فرانس 2 طالبات کی ملک بدری کیخلاف ہزاروں افراد کا مظاہرہ جھڑپیں

متعددزخمی، ہزاروں طلبہ پیرس کی سڑکوں پر نکل آئے، مشتعل مظاہرین نے کچھ علاقوں کے اسکولوں کے داخلی حصوں کو بند کیے رکھا

حالیہ دنوں میں طالبات کی ملک بدری کے علاوہ ایک لڑکی کو اسکول وین سے بھی اتاردیا گیا تھا۔فوٹو:فائل

فرانس میں 2 طالبات کو ملک بدری کے احکام جاری کر دیے گئے جس کے خلاف ہزاروں طالب علموں نے پیرس کی سڑکوں پر مظاہرہ کیا، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق فرانس نے تارکین وطن کے ملک بدری کے احکام جاری کر دیے جن میں 2 طالبات بھی شامل ہیں۔ فرانسیسی حکومت کے احکام کے خلاف ہزاروں طالب علموں نے احتجاجی مظاہرہ کیا، اس دوران مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں ہوئیں تاہم زیادہ تر احتجاج، پْرامن نوعیت کا تھا۔ طالب علموں نے کچھ علاقوں کے اسکولوں کے داخلی حصوں کو بند کیے رکھا۔




طالب علموں کے مطابق حالیہ دنوں میں کوسوو سے تعلق رکھنے والی لیونارڈا ڈبرانی کو ملک بدر کیا گیا جبکہ 15برس کی روما کوسووار کو اپنی ہم جماعت طالبات کے سامنے اسکول کی بس سے نیچے اتارا گیا جو مناسب کارروائی نہیں تھی۔ فرانسیسی پولیس کے بقول یہ اقدام طالبات کے اہل خانہ کی طرف سے سیاسی پناہ کی درخواست مسترد ہونے کے بعد جاری ہونے والے احکام کی روشنی میں کیا گیا۔ پیرس کے اسکول کی ایک اور طالبہ 19 برس کی کچیک کشاتریان کو بھی ملک بدر کیا گیا۔
Load Next Story