قربانی کیلیے اناڑی قصابوں نے منہ مانگے دام وصول کیے
قصابوں نے بڑے جانورکے3سے5ہزار،چھوٹے جانورکے ایک ہزارسے2ہزارتک لیے.
اکثر قصاب گوشت بھی صحیح طریقے سے نہ بناسکے،پیشہ ورقصابوں کی قلت رہی ۔ فوٹو : این این آئی
عیدالاضحی کے تینوں ایام میں شہری اپنے جانور قربان کرانے کے لیے پیشہ ور قصابوں کو ڈھونڈتے رہے۔
موسمی اور اناڑی قصابوں نے صورت حال کا بھرپور فائدہ اٹھایا ، منہ مانگے دام وصول کرکے شہریوں کی جیبوں کا صفایا کیا ، تفصیلات کے مطابق عیدالاضحی کے تینوں ایام میں کراچی میں شہریوں نے بھرپور طریقے سے سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں اپنی استطاعت کے مطابق جانور قربان کیے مہنگائی کے باعث رواں برس اجتماعی قربانی کا رجحان زیادہ دیکھنے میں آیا ، مختلف فلاحی تنظیموں ، اداروں ، مدارس اور مساجد کی جانب سے اجتماعی قربانی کا اہتمام کیا گیا تھا، مختلف علاقوں میں بڑے جانور کا فی حصہ 7500 سے 9500 روپے تک وصول کیا گیا۔
ان اداروں کی جانب سے تو اجتماعی قربانی کیلیے مناسب انتظامات کیے گئے تھے جس کی وجہ سے شہریوں کو بروقت ان کا حصہ مل گیا تاہم جن شہریوں نے انفرادی طور پرقربانی کا اہتمام کیا تھا ان شہریوں میں سے بیشتر افراد عیدکے ایام میں پیشہ ور قصابوں کو ڈھونڈتی نظر آئی،شہریوں کی بڑی تعداد نے عید سے قبل ہی پیشہ ورقصابوں سے اپنے جانور قربان کرانے کیلیے بکنگ کرالی تھی جو شہری بکنگ نہیں کرا سکے وہ پیشہ ور قصابوں کی تلاش میں پریشان نظر آئے، پیشہ ور قصابوں نے عید کے پہلے روز بڑے جانورکی قربانی کے لیے 6ہزار سے 10 ہزار جبکہ دوسرے اور تیسرے روز 4سے6 ہزار روپے تک معاوضہ وصول کیا گیا ۔
اسی طرح چھوٹے جانور کو قربان کرنے کیلیے پہلے روز پیشہ ور قصابوں نے 2000 سے 3000 جبکہ دوسرے اور تیسرے روز 1000 سے 2000 روپے تک وصول کیے ، پیشہ ور قصابوں کی قلت کے باعث اناڑی اور موسمی قصابوں کی بڑی تعداد شہر میں جانوروں کو قربان کرتی نظر آئی۔
ان قصابوں کی ٹولیوں میں روز مرہ کی اجرت پر کام کرنے والے افراد کے علاوہ مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد بھی شامل تھی ، قصابوں نے شہریوں سے جانوروں کو دیکھ کر معاوضہ طے کیا، ان کا معاوضہ پیشہ ور قصابوں کے مقابلے میں کم تھا،ان قصابوں نے بڑے جانور کے 3سے 5 ہزار اورچھوٹے جانور کے 1000 سے 2000 روپے تک معاوضہ وصول کیا، اناڑی اور موسمی قصابوں میں سے بیشتر نے جانوروں کو قربان کرنے کے دوران کھالوں کو صحیح طریقے سے نہیں اتارا جبکہ بعض قصاب گوشت بھی صحیح طریقے سے نہیں بنا سکے ،شہری مجبور قصابوں سے جانور قربان کرانے پر مجبور تھے ۔
موسمی اور اناڑی قصابوں نے صورت حال کا بھرپور فائدہ اٹھایا ، منہ مانگے دام وصول کرکے شہریوں کی جیبوں کا صفایا کیا ، تفصیلات کے مطابق عیدالاضحی کے تینوں ایام میں کراچی میں شہریوں نے بھرپور طریقے سے سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں اپنی استطاعت کے مطابق جانور قربان کیے مہنگائی کے باعث رواں برس اجتماعی قربانی کا رجحان زیادہ دیکھنے میں آیا ، مختلف فلاحی تنظیموں ، اداروں ، مدارس اور مساجد کی جانب سے اجتماعی قربانی کا اہتمام کیا گیا تھا، مختلف علاقوں میں بڑے جانور کا فی حصہ 7500 سے 9500 روپے تک وصول کیا گیا۔
ان اداروں کی جانب سے تو اجتماعی قربانی کیلیے مناسب انتظامات کیے گئے تھے جس کی وجہ سے شہریوں کو بروقت ان کا حصہ مل گیا تاہم جن شہریوں نے انفرادی طور پرقربانی کا اہتمام کیا تھا ان شہریوں میں سے بیشتر افراد عیدکے ایام میں پیشہ ور قصابوں کو ڈھونڈتی نظر آئی،شہریوں کی بڑی تعداد نے عید سے قبل ہی پیشہ ورقصابوں سے اپنے جانور قربان کرانے کیلیے بکنگ کرالی تھی جو شہری بکنگ نہیں کرا سکے وہ پیشہ ور قصابوں کی تلاش میں پریشان نظر آئے، پیشہ ور قصابوں نے عید کے پہلے روز بڑے جانورکی قربانی کے لیے 6ہزار سے 10 ہزار جبکہ دوسرے اور تیسرے روز 4سے6 ہزار روپے تک معاوضہ وصول کیا گیا ۔
اسی طرح چھوٹے جانور کو قربان کرنے کیلیے پہلے روز پیشہ ور قصابوں نے 2000 سے 3000 جبکہ دوسرے اور تیسرے روز 1000 سے 2000 روپے تک وصول کیے ، پیشہ ور قصابوں کی قلت کے باعث اناڑی اور موسمی قصابوں کی بڑی تعداد شہر میں جانوروں کو قربان کرتی نظر آئی۔
ان قصابوں کی ٹولیوں میں روز مرہ کی اجرت پر کام کرنے والے افراد کے علاوہ مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد بھی شامل تھی ، قصابوں نے شہریوں سے جانوروں کو دیکھ کر معاوضہ طے کیا، ان کا معاوضہ پیشہ ور قصابوں کے مقابلے میں کم تھا،ان قصابوں نے بڑے جانور کے 3سے 5 ہزار اورچھوٹے جانور کے 1000 سے 2000 روپے تک معاوضہ وصول کیا، اناڑی اور موسمی قصابوں میں سے بیشتر نے جانوروں کو قربان کرنے کے دوران کھالوں کو صحیح طریقے سے نہیں اتارا جبکہ بعض قصاب گوشت بھی صحیح طریقے سے نہیں بنا سکے ،شہری مجبور قصابوں سے جانور قربان کرانے پر مجبور تھے ۔