ثریا نے 13 سال کی عمر میں اپنا پہلا گیت ریکارڈ کرایا

ثریا نے1937میں بطور چائلڈ اسٹارفلم ’’سوچا‘‘ میں اداکاری سے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا

15 جون 1929 کو پیدا ہوئیں، 1937 میں بطور چائلڈ اسٹار اداکاری کا آغاز کیا۔ فوٹو: فائل

اداکاری اور گلوکاری کے شعبہ میں بھارت کی لیجنڈ فنکارہ ثریا نے اپنے دور میں بے حد شہرت اور مقبولیت حاصل کی وہ 1940 اور1950کی دہائی میں بطور سنگر صف اول کی گلوکارائوں میں شامل رہیں۔

15جون1929کو گوجرانوالہ میں پیدا ہونے والی ثریا نے1937میں بطور چائلڈ اسٹارفلم ''سوچا'' میں اداکاری سے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا۔بھارت کے معروف ولن ظہور نے ان کی رہنمائی اور فلموں میں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا،ثریا اسکول کی چھٹیوں میں اکثر ان کے ساتھ فلموں کی شوٹنگ دیکھنے جاتی تھیں، معروف ہدایت کار نانو بھائی وکیل نے انھیں ممتاز محل کا کردار آفر کیا،انھوں نے اس فلم میںممتاز محل (جونئیر) کا کردار ادا کیا،ثریا نے آل انڈیا ریڈیو سے بچوں کے پروگراموں میں بہت زیادہ شرکت کی۔موسیقار اعظم نوشاد نے جب ان کی آواز سنی تو انھوں نے فلم میں گانے کی پیشکش کی اس وقت ان کی عمر 13 سال تھی،انھوں نے فلم ''شردھا'' اپنی زندگی کا پہلا گیت ریکارڈ کرایا، جو 1942میںنمائش کے لیے پیش کی گئی تھی۔




گلوکارہ کے طور ثریا کو فلم انمول گھڑی، درد، دل لگی اورداستان کے گیتوں سے زبردست شہرت ملی ان فلموں کے سب ہی گیت سپر ہٹ ہوئے، نوشاد نے ان کے لیے 50سے زائد گیت لکھوائے اور ان کی موسیقی ترتیب دی، ثریا نے گلوکارو اداکارسہگل کے ساتھ فلم عمر خیام اور پروانہ میں ادکاری کا مظاہرہ کیا،ان کی تین سپر ہٹ فلموں پیار کی جیت، بڑی بہن، اور دل لگی کی شاندار کامیابی کے بعد ان کا شمار سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی اداکارائوں میں ہونے لگا، وہ اداکاری کے شعبہ میںشہرت کی بلندی پر پہنچ گئیں۔1950 سے ان کا ڈائون فال شروع ہوا ان کی متعدد فلمیں فلاپ ہوئیں لیکن انھوں نے ہمت نہیں ہاری اور محنت کرتی رہیں جس کے بعد انھوں ایک بار فلموں میں جگہ بنالی، ان کا شاندار کم بیک ہوا انھیں فلم وارث اور مرزا غالب سے ایک بار پھر وہ فن کی بلندیوں پر پہنچ گئیں۔

انھوں نے دیو آنند کے ساتھ بھی بہت سی فلموں میں کام کیا ان میں ودھیا، جنت، شیر ،افسر، نیلی،دو ستارے، اور صنم قابل ذکر ہیں،ان کی آخری فلم1963میں ریلیز ہونے والی فلم رستم سہراب تھی، دیو آئنند کے ساتھ فلموں کے دوران ان کاا فئیر مشہور ہوا دیو آنند ثریا سے شادی کے خواہش مند تھے لیکن ان کی نانی نے اس رشتہ سے صرف اس لیے انکار کردیا کہ ایک مسلمان لڑکی کی شادی کسی ہندو سے نہیں ہوسکتی،اس کے بعد ثریا نے شادی نہیں کی، ثریا کو اس دور میں ملکہ ترنم کا اعزاز دیا گیا لیکن بعد میں ان سے یہ اعزاز واپس لے کر ملکہ ترنم کا اعزاز نورجہاں کو دے دیا گیا، گلوکاری اور اداکاری کے شعبہ میں جو دور ثریا نے گزارا وہ بہت یاد گار اور بہترین رہا ۔
Load Next Story