رفاہی پلاٹس کا کمرشل استعمال تحقیقات شروع متعدد شخصیات کی گرفتاری کا امکان
مختلف سوسائٹیز کی کمرشل اراضی کوجعلی طریقے سے صرف کاغذوں میں نیلامی دکھا ئی گئی
مختلف سوسائٹیز کی کمرشل اراضی کوجعلی طریقے سے صرف کاغذوں میں نیلامی دکھا ئی گئی،در حقیقت مختلف بلڈرز سے کروڑوں روپے لیکر کم قیمت پر زمین فروخت کردی گئی۔ فوٹو: فائل
رفا ہی پلاٹس کو کمرشل مقاصد کیلیے استعمال کرنے کے معاملات کی تحقیقات شروع کردی گئی اورمتعدد شخصیات کی گرفتاریوںکا امکان ہے، ذرائع کے مطابق کو آپریٹو سوسائٹیوں میںغریبوں، یتیموں ،بیوائوں اور سادہ لوح افراد کے پلاٹس کو جعلی کاغذات اور سرکاری ایڈمنسٹریٹرز کے ذریعے ہڑپ کرنے کے علاوہ رفاہی پلاٹس کوکمرشل مقاصد کیلیے استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے جس پر قومی احتساب بیورو نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا اور 156کوآپریٹو سوسائٹیز کے معاملات کی تحقیقات جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق دوران تحقیقات معلوم ہوا ہے کہ مختلف کو آپریٹو سوسائٹیز کی انتظامیہ نے کو آپریٹو ڈپارٹمنٹ کے اعلیٰ حکام کی ملی بھگت سے رفاہی پلاٹس کوکمرشل مقاصد کیلیے استعمال کرنے کی این اوسی حاصل کی اور اسکول ، اسپتال ، پارک ، ہیلتھ کلب ، وومن سینٹرز اور دیگر رفاہی پلاٹس پر بلڈنگز ، پیٹرول پمپس ،ہوٹلز اور دیگر تعمیرات قائم کرلی جبکہ مبینہ طور پر رشوت نہ دینے والی کو آپریٹو سوسائٹیزکوسرکاری تحویل میں دے کر من پسند ایڈمنسٹریٹرز تعینات کرنے کے فوری بعد پرانی تاریخوں میں بیوائوں ، یتیموں اورغریبوں کے پلاٹس بھی جعلی کاغذات کے ذریعے ہتھیا لیے گئے ہیں ۔
دوران تحقیقات اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ مختلف کو آپریٹو سوسائٹیز کی کمرشل اراضی کو جعلی طریقے سے صرف کاغذوں میں نیلامی دکھائی گئی جبکہ در حقیقت مختلف بلڈرز سے کروڑوں روپے لے کر انتہائی کم قیمت پر زمین فروخت کردی گئی، دوران تحقیقات اس بات کا بھی علم ہوا ہے کہ کو آپریٹو سوسائٹیز کے با اثر افسران کے دباؤ پر اینٹی کرپشن پولیس بھی مختلف سوسائٹیوں کو بلیک میل کرکے بھاری رشوت وصول کرنے میں ملوث رہی ہے اور دو درجن سے زائد کو آپریٹو سوسائٹیوں کا ریکارڈ تحویل میں لے کر مختلف افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔
بعدازاں محکمہ کو آپریٹو کے اعلیٰ حکام سے ساز باز کے نتیجے میں تمام مقدمات یا تو زیر التوا کردیے گئے یا پھر مقدمات ختم کردیے گئے، ذرائع کے مطابق کو آپریٹو سوسائٹیز کے اعلیٰ حکام ماہانہ مختلف سوسائٹیوں سے آڈٹ کے نام پرلاکھوں روپے بھی وصول کرتے ہیں جبکہ اپنے رشتے داروں اور ملازموںکے نام پر رفاہی ، رہائشی اور کمرشل پلاٹس بھی حاصل کر رکھے ہیں اورکو آپریٹوسوسائٹیز سے حاصل ہونے والی اربوں روپے کی رقم بیرون ممالک میں مختلف کاروبار میں انویسٹ کی گئی۔
ذرائع کے مطابق گذشتہ چار سال میں سرکاری تحویل میں لی جانے والی تمام سوسائٹیوں کا ریکارڈ حاصل کرلیا گیا ہے جس کی مکمل تحقیقات کے بعد بڑے پیمانے پر افسران کی گرفتاریوں کا بھی امکان ہے،یاد رہے کہ سرکاری اراضی کوڑیوں کے مول کو آپریٹو سوسائٹیز کو الاٹ کی گئی تھی تاکہ غریبوںکوگھر بنانے کیلیے انتہا ئی سستے دام یعنی 125روپے کی فیس ادا کرنے پر چھوٹے پلاٹ الاٹ کیے جائیں لیکن ایک با ا ثر اور منظم مافیا نے حکومت کے اس مقصد کو ناکام بنا دیا اور غریب اپنے حق سے محروم رہے۔
ذرائع کے مطابق دوران تحقیقات معلوم ہوا ہے کہ مختلف کو آپریٹو سوسائٹیز کی انتظامیہ نے کو آپریٹو ڈپارٹمنٹ کے اعلیٰ حکام کی ملی بھگت سے رفاہی پلاٹس کوکمرشل مقاصد کیلیے استعمال کرنے کی این اوسی حاصل کی اور اسکول ، اسپتال ، پارک ، ہیلتھ کلب ، وومن سینٹرز اور دیگر رفاہی پلاٹس پر بلڈنگز ، پیٹرول پمپس ،ہوٹلز اور دیگر تعمیرات قائم کرلی جبکہ مبینہ طور پر رشوت نہ دینے والی کو آپریٹو سوسائٹیزکوسرکاری تحویل میں دے کر من پسند ایڈمنسٹریٹرز تعینات کرنے کے فوری بعد پرانی تاریخوں میں بیوائوں ، یتیموں اورغریبوں کے پلاٹس بھی جعلی کاغذات کے ذریعے ہتھیا لیے گئے ہیں ۔
دوران تحقیقات اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ مختلف کو آپریٹو سوسائٹیز کی کمرشل اراضی کو جعلی طریقے سے صرف کاغذوں میں نیلامی دکھائی گئی جبکہ در حقیقت مختلف بلڈرز سے کروڑوں روپے لے کر انتہائی کم قیمت پر زمین فروخت کردی گئی، دوران تحقیقات اس بات کا بھی علم ہوا ہے کہ کو آپریٹو سوسائٹیز کے با اثر افسران کے دباؤ پر اینٹی کرپشن پولیس بھی مختلف سوسائٹیوں کو بلیک میل کرکے بھاری رشوت وصول کرنے میں ملوث رہی ہے اور دو درجن سے زائد کو آپریٹو سوسائٹیوں کا ریکارڈ تحویل میں لے کر مختلف افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔
بعدازاں محکمہ کو آپریٹو کے اعلیٰ حکام سے ساز باز کے نتیجے میں تمام مقدمات یا تو زیر التوا کردیے گئے یا پھر مقدمات ختم کردیے گئے، ذرائع کے مطابق کو آپریٹو سوسائٹیز کے اعلیٰ حکام ماہانہ مختلف سوسائٹیوں سے آڈٹ کے نام پرلاکھوں روپے بھی وصول کرتے ہیں جبکہ اپنے رشتے داروں اور ملازموںکے نام پر رفاہی ، رہائشی اور کمرشل پلاٹس بھی حاصل کر رکھے ہیں اورکو آپریٹوسوسائٹیز سے حاصل ہونے والی اربوں روپے کی رقم بیرون ممالک میں مختلف کاروبار میں انویسٹ کی گئی۔
ذرائع کے مطابق گذشتہ چار سال میں سرکاری تحویل میں لی جانے والی تمام سوسائٹیوں کا ریکارڈ حاصل کرلیا گیا ہے جس کی مکمل تحقیقات کے بعد بڑے پیمانے پر افسران کی گرفتاریوں کا بھی امکان ہے،یاد رہے کہ سرکاری اراضی کوڑیوں کے مول کو آپریٹو سوسائٹیز کو الاٹ کی گئی تھی تاکہ غریبوںکوگھر بنانے کیلیے انتہا ئی سستے دام یعنی 125روپے کی فیس ادا کرنے پر چھوٹے پلاٹ الاٹ کیے جائیں لیکن ایک با ا ثر اور منظم مافیا نے حکومت کے اس مقصد کو ناکام بنا دیا اور غریب اپنے حق سے محروم رہے۔