غیرملکی خودمختار بانڈز کے اجرا کیلیے فنانشل ایڈوائزر کیلیے درخواستیں طلب
ملکی و غیر ملکی قرضوں کو کنٹرول کرنے اور انکی مانیٹرنگ کیلیے موثر نظام متعارف کروایا جائیگا
سرکلر میں بتایا گیا ہے کہ فنانشل ایڈوائزر کی تعیناتی کیلیے کمپنیوں کی طرف سے بھجوائی جانیوالی درخواستوں کی وضع کردہ معیار کے مطابق سکروٹنی کی جائے گی۔ فوٹو: فائل
وفاقی حکومت نے نیشنل گورننس پلان (این جی پی) کے تحت بین الاقوامی کیپیٹل مارکیٹ میں ڈیڑھ ارب ڈالر کے غیر ملکی خودمختار بانڈز (Foreign sovereign bonds) جاری کرنے کیلیے فنانشل ایڈوائزر کی تعیناتی کی خواہاں اچھی ساکھ کی حامل کمپنیوں سے اظہار دلچسپی کی درخواستیں طلب کرلی ہیں۔
اس ضمن میں وزارت خزانہ کے ایکسٹرنل فنانس ونگ کی طرف سے گزشتہ روز جاری کردہ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی کیپیٹل مارکیٹ میں غیر ملکی خودمختار بانڈز جاری کرنے کیلیے حکومت پاکستان کا فنانشل ایڈوائزر تعیناتی کے خواہشمند گروپ اور کمپنیوں کو تجاویز کی تین کاپیوں کے ہمراہ اظہار دلچسپی کی درخواستیں 22 نومبر2013 تک وزارت خزانہ کو بھجوانا ہونگی۔ وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ سرکلر میں بتایا گیا ہے کہ فنانشل ایڈوائزر کی تعیناتی کیلیے کمپنیوں کی طرف سے بھجوائی جانیوالی درخواستوں کی وضع کردہ معیار کے مطابق سکروٹنی کی جائے گی اور معیار کے تحت مقرر کردہ 100 نمبر میں سے 40 نمبر فارن ساورن بانڈرز کے غیر ملکی کیپٹل مارکیٹ میں اجرا پر کم سے کم اخراجات کے بارے میں اچھی فنانشل ایکسپینڈیچر تجاویز کی مد میں ہونگے جبکہ 40 نمبر ماضی میں ساورن بانڈز جاری کرنے کے تجربہ اور اس قسم کے بانڈز کے اجرا کیلیے لیڈ مینجر،مُشترکہ لیڈ مینجر کے طور پر کام کرنے کی بنیاد پر اور گزشتہ تین سال کیلیے بین الاقوامی بونڈز مارکیٹ کیلیے مقرر کردہ معیار کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی جائزہ کے مطابق رینکنگ کی بنیاد پر دیے جائیں گے جبکہ پانچ نمبر فنانشل ایڈوائزر فرم کی پاکستان میں موجودگی کی بنا پر دیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ پوسٹ ایشو بیک اپ کی نوعیت کی خصوصیات رکھنے پر پانچ نمبر اور پاکستان میں ریسرچ کی نوعیت کی بنا پر پانچ نمبر دیے جائیں گے جبکہ کوپن کے حوالے سے اچھی سفارشات پر پانچ نمبر دیے جائیں گے اور مذکورہ معیار کے مطابق جو کمپنی زیادہ نمبر حاصل کرے گی اسے بین الاقوامی مارکیٹ میں بونڈ جاری کرنے کیلیے فنانشل ایڈوائزر مقرر کیا جائیگا جبکہ اس بارے میں جب وزارت خزانہ کے سینئر افسر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں پچاس سے پچھتہر ارب روپے مالیت کے برابر فارن ساورن بانڈز جاری کیے جائیں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ ملک کی اقتصادی ترقی اورحکومت کے انتظامی امورکو بہتر بنانے کیلیے حکومت نے نیشنل گورننس پلان (این جی پی) تیار کیا ہے جس کے تحت ملکی فنانسنگ کی ضروریات پری کرنے کیلیے اگلے تین سال کے دوران مجموعی طور پر ایک ارب 50 کروڑ ڈالر1500) ملین ڈالر(مالیت کے فارن ساورن بانڈز (Foreign sovereign bonds) جاری کیے جائیں گے۔
وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ وزارت خزانہ کی طرف سے یہ نیشنل گورننس پلان(این جی پی) تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈروں کی باہمی مشاورت کے ساتھ تیار کیا گیا ہے اور اس پلان کی وفاقی کابینہ سے بھی منظوری حاصل کی جائیگی۔ ذرائع نے مزید بتایا گیا ہے کہ ملک پر بڑھتے ہوئے ملکی و غیر ملکی قرضوں کے بوجھ کو بھی کم کیا جائیگا، اس کیلیے بھی جامع حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔ علاوہ ازیں ملکی و غیر ملکی قرضوں کو کنٹرول کرنے اور انکی مانیٹرنگ کیلیے موثر نظام متعارف کروایا جائیگا تاکہ اس کوجی ڈی پی کے 57 فیصد تک لایا جائیگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے اندر اپنے مالی معاملات کو بہتر بنانے اور ملکی سطع پر حاصل کردہ حکومتی قرضوں کو کنٹرول کرنے کیلیے لیگل اینڈ انسٹی ٹیوشنل فریم ورک برائے ڈیٹ مینجمنٹ کو مضبوط اور فعال بنایاجائیگا۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت نے روپی ڈی نومینیٹڈ بانڈز(Rupee deniminated bonds) بھی جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ اقدامات وزارت خزانہ کی فیوچر اسٹریٹجی کا حصہ ہیں جس کے تحت وزارت خزانہ نے یہ پلاننگ کی ہے کہ بجٹ فنانسنگ کیلیے آئندہ تین سال کے دوران مجموعی طورپر ایک ارب پچاس کروڑ ڈالر مالیت کے فارن ساورن بانڈز جاری کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ مقامی سطع پر اپنی ضروریات پوری کرنے کیلیے ملکی کرنسی میں بھی 75 ارب روپے مالیت کے (Rupee deniminated bonds) جاری کیے جائیں گے، تاہم اس بارے لائحہ عمل تیار کیا جائیگا۔
اس ضمن میں وزارت خزانہ کے ایکسٹرنل فنانس ونگ کی طرف سے گزشتہ روز جاری کردہ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی کیپیٹل مارکیٹ میں غیر ملکی خودمختار بانڈز جاری کرنے کیلیے حکومت پاکستان کا فنانشل ایڈوائزر تعیناتی کے خواہشمند گروپ اور کمپنیوں کو تجاویز کی تین کاپیوں کے ہمراہ اظہار دلچسپی کی درخواستیں 22 نومبر2013 تک وزارت خزانہ کو بھجوانا ہونگی۔ وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ سرکلر میں بتایا گیا ہے کہ فنانشل ایڈوائزر کی تعیناتی کیلیے کمپنیوں کی طرف سے بھجوائی جانیوالی درخواستوں کی وضع کردہ معیار کے مطابق سکروٹنی کی جائے گی اور معیار کے تحت مقرر کردہ 100 نمبر میں سے 40 نمبر فارن ساورن بانڈرز کے غیر ملکی کیپٹل مارکیٹ میں اجرا پر کم سے کم اخراجات کے بارے میں اچھی فنانشل ایکسپینڈیچر تجاویز کی مد میں ہونگے جبکہ 40 نمبر ماضی میں ساورن بانڈز جاری کرنے کے تجربہ اور اس قسم کے بانڈز کے اجرا کیلیے لیڈ مینجر،مُشترکہ لیڈ مینجر کے طور پر کام کرنے کی بنیاد پر اور گزشتہ تین سال کیلیے بین الاقوامی بونڈز مارکیٹ کیلیے مقرر کردہ معیار کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی جائزہ کے مطابق رینکنگ کی بنیاد پر دیے جائیں گے جبکہ پانچ نمبر فنانشل ایڈوائزر فرم کی پاکستان میں موجودگی کی بنا پر دیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ پوسٹ ایشو بیک اپ کی نوعیت کی خصوصیات رکھنے پر پانچ نمبر اور پاکستان میں ریسرچ کی نوعیت کی بنا پر پانچ نمبر دیے جائیں گے جبکہ کوپن کے حوالے سے اچھی سفارشات پر پانچ نمبر دیے جائیں گے اور مذکورہ معیار کے مطابق جو کمپنی زیادہ نمبر حاصل کرے گی اسے بین الاقوامی مارکیٹ میں بونڈ جاری کرنے کیلیے فنانشل ایڈوائزر مقرر کیا جائیگا جبکہ اس بارے میں جب وزارت خزانہ کے سینئر افسر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں پچاس سے پچھتہر ارب روپے مالیت کے برابر فارن ساورن بانڈز جاری کیے جائیں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ ملک کی اقتصادی ترقی اورحکومت کے انتظامی امورکو بہتر بنانے کیلیے حکومت نے نیشنل گورننس پلان (این جی پی) تیار کیا ہے جس کے تحت ملکی فنانسنگ کی ضروریات پری کرنے کیلیے اگلے تین سال کے دوران مجموعی طور پر ایک ارب 50 کروڑ ڈالر1500) ملین ڈالر(مالیت کے فارن ساورن بانڈز (Foreign sovereign bonds) جاری کیے جائیں گے۔
وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ وزارت خزانہ کی طرف سے یہ نیشنل گورننس پلان(این جی پی) تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈروں کی باہمی مشاورت کے ساتھ تیار کیا گیا ہے اور اس پلان کی وفاقی کابینہ سے بھی منظوری حاصل کی جائیگی۔ ذرائع نے مزید بتایا گیا ہے کہ ملک پر بڑھتے ہوئے ملکی و غیر ملکی قرضوں کے بوجھ کو بھی کم کیا جائیگا، اس کیلیے بھی جامع حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔ علاوہ ازیں ملکی و غیر ملکی قرضوں کو کنٹرول کرنے اور انکی مانیٹرنگ کیلیے موثر نظام متعارف کروایا جائیگا تاکہ اس کوجی ڈی پی کے 57 فیصد تک لایا جائیگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے اندر اپنے مالی معاملات کو بہتر بنانے اور ملکی سطع پر حاصل کردہ حکومتی قرضوں کو کنٹرول کرنے کیلیے لیگل اینڈ انسٹی ٹیوشنل فریم ورک برائے ڈیٹ مینجمنٹ کو مضبوط اور فعال بنایاجائیگا۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت نے روپی ڈی نومینیٹڈ بانڈز(Rupee deniminated bonds) بھی جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ اقدامات وزارت خزانہ کی فیوچر اسٹریٹجی کا حصہ ہیں جس کے تحت وزارت خزانہ نے یہ پلاننگ کی ہے کہ بجٹ فنانسنگ کیلیے آئندہ تین سال کے دوران مجموعی طورپر ایک ارب پچاس کروڑ ڈالر مالیت کے فارن ساورن بانڈز جاری کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ مقامی سطع پر اپنی ضروریات پوری کرنے کیلیے ملکی کرنسی میں بھی 75 ارب روپے مالیت کے (Rupee deniminated bonds) جاری کیے جائیں گے، تاہم اس بارے لائحہ عمل تیار کیا جائیگا۔