جونیئرکرکٹرزگرکرسنبھلنے کا ہنربھول گئے

انڈر 19 ورلڈ کپ میں رسوائی کا آنکھوں دیکھا حال

انڈر 19 ورلڈ کپ میں رسوائی کا آنکھوں دیکھا حال. فوٹو : ایکسپریس

انسان ہر بار جو سوچتا ہے ویسا نہیں ہوتا، کبھی اسے ایسی چیز مل جاتی ہے جس کے حصول کی کوئی امید نہیں ہوتی اور بعض اوقات جسے پانے کا 100فیصد یقین ہو وہ نہیں مل پاتا، کچھ ایسا ہی قومی انڈر 19 ٹیم کے ساتھ ورلڈکپ میں ہوا، ایونٹ سے قبل جس سائیڈ کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ ٹرافی لے کر وطن واپس آئے گی وہ تاریخ کی بدترین آٹھویں پوزیشن پر رہی، پلیئرز کی صلاحیتوں پر کسی کو شک نہیں ہو سکتا مگر ذہنی پختگی اور جسمانی فٹنس کے معاملے میں وہ دیگر دنیا سے کافی پیچھے ہیں، اسی وجہ سے بھارت کیخلاف شکست کے بعد ایسے گرے کہ دوبارہ قدموں پر کھڑے نہ ہو سکے، وہ سرزمین جہاں 1992 میں پاکستان کی سینئر ٹیم نے عمران خان کی زیرقیادت ورلڈکپ جیتا تھا ، وہاں 1992ء کے بعد پیدا ہونے والے کرکٹرز نے ملکی وقار خاک میں ملا دیا۔

صحافتی کیریئر میں کئی ٹورز کرنے کا موقع مل چکا، اس بار جب ادارے نے انڈر 19 ورلڈکپ کی کوریج کیلئے نامزد کیا تو اس امید کے ساتھ جہاز پر سوار ہوا کہ جس طرح 2007ء کے دورئہ انگلینڈ میں محمد عامر، احمد شہزاد اور جنید خان اُبھر کر سامنے آئے، اس بار بھی مستقبل کے کئی اسٹارز کے کیریئر کا آغاز دیکھ سکوں گا، جو لوگ آسٹریلیا جا چکے انھیں علم ہو گا کہ یہ دنیا کے دوسرے کونے میں واقع ہے، مجھے تیسری بار وہاں جانے کا موقع ملا مگر زندگی میں پہلی بار عید الفطر گھر سے دور منائی،کراچی سے پہلے دبئی، پھر وہاں سے سنگاپور اور اس کے بعد برسبین پہنچے، کئی گھنٹے ایئرپورٹ پر ہی قیام کے بعد ٹائونز ویل روانہ ہوئے،

جب ایونٹ کے میزبان شہر میں ڈیرے ڈالے تو جس تاریخ کو پاکستان سے سفر شروع کیا اس میں 2 روز کا اضافہ ہو چکا تھا، سینئر صحافی عبدالماجد بھٹی بھی میرے ساتھ تھے، جس امید کو لیے آسٹریلیا میں قدم رکھا وہ پہنچتے ہی ٹوٹ گئی، کوارٹر فائنل میں بھارت سے شکست کے بعد پاکستان ٹائٹل کی دوڑ سے باہر ہو گیا، اس کے ساتھ ہی پلیئرز ہمت بھی ہار گئے، افغانستان ، اسکاٹ لینڈ اور نیوزی لینڈ کو باآسانی مات دینے والی ٹیم اس ایک ناکامی کے بعد نفسیاتی طور پر بھی بالکل دب کے رہ گئی، پلیئرز کا خود پر اعتماد ختم ہو گیا، بھارت کیخلاف میچ سے قبل ایونٹ میں پاکستانی بیٹنگ کبھی فلاپ نہیں ہوئی،

مڈل آرڈر بیٹسمینوں کو تو صلاحیتوں کے اظہار کے زیادہ مواقع ہی نہیں مل رہے تھے مگر روایتی حریف کیخلاف صرف 136 رنز پر ہتھیار ڈال دیے، واحد ففٹی کپتان واوپنر بابر اعظم نے بنائی، 4 پلیئرز صفر پر آئوٹ ہوئے،بھارتی ٹیم 3 وکٹ پر 73رنز بنا کر آسان فتح کی جانب گامزن تھی کہ پاکستانی بولرز ٹیم کو میچ میں واپس لے آئے اور53 رنز کے اضافے سے مزید 6 وکٹیں حاصل کرلیں،آخری پیئر کی موجودگی میں بلو شرٹس کو 10 رنز بنانے تھے مگرپاکستان دبائو برقرار نہ رکھ سکا، ناقص فیلڈ پلیسنگ و حکمت عملی سے عاری بولنگ کے سبب ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، وہ ٹیم جو ٹرافی سے کم کا سوچ ہی نہیں رہی تھی اچانک پڑنے والی اس افتاد سے بالکل ڈھیر ہو گئی، پلیئرز ڈریسنگ روم میں زاروقطار رو رہے تھے، بعد میں علم ہوا کہ کئی نے تو مینجمنٹ سے کہہ دیا کہ ہم گھر واپس جانا چاہتے ہیں مگر انھیں سمجھایا گیا کہ ابھی پوزیشن میچز باقی ہیں لہذا ایسا ممکن نہیں ہو گا۔

ہماری کوشش تھی کہ سٹیڈیم کے قریب کسی ہوٹل میں قیام کریں اس میں کامیاب تو ہو گئے مگر وہاں اس جدید دور میں بھی انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں تھی، جب استقبالیہ پر موجود خاتون سے اس بابت پوچھا تو جواب دیا ''یہ کوئی فائیواسٹار ہوٹل نہیں جہاں تمام سہولتیں موجود ہوں'' ۔ البتہ اس ہوٹل کا کرایہ 100ڈالر یومیہ تھا اتنی رقم میں کسی دوسرے شہر میں تمام سہولتوں سے آراستہ ہوٹل باآسانی مل سکتا تھا، ٹائونز ویل ایک چھوٹا مگر خوبصورت شہر ہے، دنیا کے بڑے بڑے لوگوں کے رازفاش کرنے والی ویب سائٹ وکی لیکس کے بانی جولین اسانج یہیں پیدا ہوئے،کرکٹرز جیمز ہوپس اور مچل جانسن کا تعلق بھی اسی شہر سے ہے، برسبین سے 1300کلومیٹر دور اس مقام تک پہنچنے میں ہوائی جہاز سے بھی تقریباً دو گھنٹے لگ جاتے ہیں۔

کوارٹر فائنل ہارنے کے بعد پاکستان کا اگلا امتحان ویسٹ انڈیز سے پانچویں پوزیشن کا پلے آف مقابلہ تھا، میچ کا انعقاد اینڈویور پارک میں کیا گیا جو مین سٹیڈیم ٹونی آئرلینڈ سے تھوڑے فاصلے پر واقع ہے، یہاں جب ڈریسنگ روم کے اوپر واقع اس مقام پر پہنچے جہاں میڈیا کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا تو ساتھ والی ٹیبل پر سابق ویسٹ انڈین پیسر کورٹنی والش کو براجمان پایا، وہ بطور منیجر یہاں آئے تھے،اس موقع پر ایک بات نوٹ کی کہ انھیں اس بات سے زیادہ سروکار نہیں تھا کہ ٹیم کی پرفارمنس کیسی ہے، اوپر کے فلور پر بیٹھے وہ خاموشی سے میچ دیکھ رہے تھے، کھلاڑیوں کے معاملات انھوں نے شائد کوچ پر چھوڑ دیے تھے،میں نے ان سے بات چیت کرنے کا سوچا تو زمانہ طالب علمی کا ایک واقعہ یاد آ گیا، اس وقت سیکیورٹی معاملات بہتر اور سٹیڈیم میں زیادہ سختی نہیں ہوتی تھی، ویسٹ انڈین ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی تھی، میں پریکٹس سیشن کے دوران نیشنل سٹیڈیم گیا، وہاں ایک کونے میں کرٹلی امبروز کو دیکھا جو زمین پر بیٹھے کنکریاں پھینکتے ہوئے گہری سوچ میں گم تھے، میں نے انھیں متوجہ کرنا چاہا تو غصے سے بولے ''گوگو نو آٹوگراف''۔

ویسٹ انڈین پلیئرز کی شہرت اب بھی ایسی ہی ہے، خیر جب والش کے پاس جا کر انھیں بتایا کہ پاکستان سے آئے ہیں اور بات چیت کرنے کی خواہش ہے تو وہ فوراً تیار ہو گئے، ان سے کافی دیر تک ہماری مختلف موضوعات پر بات چیت ہوتی رہی، ان کا تعلق جمیکا سے ہے جہاں کے یوسین بولٹ نے اولمپکس میں زبردست پرفارم کیا تھا، سپرنٹر کا ذکر آتے ہی والش کی آنکھوں میں خاص چمک آ گئی اور تعریفوں کے پل باندھ دیے،ایتھلیٹ کی کرکٹ میں دلچسپی کا بھی ذکر ہوا جس پر والش نے کہا کہ وہ دوڑتا تو بہت تیز مگر اتنی فاسٹ بولنگ نہیں کر سکتا، اس کا کرکٹ کھیلنا شائقین کیلئے دلچسپی کا حامل ہو گا۔

ابھی میچ جاری تھا کہ نیچے دیکھا تو قومی کرکٹرز اینالسٹ عثمان ہاشمی کی امامت میں نماز ظہر ادا کر رہے تھے،اس مقابلے میں بھی بیٹنگ لائن کی ناکامی ٹیم کو لے ڈوبی،183 رنز کے ہدف کا بھی تعاقب نہ کیا جا سکا اور 166پر ہتھیار ڈال دیے، 2004 اور 2006 میں ٹائٹل جیتنے والی سائیڈ اس سے قبل کبھی چوتھے سے کم نمبر پر نہیں آئی مگر اب اسے ساتویں پوزیشن کیلئے بنگلہ دیش سے مقابلہ کرنا تھا، ٹیم منیجر ہارون رشید اور کوچ صبیح اظہر بھی اس صورتحال سے ناخوش دکھائی دیئے، دونوں اس بات سے متفق تھے کہ بھارت کیخلاف ناکامی کے بعد پلیئرزنفسیاتی طور پر بکھر کر رہ گئے، کھیل پر ان کا انہماک برقرار رکھنے میں خاصی مشکل پیش آرہی ہے،ہارون رشید طویل عرصہ یو بی ایل میں رہے، سابق کپتان انضمام الحق کا تعلق بھی اسی ادارے سے تھا،انڈر 19 ٹیم میں ان کے بھانجے امام الحق بھی موجود تھے، ہارون نے بتایا کہ سابق قائد نے ایک بار بھی اپنے رشتہ دار کی سفارش نہیں کی جو پاکستان جیسے ملک میں سراہے جانے کے قابل بات ہے۔

میچ کے بعد جب ہوٹل واپسی ہوئی تو کچھ دیر بعد باہر جانے کا فیصلہ کیا، اس وقت حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب کراچی میں ہڑتال کے دن جیسا ماحول پایا، سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد خاصی کم اور تمام دکانیں بند نظر آئیں، کافی دور جا کر چند ریسٹورنٹس دکھائی دیے جو کھلے تھے جہاں سے پانی کی بوتل خرید کرواپسی کی راہ لی، ہوٹل کے ٹیلی ویژن پر چند بورنگ چینلز ہی موجود تھے، وہاں ہمارے ملک کی طرح نہیں کہ کیبل والے کو 100روپے ماہانہ دے کر 200چینلز دیکھیں ، بھاری فیس کی وجہ سے ہر کوئی چند مخصوص چینلز ہی لگاتا ہے، آسٹریلیا کے بڑے شہروں کے برخلاف ٹائونز ویل میں حلال کھانوں کا بڑا مسئلہ ہے، ماضی میں سڈنی اور میلبورن میں رہنے کا تجربہ ہو چکا، وہاں پاکستانی اور عربی کھانوں کے کئی ریسٹورنٹس موجود ہیں،


انٹرنیٹ پر سرچ کرنے سے علم ہوا کہ یہاں صرف ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ ہی حلال کھانے مہیا کرتا ہے،البتہ بعض بھارتی ریسٹورنٹس نے بھی دعویٰ کیا کہ ان کا کھانا حلال ہے، انہی میں سے ایک میں ہم نے بھوک مٹائی مگر اپنے وطن جیسا ذائقہ نام کو نہیں تھا، قومی ٹیم تو اپنے اپارٹمنٹس میں خود ہی کھانے پکا کر کھا رہی تھی، ایک آفیشل کوکنگ میں خاصے ماہر تھے۔ اسی دوران انٹرنیٹ کا مسئلہ بھی حل ہو گیا، موبائل فون سے لیپ ٹاپ کنکٹ کر کے برائوزنگ ممکن ہوگئی البتہ اس میں خرچ زیادہ تھا۔

ٹائونز ویل میں ٹیکسیوں میں سفر کے دوران بیشتر ادھیڑ عمر خواتین ڈرائیوز نظر آئیں، ساتھی صحافی نے ان میں سے دو سے پوچھا تو علم ہوا کہ دونوں ہی طلاق یافتہ تھیں ، ہمارے ملک کی خواتین جس عمر میں پوتے، پوتیوں کے ساتھ کھیلتی ہیں وہاں باعزت انداز میں رزق کی تلاش میں مگن نظر آئیں،اس میں ان کی فٹنس کا بھی بڑا عمل و دخل ہے، اسی طرح ایک مرد ٹیکسی ڈرائیورکو جب علم ہوا کہ ہم پاکستان سے آئے ہیں تو اس نے پوچھا اچھا یہ بتائیں عمران خان زندہ ہے، اسے جواب دیا کہ بالکل اب تو وہ سیاست میں آ گئے ہیں، اس پر ڈرائیور نے کہا تب ہی تو پوچھ رہا ہوں، اس سے اندازہ ہوا کہ پاکستانی سیاست کے بارے میں غیرملکیوں کی کیا رائے ہے۔

ایونٹ میں شائقین کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر دکھائی دی، صرف بھارت کے میچز بھی ہی دور دراز کے علاقوں سے لوگ سٹیڈیمز آتے تھے، ویسے بھی بھارتی ہر جگہ مل جاتے ہیں،ایک میچ کے دوران کسی نے دلچسپ تبصرہ کیا کہ وہ سامنے پہاڑ دیکھ رہے ہو وہاں چلے جائو اگر تین لوگ ملیں تو ان میں سے ایک ضرور انڈین ہو گا۔ آسٹریلیا میں مقیم پاکستانیوں نے شاید یہ سوچا ہو کہ ٹیم سیمی فائنل میں پہنچے تو یہاں آئیں مگر انھیں اتنی رقم خرچ کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئی۔

اگلے روز ٹونی آئرلینڈ سٹیڈیم پر بھارت کا نیوزی لینڈ سے سیمی فائنل تھا، یہ میچ چونکہ ٹیلی کاسٹ ہو رہا تھا اس لیے رنگ ڈھنگ ہی الگ تھے، میڈیا کیلئے سہولتیں بھی مناسب نظر آئیں، کسی بڑے میچ کی طرح ڈریسنگ روم کے باہر سکیورٹی اہلکار تعینات اور صرف مجاز افراد کو ہی جانے کی اجازت دے رہا تھا، دیوار پر ایسے لوگوں کی تصاویر بھی چسپاں تھیں، موبائل فون کے استعمال پر پابندی کا بھی بورڈ لگایا گیا تھا، وسیم اکرم کمنٹری کرنے یہاں آئے ہوئے تھے، میں نے انھیں ٹیکسٹ میسج کر کے اپنی موجودگی کا بتایا تو انھوں نے گرائونڈ کی بائیں جانب موجود ایک کنٹینر کے پاس آنے کا کہا، وہاں جا کر علم ہوا کہ وہ عارضی طور پر قائم کمنٹری باکس ہے، وہیں سابق جنوبی افریقی اسپنر پیٹ سمکوکس بھی سگریٹ کے کش لگاتے دکھائی دیے، وسیم اکرم سے ہم دونوں صحافیوں کی کافی دیر تک گفتگو ہوتی رہی، کولکتہ نائٹ رائیڈز کی بات ہوئی انھوں نے بتایا کہ شاہ رخ خان ایک بہترین ٹیم اونر ہے،مجھے ہمیشہ وسیم بھائی کہہ کر پکارتا ہے،میں نے اس سے کہا تھا کہ تم مجھے بھائی کہتے ہو میں تم سے دو سال چھوٹا ہی ہوں گا تو جواب دیا کہ ایسا احتراماً کہتا ہوں،

انھوں نے بتایا کہ شاہ رخ میچ کے دوران جب کبھی اسٹیڈیم آئیں تو خاموشی سے ایک سائیڈ پر بیٹھے رہتے ہیں کرکٹنگ معاملات میں دخل نہیں دیتے، البتہ جب پلیئرز فیلڈ میں جائیں تو عربی میں دعا نصرمن اﷲ و فتح قریب ضرور پڑھواتے ہیں، انھوں نے گوروں کو بھی یہ دعا سکھا دی ہے، وسیم اکرم سے جب پوچھا کہ وہ بولنگ کوچ تھے پھر ٹیم کے جشن فتح میں کیوں شریک نہ ہوئے تو انھوں نے جواب دیا کہ کوچ کا کام صرف سکھانا ہے، ٹیم جیت جائے تو اس کے بعد جشن منانے کا حق صرف کھلاڑیوں کو ہی حاصل ہے، وسیم اکرم سے گفتگو کی دیگر تفصیلات ''ایکسپریس'' میں شائع بھی ہو چکیں،انھوں نے ایک روز انڈر 19 کرکٹرز کے ساتھ بھی کچھ وقت گذارا اور مستقبل میں بھی ملکی بولرز کی رہنمائی کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستان کا اگلا مقابلہ ساتویں پوزیشن کیلئے بنگلہ دیش کے ساتھ اینڈویور پارک گرائونڈ نمبر2میں تھا، مین اسٹیڈیم میں پانچویں پوزیشن کے میچ میں انگلینڈ اور ویسٹ انڈین مدمقابل تھے، یہاں میڈیا کیلئے کوئی سہولت موجود نہیں تھی، دونوں گرائونڈز ساتھ ساتھ واقع تھے، بائونڈری لائنز کے درمیان موجود تھوڑی سی جگہ پر ایک ٹیبل اور چند کرسیاں رکھ کر میڈیا لکھ دیا گیا تھا، وہاں بنگلہ دیش کے چند مداح بھی موجود رہے جو ٹیم کے عمدہ کھیل پر جذبات کا اظہار کرتے رہے، بعد میں سیکیورٹی گارڈ نے انھیں دوسری طرف جانے کا حکم دیا، یہ کوئی مذاق نہیں بالکل سنجیدہ بات ہے کہ ایک ٹکٹ میں دو مزے کے مصداق کرسی کا رخ ایک طرف کر کے پاک بنگلہ دیش جبکہ دوسری جانب انگلینڈ ویسٹ انڈیز کا میچ دیکھا جا سکتا تھا،ایسے میں اپنا ملک یاد آیا جہاں جب یہ گورے آتے تو بہترین سہولتیں پانے کے باوجود بات بات پر مین میخ نکالتے تھے، خیر پاکستانی ٹیم یہ میچ بھی ہار گئی، کئی بار ایسا بھی ہوا جب چھکا یا چوکا لگنے کے بعدکیریبئن پلیئرز اپنے گرائونڈ میں گیند گرنے پر کھیل روک کر اسے برابر والے میدان میں پھینکتے۔

پاکستانی ٹیم بنگلہ دیش سے ساتویں پوزیشن کا میچ بھی ہار گئی،یہ 9 سال میں اس کی ناقص ترین پرفارمنس بنی، ٹیم منیجر ہارون رشید نے اس پر قوم سے معافی بھی مانگی، ٹیم کی کارکردگی پر سب سے زیادہ دلبرداشتہ کوچ صبیح اظہر دکھائی دیے، سن گلاسز پہننے کے باوجود وہ اپنے آنسو چھپا نہیں پا رہے تھے۔ تیسری پوزیشن کے میچ میں جنوبی افریقہ نے نیوزی لینڈ پر ہاتھ صاف کیا، اب فائنل معرکہ آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان تھا، اس میچ کو دیکھنے کے لیے بھارتی شائقین دور دراز کے شہروں سے بھی ٹائونز ویل آئے تھے، انھوں نے وہاں اپنے ملک جیسا ماحول بنا دیا، ٹیم میچ جیتی تو کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی،سینئر بھارتی ٹیم نے ورلڈکپ جیتنے کے بعد ایک دوسرے پر شیمپئن پھینکی تھی جونیئرز کو وہ نہ ملی تو کولڈ ڈرنکس سے ہی کام چلایا،بعدازاں واپسی کے دوران جہاز میں بھی بھارتی کرکٹرز ساتھ ہی تھے،

اس سے قبل برسبین ایئرپورٹ پر وہ یا تو مسلسل موبائل فون پر باتیں کرتے یا گانے سنتے رہے، کئی کرکٹرز ایک دوسرے سے یہ بھی پوچھتے رہے کتنی انعامی رقم کا اعلان ہوا ہے، کون کتنے پیسے دے گا، ایئرپورٹ پر ہی پاکستانی بولرز بابر اعظم اور ضیا الحق سے بھی ملاقات ہوئی جنھیں جدید ٹیکنالوجی سے ایکشن کی جانچ کیلئے کینبرا بلایا گیا تھا، بابر نے بتایا کہ ہاتھ میں ایک چپ لگا کر تین اوورز بولنگ کرائی گئی، انھوں نے بتایا کہ کامران اکمل ان کے تایازاد بھائی ہیں ، وہ بھی اپنے کزن کی طرح سینئر لیول پر ملک کی نمائندگی کرنا چاہتے ہیں۔ ایئرپورٹ پر ہی ساتھی صحافی ماجد بھٹی کے ایک دوست کی رشتہ دار خاتون ان کیلئے کچھ سامان دینے آئیں، وہ یہاں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں، اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستانی تعلیم کے میدان میں بھی کافی آگے ہیں مگر صرف منفی پہلوئوں کو ہی اُجاگر کیا جاتا ہے۔

برسبین سے دبئی پہنچنے کے بعد پہلا پاک آسٹریلیا میچ کور کرنے شارجہ جانا تھا،شدید گرمی کے دوران کھلے پریس باکس میں بیٹھ کر رپورٹنگ ایک منفرد تجربہ رہی، میچ رات 2 بجے ختم اوراس کے بعد پریس کانفرنس ہوئی، پلیئرز کو بھی صبح سویرے ہی سونے کا موقع ملا، بیٹنگ لائن کی ناکامی کے سبب ٹیم وہ میچ ہار گئی،8 بیٹسمین کھلانے کی پاکستانی حکمت عملی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، شارجہ میں شائقین کا جوش ماضی جیسا ہی دکھائی دیا، یوں آسٹریلیا اور پھر یو اے ای میں بھی ناکامیوں کی ناخوشگوار یادوں کے ساتھ وطن واپسی ہوئی۔
skhaliq@express.com.pk
Load Next Story