نصرت بھٹو کالونی کے مکینوں کا بجلی کی طویل بندش کیخلاف دھرنا
احتجاج کے باعث قلندریہ چوک اوراس کے اطراف کے علاقوں میں بدترین ٹریفک جام ہوگیا،شہری گھنٹوں گاڑیوں میں محصوررہے
عیدالاضحی پر جہاں پورے شہر میں بجلی آ رہی تھی وہیں نصرت بھٹو کالونی اور اس سے ملحقہ علاقوں کی بجلی معطل تھی ۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل
KHANEWAL:
بجلی کی طویل بندش کیخلاف نصرت بھٹو کالونی کے مکینوں نے نارتھ ناظم آباد قلندریہ چوک پر شدید احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے دیا ۔
3 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے احتجاج کے باعث قلندریہ چوک اور اس کے اطراف کے علاقوں میں بد ترین ٹریفک جام ہو گیا ، جس سے شہری گھنٹوں گاڑیوں میں محصور ہو کر رہ گئے ،تفصیلات کے مطابق نصرت بھٹو کالونی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 3 روز سے بجلی کی عدم فراہمی کے خلاف علاقہ مکین گھروں سے نکل آئے اورنارتھ ناظم آباد قلندریہ چوک کے قریب سڑک پر ٹائر جلا کر ٹریفک کے لیے بلاک کر دی، مظاہرین نے سڑک پر پتھراؤ بھی کیا جس کے باعث متعدد گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے ، مظاہرین کا کہنا تھا کہ گزشتہ3 روز سے نصرت بھٹو کالونی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہے اور کئی بار کے ای ایس سی انتظامیہ کو آگاہ کیا گیا ۔
تاہم کے ای ایس سی انتظامیہ کسی صورت بات سننے کو تیار نہیں، انفرادی طور پر کے ای ایس سی کو واجبات ادا کر دیے گیے ہیں اس کے باوجود کے ای ایس سی بجلی بحال نہیں کر رہی انھوں نے بتایا کہ عیدالاضحی پر جہاں پورے شہر میں بجلی آ رہی تھی وہیں نصرت بھٹو کالونی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں عوام دشمن سوچ کے باعث بجلی کی فراہمی معطل تھی اور عید الاضحی کے تینوں روز انھیں بغیر بجلی کے گزارنے پڑے جس کے باعث علاقہ مکینوں کو گھروں پر تالہ لگا کر قریبی رشتے داروں کے گھر منتقل ہونا پڑا جبکہ بعض علاقہ مکینوں نے اپنے رشتہ داروں کو گھر آنے سے روک دیا، انھوں نے بتایا کہ طویل بجلی کی عدم فراہمی کے باعث پانی کی بھی قلت بھی پیدا ہو گئی اور شہری مساجد سے پانی بھر کے گھر لانے پر مجبور ہیں۔
تاہم ان کی کہیں کوئی شنوائی نہیں ہو رہی اور اسی وجہ سے بلاآخر انھوں نے پر امن احتجاج کا راستہ اختیار کیا، احتجاج اور دھرنے کے باعث نارتھ ناظم آباد قلندریہ چوک اور اس کے اطراف کے علاقوں میں شدید ٹریفک جام ہو گیا اور سڑکوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں جس کے باعث بڑی تعداد میں شہری اپنی گاڑیوں میں محصور ہو کر رہ گئے،3 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے احتجاج کے باعث متعدد گاڑیوں میں ایندھن ختم ہو گیا جس کی وجہ سے شہری اپنی گاڑیوں کو دھکا لگاتے دکھائی دیے۔
جبکہ شام میں دفاتر سے واپس گھر آنے والے لوگوں کو بھی شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، ڈی ایس پی شاہد عباس سے نے بتایا کہ کے ای ایس سی حکام کا کہنا ہے کہ نصرت بھٹو کالونی میں نصب کے ای ایس سی کی پی ایم ٹی پر40 لاکھ روپے کے واجبات ہیں جبکہ احتجاج کرنے والے بیشتر مکین وہ ہیں جنھوں نے انفرادی طور پر اپنے گھروں کے ای ایس سی کے بل ادا کر دیے ہیں ،احتجاجی مظاہرین کا کہنا ہے جب ان لوگوں نے بل ادا کر دیے ہیں تو ان کی بجلی بحال کی جائے کے ای ایس سی انتظامیہ کسی بھی صورت میں بجلی بحال کرنے کو تیار نہیں، بعدازاں پولیس نے مظاہرین سے مذاکرات کر کے احتجاج ختم کرادیا ، ایس ایچ او شاہراہ نور جہاں طارق محمود نے بتایا کہ پیر کو ڈی سی سینٹرل آفس میں علاقے کے بزرگوں اور کے ای ایس سی انتظامیہ کے درمیان مذاکرات طے ہوئے ہیں جس میں مسئلہ کا حل تلاش کیا جائے گا۔
بجلی کی طویل بندش کیخلاف نصرت بھٹو کالونی کے مکینوں نے نارتھ ناظم آباد قلندریہ چوک پر شدید احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے دیا ۔
3 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے احتجاج کے باعث قلندریہ چوک اور اس کے اطراف کے علاقوں میں بد ترین ٹریفک جام ہو گیا ، جس سے شہری گھنٹوں گاڑیوں میں محصور ہو کر رہ گئے ،تفصیلات کے مطابق نصرت بھٹو کالونی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 3 روز سے بجلی کی عدم فراہمی کے خلاف علاقہ مکین گھروں سے نکل آئے اورنارتھ ناظم آباد قلندریہ چوک کے قریب سڑک پر ٹائر جلا کر ٹریفک کے لیے بلاک کر دی، مظاہرین نے سڑک پر پتھراؤ بھی کیا جس کے باعث متعدد گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے ، مظاہرین کا کہنا تھا کہ گزشتہ3 روز سے نصرت بھٹو کالونی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہے اور کئی بار کے ای ایس سی انتظامیہ کو آگاہ کیا گیا ۔
تاہم کے ای ایس سی انتظامیہ کسی صورت بات سننے کو تیار نہیں، انفرادی طور پر کے ای ایس سی کو واجبات ادا کر دیے گیے ہیں اس کے باوجود کے ای ایس سی بجلی بحال نہیں کر رہی انھوں نے بتایا کہ عیدالاضحی پر جہاں پورے شہر میں بجلی آ رہی تھی وہیں نصرت بھٹو کالونی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں عوام دشمن سوچ کے باعث بجلی کی فراہمی معطل تھی اور عید الاضحی کے تینوں روز انھیں بغیر بجلی کے گزارنے پڑے جس کے باعث علاقہ مکینوں کو گھروں پر تالہ لگا کر قریبی رشتے داروں کے گھر منتقل ہونا پڑا جبکہ بعض علاقہ مکینوں نے اپنے رشتہ داروں کو گھر آنے سے روک دیا، انھوں نے بتایا کہ طویل بجلی کی عدم فراہمی کے باعث پانی کی بھی قلت بھی پیدا ہو گئی اور شہری مساجد سے پانی بھر کے گھر لانے پر مجبور ہیں۔
تاہم ان کی کہیں کوئی شنوائی نہیں ہو رہی اور اسی وجہ سے بلاآخر انھوں نے پر امن احتجاج کا راستہ اختیار کیا، احتجاج اور دھرنے کے باعث نارتھ ناظم آباد قلندریہ چوک اور اس کے اطراف کے علاقوں میں شدید ٹریفک جام ہو گیا اور سڑکوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں جس کے باعث بڑی تعداد میں شہری اپنی گاڑیوں میں محصور ہو کر رہ گئے،3 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے احتجاج کے باعث متعدد گاڑیوں میں ایندھن ختم ہو گیا جس کی وجہ سے شہری اپنی گاڑیوں کو دھکا لگاتے دکھائی دیے۔
جبکہ شام میں دفاتر سے واپس گھر آنے والے لوگوں کو بھی شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، ڈی ایس پی شاہد عباس سے نے بتایا کہ کے ای ایس سی حکام کا کہنا ہے کہ نصرت بھٹو کالونی میں نصب کے ای ایس سی کی پی ایم ٹی پر40 لاکھ روپے کے واجبات ہیں جبکہ احتجاج کرنے والے بیشتر مکین وہ ہیں جنھوں نے انفرادی طور پر اپنے گھروں کے ای ایس سی کے بل ادا کر دیے ہیں ،احتجاجی مظاہرین کا کہنا ہے جب ان لوگوں نے بل ادا کر دیے ہیں تو ان کی بجلی بحال کی جائے کے ای ایس سی انتظامیہ کسی بھی صورت میں بجلی بحال کرنے کو تیار نہیں، بعدازاں پولیس نے مظاہرین سے مذاکرات کر کے احتجاج ختم کرادیا ، ایس ایچ او شاہراہ نور جہاں طارق محمود نے بتایا کہ پیر کو ڈی سی سینٹرل آفس میں علاقے کے بزرگوں اور کے ای ایس سی انتظامیہ کے درمیان مذاکرات طے ہوئے ہیں جس میں مسئلہ کا حل تلاش کیا جائے گا۔