پاکستان نے جنوبی افریقہ کے چھکے چھڑا دیے

سعید اجمل میچ میں 6 وکٹیں لے اڑے، ذوالفقار بابر نے 5شکار کیے، محمد عرفان اور جنید خان نے 4،4 کو پویلین کی راہ دکھائی

ابوظبی: جنوبی افریقہ کیخلاف تاریخی فتح ملنے کے بعد پاکستانی کپتان مصباح الحق میچ کے ہیرو خرم منظور کو شاباشی دے رہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

پاکستان نے عالمی نمبر ون پروٹیز کے چھکے چھڑا دیئے، کنڈیشنز بدلتے ہی 15ٹیسٹ میں ناقابل شکست مہمان ٹیم کا حال بدل گیا۔

کھلاڑی کسی شعبہ میں بھی توقعات کے مطابق پرفارم نہ کرپائے، پہلی اننگز میں 193 رنز کے خسارے میں جانے والی گریم سمتھ الیون دوسری باری میں 232تک محدود رہی، ڈی ویلیئرز(90) اور روبن پیٹرسن (47) کے سوا کوئی مزاحمت نہ کرپایا، سعید اجمل میچ میں 6 وکٹیں لے اڑے، ذوالفقار بابر نے 5شکار کیے، محمد عرفان اور جنید خان نے 4،4 کو پویلین کی راہ دکھائی۔ میزبان ٹیم نے صرف 40رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے بھی 3وکٹیں 7رنز پر گنوادیں، پہلی اننگز میں سنچری بناکر پاکستانی برتری میں اہم کردار ادا کرنے والے مصباح الحق نے کسی انہونی کا راستہ روکتے ہوئے نیا پار لگادی۔کپتان نے فتح کو ناقابل یقین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سازگار ماحول کا بولرز اور بیٹسمینوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا، ٹاپ ٹیم کے خلاف جیت کا مزا ہی کچھ اور ہے۔ پروٹیز کپتان تسلیم کیا کہ پاکستان نے آؤٹ کلاس کر دیا، تاہم ان کا یہ بھی دعویٰ ہے باصلاحیت پروٹیز دبئی ٹیسٹ میں کم بیک کرتے ہوئے سیریز برابر کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان نے ابو ظبی میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں عالمی نمبر ون جنوبی افریقہ کو 7 وکٹوں سے اپ سیٹ شکست دے کر سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی۔بدھ کو میزبان ٹیم نے اپنی پہلی اننگز 3 وکٹ پر 263رنز کے کے ساتھ دوبارہ شروع کی، ٹوٹل میں 37 رنز کے اضافہ پر خرم منظور 146کے انفرادی اسکور پر ورنون فلینڈر کی گیند پر آئوٹ ہوئے، اسد شفیق نے 54 رنز کی اننگز کے دوران مصباح الحق کے ساتھ 82 رنز کی شراکت قائم کی، نوجوان بیٹسمین ڈومینی کی وکٹ بنے،کپتان کیریئر کی چوتھی سنچری مکمل کرنے کے فوراً بعد ڈیل اسٹین کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے، سعید اجمل (13) فلینڈر کی وکٹ ثابت ہوئے، ذوالفقار بابر(2) کو ڈیل اسٹین نے رن آؤٹ کیا، جنید خان کو مورکل نے صرف 3 پر چلتا کیا، عدنان اکمل قیمتی32 رنز بنانے کے بعد ڈیل اسٹین کی گیند پر بولڈ ہوئے تو پاکستان کی اننگز کا 442 رنز پر اختتام ہوگیا۔ اسٹین اور فلینڈر 3،3، ڈومینی 2جبکہ مورکل ایک وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔




پہلی اننگز میں 193 رنز کے خسارے میں جانے والے پروٹیز نے دوسری باری کا آغاز کیا تو محمد عرفان نے ایک مرتبہ پھر ابتدا میں ہی پاکستان کو وکٹ دلا دی، انھوں نے الویرو پیٹرسن(17)کو پویلین بھیجا، اسکور 55 پر پہنچا تو سعید اجمل نے گریم اسمتھ کو 32 پر آئوٹ کر دیا، عدنان اکمل گیند ہاتھوں سے پھسلنے کے باوجود انہیں اسٹمپ کرنے میں کامیاب ہوگئے، جنید خان نے جیک کیلس کو کھاتہ کھولنے کا موقع نہ دیا، 58 کے مجموعی اسکور پر 3 وکٹیں گرنے کے بعد پہلی اننگز کے سنچری میکر ہاشم آملہ اس بار صرف 10 رنز پر ذوالفقار بابر کا شکار بنے۔جمعرات کو میچ کے چوتھے روز جنوبی افریقہ نے 4 وکٹ پر 74 رنز سے اننگز کا دوبارہ آغاز کیا، پاکستانی بولرز نے ابتدا میں ہی حریف ٹیم کی میچ بچائو مہم پر کاری ضربیں لگائیں، نائٹ واچ مین ڈیل سٹین 7 ذوالفقار بابر اور پال ڈومینی بغیر کوئی رن بنائے جنید خان کی گیند پر پویلین لوٹے، بعد ازاں فاف ڈیوپلیسی کی اننگز بھی صرف 9 رنز تک محدود رہی، انھیں سعید اجمل نے چلتا کیا، پروٹیز کی تمام تر امیدیں ڈی ویلیئرز سے وابستہ تھیں،انھوں نے 90 رنز کی اننگز کھیل کر کسی حد تک مزاحمت کی لیکن جنید خان نے ایک بار پھر کپتان کی امیدوں پر پورا اترتے ہوئے انھیں چلتا کر دیا۔

اس وقت 190 رنز پر 8 بیٹسمین آئوٹ ہوچکے تھے اور جنوبی افریقہ کو اننگز کی شکست سے بچنے کیلیے مزید 3 رنز درکار تھے، روبن پیٹرسن نے 47 رنز کی ناقابل شکست اننگز میں پاکستانی بولرز کو پریشان کیا، تاہم سعید اجمل نے فلینڈر کو 10پر آئوٹ کرنے کے بعد مورکل کو صفر پر اپنی ہی گیند پر کیچ کیا، پوری ٹیم 232 رنز پر پویلین لوٹ گئی۔آف اسپنر نے مجموعی طور پر 4 بیٹسمینوں کو پویلین چلتا کیا، جنید خان نے 3 اہم وکٹوں کے ساتھ فتح کا راستہ بنایا۔ پاکستان کو فتح کیلیے صرف 40 رنز کا ہدف ملا، اننگز کے آغاز میں بیٹسمینوں نے ایک بار پھر جنوبی افریقہ میں ہونے والی ٹیسٹ سیریز کی یاد تازہ کردی اوردونوں اوپنرز سمیت 3بیٹسمین 7رنز پر پویلین واپس پہنچ گئے۔ اس مرحلے پر ایسا محسوس ہونے لگا کہ شاید جنوبی افریقہ کوئی کرشمہ کر دکھائے گا لیکن مصباح الحق اور یونس خان نے ثابت قدمی سے پاکستان کی فتح کو یقینی بنایا۔



کپتان نے اپنی گزشتہ اننگز کی فارم کو برقرار رکھتے ہوئے روبن پیٹرسن کو چھکا جڑکر اپنی ٹیم کو 7 وکٹ کی شاندار فتح سے ہمکنار کرا دیا، انہوں نے دو چھکوں سمیت 28 جبکہ یونس نے 9رنز بنائے، یاد رہے کہ یہ جنوبی افریقہ کی دسمبر 2011 کے بعد کسی بھی ٹیسٹ میچ میں پہلی شکست ہے، پروٹیز گزشتہ 15 مقابلوں میں ناقابل تسخیر چلے آرہے تھے،خرم منظور پہلی اننگز میں 146 رنز کی شاندار باری کھیلنے پر مرد میدان قرار پائے۔کپتان مصباح الحق نے فتح کو ناقابل یقین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی مختلف کنڈیشنز نے پاکستان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابوظبی میں ہمیں پاکستان جیسا سازگار ماحول ملا جس کا بولرز اور بیٹسمینوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا، انھوں نے کہا کہ واقعی ناقابل یقین فتح ہے جس کی ہمیں اشد ضرورت بھی تھی، ٹیم کا اعتماد بڑھانے کیلیے ایسی کامیابی ہمیشہ بہت ضروری ہوتی ہے لیکن عالمی نمبر ایک ٹیم کے خلاف فتح کا مزا ہی کچھ خاص ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہرارے میں زمبابوے کو سوئنگ کنڈیشنز سے فائدہ پہنچا لیکن یہاں صورتحال بالکل مختلف تھی، ہمیں میچ سے پہلے ہی یقین تھا کہ امارات کی وکٹیں اور موسم ہمارے لیے سازگار ثابت ہو گا۔مصباح نے کہا کہ یہاں پر انگلینڈ کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اور میرے خیال میں ٹیسٹ میچ کے نتائج میں کنڈیشنز کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔کپتان نے کہا کہ حریف ٹیم کی بہترین اور لمبی بیٹنگ لائن کے باوجود انہیں 250 سے کم رنز پر محدود کرنا میچ کا ٹرننگ پوائنٹ تھا، اس کے بعد اوپنرز نے بہترین آغاز فراہم کر کے ہمارے اعتماد میں مزید اضافہ کر دیا۔ مصباح نے اوپنرز خرم منظور اور اسپنر ذوالفقار بابر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے شاندار انداز میں ذمہ داری نبھائی اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ جنوبی افریقی ٹیم کے کپتان گریم اسمتھ نے کہاکہ ناکامی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے تسلیم کیا کہ پاکستانی ٹیم نے انھیں آؤٹ کلاس کر دیا۔انھوں نے کہا کہ پہلے سیشن سے ہی مصباح الحق الیون ہم سے آگے رہی، تاہم میچ کے اختتامی روز ہماری کارکردگی میں بہتر آئی،کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہوگئے ہیں، ٹیم باصلاحیت ہے دبئی ٹیسٹ میں کم بیک کرتے ہوئے سیریز برابر کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
Load Next Story