دھان کی پیدوار بڑھانے کیلیے ٹیکنالوجی میں جدت لانا ہوگی ماہرین

ملک کی اہم غذائی جنس، پوری دنیا میں 60 فیصد کیلوریز اور 75فیصد پروٹین مہیا کرتی ہے

ڈاکٹر نورالاسلام نے بتایا کہ دھان کی موجودہ اقسام کی پیداواری صلاحیت 50سے 100من فی ا یکڑ تک ہے۔ فوٹو: فائل

ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی اور فوڈ سیکورٹی کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں دھان کی پیداوار بڑ ھا نے کیلیے پیداواری ٹیکنالوجی میں جدت لانا ہوگی، یہ بات ایوب زرعی تحقیقاتی ادارے کے سابق سربراہ ڈاکٹر نورالاسلام نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔

انہوں نے کہا کہ دھان ہمارے ملک کی ایک اہم غذائی جنس ہے اور یہ پوری دنیا میں 60فیصد کیلوریز اور 75فیصد پروٹین مہیا کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چاول برآمد کرنے والے ممالک میں پاکستان چوتھے نمبر پر ہے جبکہ رقبے اور پیداوار کے لحاظ سے صو بہ پنجاب کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب پاکستان کی چاول کی کل پیداوا ر کا 58فیصد پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دھان کی موجودہ اقسام کی پیداواری صلاحیت 50سے 100من فی ا یکڑ تک ہے مگرہماری اوسط پیداوار اس سے کم ہے۔




انہوں نے بتایا کہ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی اور فوڈ سیکیورٹی کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں دھان کی پیداوار بڑھانے کیلیے پیداواری ٹیکنالوجی میں جدت لانا ہوگی۔ پیداوار میں کمی لانے والے عناصر پر کڑی نظر رکھنا ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ پیداوار میں کمی لانے والے عناصر میں جڑی بوٹیاںدھان کی پیداوار میں 18سے 39فیصد تک کمی کا باعث بنتی ہیں۔ دھان کی فصل سے ا چھی پیداوار لینے کیلیے پنیری کی منتقلی کے بعد تقریبا 60د ن تک فصل کو جڑی بوٹیوں سے پاک رکھاجائے۔
Load Next Story