ بولنے پر مجبور کرنے کی کوئی قابل اعتماد دوا ابھی نہیں بنائی جا سکی ہے۔ لہذا سچ یہی ہے کہ ایسی کوئی قابل اعتماد دوا نہیں ہے جو سچ اگلوا سکے۔ اور اگر ایسی کوئی دوا بنا بھی لی گئی ہے تو کوئی بتانے کو تیار نہیں ہے۔n
فلموں اور ٹی وی ڈراموں میں سوڈیم تھیوپینٹل کو اکثر ایک ایسی دوا کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس کی خوراک پلا کر قیدیوں سے صحیح معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ جھوٹے کا پتہ لگانے کے بارے میں کئی روایات ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جھوٹ بولتے وقت جھوٹا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے سے گریز کرے گا، اپنے پاؤں ہلائے گا یا پھر اپنی ناک کھجائے گا۔
اس کے باوجود ہم اکثر جھوٹ بولتے ہیں اور ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کب ہم سے جان بوجھ کر دیدہ دانستہ جھوٹ بولا جا رہا ہے۔ بے شمار تجزیوں کے بعد یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ جیسا کہ پولیس کے تفتیشی افسران جھوٹوں کا پتہ لگانے میں کسی عام شخص سے بہتر نہیں ہوتے۔ لہٰذا یہ بات کسی طور پر بھی حیران کن نہیں ہے کہ سائنسدان ایک عرصے سے اس بات کی کوشش میں ہیں کہ کوئی ایسی دوا ایجاد کی جائے جس سے انسان سے سچ اگلوایا جا سکے۔
اس طرح کی دواؤں میں سب سے پرانی اور مقبول دوا سوڈیم تھیوپینٹل ہے۔ گو کہ یہ سنہ 1930ء میں بنائی گئی تھی لیکن یہ آج بھی بہت سی جگہوں اور صورتوں میں استعمال کی جاتی ہے اور چند ملکوں میں اسے پولیس اور فوج کے تفتیشی ادارے بھی استعمال کرتے ہیں۔ تو کیا یہ دوا کارگر ہے؟ ایک تجربے اور ماہرین سے بات چیت کے بعد تحقیق کار اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس دوا کے زیر اثر آپ ایسی حالت میں ہوتے ہیں کہ جو کچھ آپ کے تفتیش کار جو سننا چاہتے ہیں آپ وہی کہنے پر آمادہ ہوتے ہیں نہ کہ سچ۔سائنس کے نامہ نگار مائیکل موزلی نے ایک ذاتی سائنسی تجربے کے بعد کہا ہے کہ سچ بولنے پر مجبور کرنے کی کوئی قابل اعتماد دوا ابھی نہیں بنائی جا سکی ہے۔ لہذا سچ یہی ہے کہ ایسی کوئی قابل اعتماد دوا نہیں ہے جو سچ اگلوا سکے۔ اور اگر ایسی کوئی دوا بنا بھی لی گئی ہے تو کوئی بتانے کو تیار نہیں ہے۔n