ڈرون حملے بند ہونے چاہئیں نواز شریف
صدراوباما سے ملاقات میں امریکی ڈرون حملوں کا معاملہ اٹھاؤں گا،تجارت اور افغانستان سمیت خطے کی سلامتی پر بھی گفتگو ہوگی
جمہوریت پاکستان کی قوت ہے،بھتہ اور قبضہ مافیاکیخلاف خصوصی عدالتیں بنانے پرغورکر رہے ہیں،لندن اوراسلام آبادمیں گفتگو ۔ فوٹو : آن لائن
وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ ڈرون حملوں کا معاملہ اٹھائیں گے۔
انھیں بند ہونا چاہیے، یہ پاکستان کی خودمختاری کے لیے چیلنج ہیں، صدر اوباما سے ملاقات میں امریکی ڈرون حملوں کا معاملہ اٹھاؤنگا، جمہوریت پاکستان کی قوت ہے اور پاکستان کے تمام ادارے ملکی وقار کے تحفظ اور ریاستی مفاد میں حکومت کے ساتھ ہیں، امریکا سے دو طرفہ امور، باہمی تجارت اور افغانستان سمیت خطے کی سلامتی پر تبادلہ خیال ہوگا۔ دورہ امریکا پر جاتے ہوئے لندن میں مختصر قیام کے دوران میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ڈرون حملوں سے پاکستانی عوام میں امریکا کے خلاف سخت ردعمل پیدا ہوتا ہے اس لیے یہ حملے فوری بند ہونے چاہیں۔
پاکستان نے اپنے تحفظات سلامتی کونسل میں پیش کیے ہیں۔ پاکستان امن کے لیے افغانستان کی مددکر رہا ہے۔ وہاں کسی ایک گروپ کی حمایت نہیں کر رہے۔ تمام سیاسی جماعتیں طالبان سے مذاکرات پرمتفق ہیں۔ کوشش کررہے ہیں توانائی بحران پر قابو پا لیا جائے۔ قوم کو بتایا ہے کہ یہ بحران اسی دورحکومت میں ختم ہو جائے گا۔ بھتہ مافیا اور قبضہ گروپوں کیخلاف خصوصی عدالتوں کے قیام پر غورکر رہے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے لندن میں اسپتال جاکر وزیرخزانہ اسحق ڈار کی اہلیہ کی عیادت کی۔انھیں گلدستہ پیش کیا اس موقع پرخاتون اول بیگم کلثوم نواز بھی ان کے ہمراہ تھیں ۔
بعد ازاں وزیراعظم لندن میں مختصر قیام کے بعد چار روزہ دورے پر امریکا روانہ ہوگئے۔ قبل ازیں روانگی سے پہلے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان امریکا سے بہترتعلقات کا خواہاں ہے۔این این آئی کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ دورے کے دوران باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر بات چیت ہو گی،وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد ان کا امریکا کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے۔
ادھر دفترخارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف بدھ کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر باراک حسین اوباما سے ہونے والی ملاقات میں ڈرون حملوں پر اپنے تحفظات سمیت افغانستان کے حالات باہمی دلچسپی کے تمام معاملات پرتبادلہ خیال کریں گے۔ ترجمان کے مطابق نواز شریف اپنے دورہ کے دوران امریکی نائب صدر جوبائیڈن ، وزیرخارجہ جان کیری اور کانگریس کے اہم ارکان سے بھی ملاقاتیں کریں گے جس میں دو طرفہ دلچسپی کے معاملات پر بات چیت کی جائے گی۔ وزیراعظم پاکستان امریکا بزنس کونسل کے زیر اہتمام ایک تقریب میں شرکت کریں گے اور یوایس انسٹی ٹیوٹ آف بیس سے خطاب کریں گے۔ وہ پاکستانی برادری سے ملاقات کریں گے۔
انھیں بند ہونا چاہیے، یہ پاکستان کی خودمختاری کے لیے چیلنج ہیں، صدر اوباما سے ملاقات میں امریکی ڈرون حملوں کا معاملہ اٹھاؤنگا، جمہوریت پاکستان کی قوت ہے اور پاکستان کے تمام ادارے ملکی وقار کے تحفظ اور ریاستی مفاد میں حکومت کے ساتھ ہیں، امریکا سے دو طرفہ امور، باہمی تجارت اور افغانستان سمیت خطے کی سلامتی پر تبادلہ خیال ہوگا۔ دورہ امریکا پر جاتے ہوئے لندن میں مختصر قیام کے دوران میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ڈرون حملوں سے پاکستانی عوام میں امریکا کے خلاف سخت ردعمل پیدا ہوتا ہے اس لیے یہ حملے فوری بند ہونے چاہیں۔
پاکستان نے اپنے تحفظات سلامتی کونسل میں پیش کیے ہیں۔ پاکستان امن کے لیے افغانستان کی مددکر رہا ہے۔ وہاں کسی ایک گروپ کی حمایت نہیں کر رہے۔ تمام سیاسی جماعتیں طالبان سے مذاکرات پرمتفق ہیں۔ کوشش کررہے ہیں توانائی بحران پر قابو پا لیا جائے۔ قوم کو بتایا ہے کہ یہ بحران اسی دورحکومت میں ختم ہو جائے گا۔ بھتہ مافیا اور قبضہ گروپوں کیخلاف خصوصی عدالتوں کے قیام پر غورکر رہے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے لندن میں اسپتال جاکر وزیرخزانہ اسحق ڈار کی اہلیہ کی عیادت کی۔انھیں گلدستہ پیش کیا اس موقع پرخاتون اول بیگم کلثوم نواز بھی ان کے ہمراہ تھیں ۔
بعد ازاں وزیراعظم لندن میں مختصر قیام کے بعد چار روزہ دورے پر امریکا روانہ ہوگئے۔ قبل ازیں روانگی سے پہلے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان امریکا سے بہترتعلقات کا خواہاں ہے۔این این آئی کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ دورے کے دوران باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر بات چیت ہو گی،وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد ان کا امریکا کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے۔
ادھر دفترخارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف بدھ کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر باراک حسین اوباما سے ہونے والی ملاقات میں ڈرون حملوں پر اپنے تحفظات سمیت افغانستان کے حالات باہمی دلچسپی کے تمام معاملات پرتبادلہ خیال کریں گے۔ ترجمان کے مطابق نواز شریف اپنے دورہ کے دوران امریکی نائب صدر جوبائیڈن ، وزیرخارجہ جان کیری اور کانگریس کے اہم ارکان سے بھی ملاقاتیں کریں گے جس میں دو طرفہ دلچسپی کے معاملات پر بات چیت کی جائے گی۔ وزیراعظم پاکستان امریکا بزنس کونسل کے زیر اہتمام ایک تقریب میں شرکت کریں گے اور یوایس انسٹی ٹیوٹ آف بیس سے خطاب کریں گے۔ وہ پاکستانی برادری سے ملاقات کریں گے۔