ارشد پپو قتل کیس گواہوں کے بیان کی نقول فراہم

ارشد پپو کے قتل کی ویڈیو سی ڈی بھی عدالت میں پیش کی جاچکی،عذیرجان،حبیب جان ودیگرکو پولیس پکڑنہ سکی

فاضل عدالت نے ملزمان پر فرد جرم عاید کرنے کیلیے سماعت30اکتوبر تک ملتوی کردی ہے۔۔ فوٹو؛ فائل

لاہور:
ارشد پپو قتل کیس میں گرفتار ملزمان کو گواہوں کے بیانات کی نقول فراہم کردی ہے۔

دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے فرد جرم عائد کرنے کیلیے 30اکتوبر مقرر کردی ہے ہفتے کو جیل حکام نے ارشد پپو اس کے بھائی یاسر عرفات اور جمعہ شیرا کے تہرے قتل میں ملوث ایم این اے شاہجہاں بلوچ ، زبیر بلوچ ، ذاکر ڈاڈا ، عبدالرحمنٰ ، انسپکٹر یوسف بلوچ اور انسپکٹر جاوید بلوچ کو جیل حکام نے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے روبرو پیش کیا تھا اس موقع پر استغاثہ کی جانب سے گواہوں کے لیے گئے بیانات کی نقول فراہم کردی گئی ہے،فاضل عدالت نے ملزمان پر فرد جرم عاید کرنے کیلیے سماعت30اکتوبر تک ملتوی کردی ہے۔

ملزمان کے خلاف چالان میں الزام عاید کیا گیا ہے کہ 16مارچ کو مذکورہ پولیس افسران ودیگر نے تھانہ کلاکوٹ کی پولیس موبائل کے ذریعے ڈیفنس کے علاقے میں موجود تینوں مقتولین کو اغوا کرکے گرفتارا ور اشتہاری ملزمان کو حوالے کیا تھا ،مفرور اوراشتہاری ملزمان نے ارشد پپو اور اس کے بھائی کو بیہمانہ تشدد کے بعد قتل کردیا تھا۔




اسکی گردن تن سے جدا کرکے فٹ بال کھیلی ، بعدازاں لاش کو جلاکر گٹرمیں ڈال دیا تھا ، سپریم کورٹ کے از خود نوٹس پر مقتول ارشد پپوکی اہلیہ عاصمہ کی مدعیت میں تھانہ کلا کوٹ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

ایف آئی آر میں مذکورہ ملزمان کو نامزد کیا گیاتھا،واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر مقدمے کے تفتیشی افسر نے انسپکٹر جاوید بلوچ اور یوسف بلوچ کے خلاف مقدمے کا ضمنی چالان جمع کرایا تھا جس میں تفتیش کے موقع پر بنائی گئی ویڈیو سی ڈی بھی بطور گواہی پیش کی گئی، مقدمے میں ملوث عذیرجان بلوچ ، حبیب جان ،زاہد لاڈلہ ، یاسر پٹھان اور نور محمد عرف بابا لاڈلہ کو مفرور قرار دیا جاچکا ہے، واضح رہے کہ نور محمد عرف بابا لاڈلہ کا قتل ہوچکا ہے تاہم عدالت کو مطلع نہیں کیا گیا ہے، ملزمان کے خلاف تھانہ کلاکوٹ میں مقدمہ درج ہے ۔
Load Next Story