عمر اکمل کو ٹیسٹ الیون کا حصہ بنایا جائے عبدالقادر
زمبابوے کیخلاف 5 شکار کرنے والے راحت علی کا ڈراپ کیا جانا ناقابل فہم ہے
دبئی میچ میں اظہر علی کی جگہ عمرامین کو موقع دیا جانا چاہیے، سابق اسپنر۔ فوٹو: فائل
سابق چیف سلیکٹر عبدالقادر نے عمر اکمل کو ٹیسٹ ٹیم میں بھی شامل کرنے کی حمایت کردی۔
انھوں نے کہا ہے کہ نوجوان بیٹسمین کرکٹ کے تینوں فارمیٹ میں عمدہ پرفارم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،5 روزہ میچز کھیلنے کا بھی موقع دینا چاہیے، اظہر علی زمبابوے کیخلاف سیریز کے بعد یو اے ای میں بھی ناکام رہے، جنوبی افریقہ سے دوسرے 5 روزہ میچ میں ان کی جگہ عمر امین کو کھلانا بہتر ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق عبدالقادر نے ابو ظبی ٹیسٹ میں پاکستان کی کامیابی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے آئندہ بھی کارکردگی کا تسلسل جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ سابق لیگ اسپنر نے کہا ہے کہ جنوبی افریقی بیٹسمین ہاشم آملا کی دوسرے ٹیسٹ میں شرکت کا امکان کم ہی نظر آتا ہے، ان کی عدم موجودگی میں پاکستان کے پاس سیریز جیتنے کا اچھا موقع ہوگا۔ انھوں نے پاکستان کے بولنگ اٹیک کو مشورہ دیا کہ وہ مہمان ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹسمین ابراہم ڈی ویلیئرز کو لائن لینتھ پر گیند کرائیں۔
عبدالقادر نے کہا کہ زمبابوے کے خلاف آخری ٹیسٹ میں 5 وکٹیں حاصل کرنے والے راحت علی کو یو اے ای میں ٹیسٹ سیریز سے ڈراپ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ انھوں نے باصلاحیت عمر اکمل کو تینوں فارمیٹ کے لیے موزوں کھلاڑی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان بیٹسمین کو ٹیسٹ میچز کھیلنے کا بھی موقع دینا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ اظہر علی زمبابوے کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ناکام رہے تھے لہذا جنوبی افریقہ کے خلاف ان کی جگہ عمر امین کو آزمانا بہتر فیصلہ ہوگا۔ عبدالقادر نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو ورلڈ کپ 2015 کیلیے عمر اکمل، حارث سہیل اور عمر امین جیسے باصلاحیت کھلاڑیوں کو تیار کرنا ہوگا۔ تجربہ کار مصباح الحق اور یونس خان ٹیسٹ کے بہترین پلیئر ہیں لیکن ون ڈے میچز میں ان کی جگہ نوجوانوں کو کھیلنے کے زیادہ مواقع دینا ٹیم کے مفاد میں ہوگا۔پی سی بی کو مستقبل کے لیے کھلاڑیوں کا بیک اپ تیار کرنا چاہیے۔
انھوں نے کہا ہے کہ نوجوان بیٹسمین کرکٹ کے تینوں فارمیٹ میں عمدہ پرفارم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،5 روزہ میچز کھیلنے کا بھی موقع دینا چاہیے، اظہر علی زمبابوے کیخلاف سیریز کے بعد یو اے ای میں بھی ناکام رہے، جنوبی افریقہ سے دوسرے 5 روزہ میچ میں ان کی جگہ عمر امین کو کھلانا بہتر ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق عبدالقادر نے ابو ظبی ٹیسٹ میں پاکستان کی کامیابی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے آئندہ بھی کارکردگی کا تسلسل جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ سابق لیگ اسپنر نے کہا ہے کہ جنوبی افریقی بیٹسمین ہاشم آملا کی دوسرے ٹیسٹ میں شرکت کا امکان کم ہی نظر آتا ہے، ان کی عدم موجودگی میں پاکستان کے پاس سیریز جیتنے کا اچھا موقع ہوگا۔ انھوں نے پاکستان کے بولنگ اٹیک کو مشورہ دیا کہ وہ مہمان ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹسمین ابراہم ڈی ویلیئرز کو لائن لینتھ پر گیند کرائیں۔
عبدالقادر نے کہا کہ زمبابوے کے خلاف آخری ٹیسٹ میں 5 وکٹیں حاصل کرنے والے راحت علی کو یو اے ای میں ٹیسٹ سیریز سے ڈراپ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ انھوں نے باصلاحیت عمر اکمل کو تینوں فارمیٹ کے لیے موزوں کھلاڑی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان بیٹسمین کو ٹیسٹ میچز کھیلنے کا بھی موقع دینا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ اظہر علی زمبابوے کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ناکام رہے تھے لہذا جنوبی افریقہ کے خلاف ان کی جگہ عمر امین کو آزمانا بہتر فیصلہ ہوگا۔ عبدالقادر نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو ورلڈ کپ 2015 کیلیے عمر اکمل، حارث سہیل اور عمر امین جیسے باصلاحیت کھلاڑیوں کو تیار کرنا ہوگا۔ تجربہ کار مصباح الحق اور یونس خان ٹیسٹ کے بہترین پلیئر ہیں لیکن ون ڈے میچز میں ان کی جگہ نوجوانوں کو کھیلنے کے زیادہ مواقع دینا ٹیم کے مفاد میں ہوگا۔پی سی بی کو مستقبل کے لیے کھلاڑیوں کا بیک اپ تیار کرنا چاہیے۔