پاکستان کے لیے امریکی امداد امید افزا پیش رفت

پاکستان اور امریکا میں باہمی اعتماد بڑھنے کے بعد تعلقات میں مزید بہتری آ رہی ہے جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ امریکا نے...

ایبٹ آباد اپریشن اور سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی حملے کی وجہ سے تعلقات خراب ہونے کے بعد پاکستان کی امداد روک دی گئی تھی۔ فوٹو: فائل

پاکستان اور امریکا میں باہمی اعتماد بڑھنے کے بعد تعلقات میں مزید بہتری آ رہی ہے جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ امریکا نے پاکستان کو ایک ارب60 کروڑ ڈالر کی فوجی اور اقتصادی امداد خاموشی سے جاری کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایک امریکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات اب اس قدر بہتر ہو گئے ہیں کہ پاکستان کی امداد بحال کر دی جائے' خبر کے مطابق کانگریس کی جانب سے امدادی رقم کی منظوری دے دی گئی ہے اور زیادہ تر رقم کلیئر کر دی گئی ہے جو کہ نئے سال کے آغاز میں پاکستان کو موصول ہونا شروع ہو جائے گی تاہم پاکستان کو مکمل امداد ملنے میں کچھ سال لگیں گے۔

پاکستان اور امریکا کے تعلقات اپنے آغاز ہی سے اتار چڑھائو کا شکار رہے ہیں' کبھی یہ تعلقات اس قدر مضبوط ہوئے کہ امریکا نے پاکستان کو بھرپور فوجی اور اقتصادی امداد دی' تعلیم کے شعبے کو ترقی دی اور بہت سے ترقیاتی منصوبے شروع کیے اور کبھی تعلقات اس نہج پر پہنچ گئے کہ ایٹمی دھماکے کے بعد امریکا نے پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں۔ ان تمام معاملات کے باوجود امریکا اور پاکستان دونوں ہی ایک دوسرے کی ضرورت رہے۔ پاکستان نے چین کے ساتھ امریکا کے تعلقات کے قیام میں پل کا کردار ادا کیا جس کے بعد پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط ہوئے۔ دنیا میں کسی بھی دو ممالک کے تعلقات باہمی مفادات پر مبنی ہوتے ہیں جب تک دونوں ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرتے رہیں' تعلقات مضبوط رہتے ہیں اور جب مفادات آپس میں ٹکرائیں تو ان کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پاک امریکا تعلقات بھی عالمی حالات و واقعات کے تناظر میں کئی بار ڈوبے اور کئی بار ابھرے۔

مئی 2011ء میں ایبٹ آباد آپریشن کے بعد پاک امریکا تعلقات کو دھچکا لگا اور پاکستانی سیاست میں ہلچل مچ گئی ۔پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے امریکا کے اس بلا اجازت آپریشن کو پسند نہ کیا ۔ نومبر 2011ء میں سلالہ چیک پوسٹ پر حملے میں 24 پاکستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد ریاستی سطح پر شدید ردعمل ہوا اور پاک امریکا تعلقات متاثر ہوئے۔ پاکستان نے افغانستان جانے والی نیٹو سپلائی کے راستے بند کر دیے اور امریکا سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ شروع میں امریکا نے معافی مانگنے سے صاف انکار کر دیا مگر پاکستان کے اٹل موقف اور نیٹو سپلائی بند ہونے سے پیدا ہونے والے مسائل کے باعث امریکا نے بالآخر 7 ماہ بعد معذرت کی جس کے بعد پاک امریکا تعلقات بحال ہوئے اور پاکستان نے نیٹو سپلائی کے راستے کھول دیے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق امریکا کو اپنی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں استحکام رکھنے کے لیے پاکستان کے تعاون کی اشد ضرورت پڑے گی اس لیے پر امن اور مستحکم پاکستان امریکا کی ضرورت ہے لہٰذا دہشت گردی کے خلاف جنگ کو حتمی نتیجے تک پہنچانے اور قبائلی علاقوں میں دھماکہ خیز مواد بنانے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستان کو معاشی امداد دینا ناگزیر ہے۔


پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر مالی اور جانی قربانیاں دے چکا ہے، اب امریکا نے پاکستان کی فوجی اور اقتصادی امداد بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ امداد کسی ایک واقعے کی وجہ سے بحال نہیں کی گئی بلکہ یہ وسیع تعاون پر مبنی ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ امریکا پاکستان کو علی الاعلان امداد دینے کے بجائے خاموشی سے کیوں دے رہا ہے۔ اخباری خبروں کے مطابق امریکا یہ نمایاں نہیں کرنا چاہتا کہ وہ ایک کرپشن میں دھنسی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متزلزل سمجھی جانے والی حکومت کو اربوں ڈالر فراہم کر رہا ہے اور پاکستان بھی یہ تاثر نہیں دینا چاہتا کہ وہ صرف امریکا پر انحصار کرنے والا ملک ہے۔ امریکا افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کے تعاون کے بغیر نہیں جیت سکتا اور پاکستان کو بھی قبائلی علاقوں میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے امداد اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔ جنوبی ایشیا کے معاملات میں پاکستان اور امریکا دونوں ایک دوسرے کی ضرورت ہیں۔

جب پاک امریکا تعلقات ایک بار پھر مضبوط ہو رہے ہیں تو اس حوالے سے کوئی میکنزم طے ہونا چاہیے کہ یہ تعلقات اتار چڑھائو کا شکار ہونے کے بجائے ہموار انداز میں تسلسل سے چلتے رہیں۔ امریکا سے ملنے والی یہ امداد تینوں افواج کے لیے جدید سازو سامان' ایف 16 طیاروں' میری ٹائم سیکیورٹی' توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر سمیت نئے ڈیموں اور تعلیم کے شعبوں کے لیے مختص کی گئی ہے۔ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے کانگریس کو بتایا کہ پاکستان کو 2011ء اور 2012ء میں کوئی خاص فوجی امداد فراہم نہیں کی گئی' اب افغانستان سے انخلا کے بعد پاکستان کی انسداد دہشت گردی صلاحیت بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستان کی انسداد دہشت گردی صلاحیت میں اضافہ نہیں کیا جاتا تو دہشت گرد گروہ جو اس وقت انتہائی منظم اور جدید ہتھیاروں سے لیس ہیں نہ صرف پاکستان بلکہ افغان حکومت کے لیے بھی مسلسل خطرہ رہیں گے۔ اگرچہ امریکی حکام افغان آرمی تشکیل دے چکے ہیں لیکن اس بات کا خدشہ بھی موجود ہے کہ افغان آرمی میں بھی طالبان کے کچھ ہمدرد موجود ہو سکتے ہیں جو درپردہ طالبان کی مدد کر کے افغان حکومت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

اس لیے یہ ضروری ہو گیا تھا کہ امریکا ہر صورت پاکستان کے استحکام کے لیے اس کی مدد کرے۔ پاکستان بھی امریکا کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ اب وزیراعظم نواز شریف امریکا پہنچ چکے ہیں ان کے اس دورے سے پاک امریکا تعلقات میں بہتری ضرور آئے گی مگر مشیر خارجہ امور سرتاج عزیز کا یہ کہنا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف کے دورہ امریکا سے کسی بڑے بریک تھرو کی توقع نہیں۔ امریکی امداد اس امر کا بھی اشارہ ہے کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ اور اس خطے میں امن چاہتا ہے۔ اس امداد کے ملنے کے بعد پاکستان پر یہ دبائو بھی بڑھ سکتا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف بھرپور آپریشن کرے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ دہشت گردی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ ہے جس کا خاتمہ ہر صورت ہونا چاہیے۔ پاک امریکا تعلقات میں اعتماد سازی کا عمل یقینی بنانا ہر دو ممالک کے مفاد میں ہے۔ شکوک و شبہات پر مبنی معاملات کے خاتمے کے لیے اقدامات اٹھانا ضروری ہو چکا ہے۔
Load Next Story