جونیئر ہاکی ورلڈ کپ پاکستان ٹیم کی تیاریوں کا آج سے آغاز
متعدد پلیئرز نے کیمپ کمانڈنٹ منظورالحسن کو رپورٹ کردی، فورسز سے تعلق رکھنے کھلاڑی 3 تک جوائن کریں گے
میگا ایونٹ کے لیے تربیتی کیمپ 2 مرحلوں میں لگایا جا رہا ہے۔ فوٹو: فائل
جونیئر ہاکی ورلڈ کپ کیلیے قومی کھلاڑی پیر سے تیاریوں کا آغاز کریں گے، نصیر بندہ اسٹیڈیم اسلام آباد میں لگائے جانے والے کیمپ کیلیے مدعو کردہ متعدد پلیئرز نے اتوار کی شام کیمپ کمانڈنٹ منظورالحسن سینئر کو رپورٹ کردی ہے جبکہ مسلح افواج سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی دویا تین روز تک کیمپ کا حصہ بنیں گے۔
میگا ایونٹ 5 دسمبر سے بھارت میں شروع ہوگا، کیمپ کیلیے ابتدائی طور پر بلائے گئے کھلاڑیوں میں مظہر عباس، امین یوسف، عدنان شکور، امجد علی، علی حیدر اور طلال خالد (گول کیپرز)، مشتاق، زوہیب اشرف، علیم بلال، حافظ عمار طیب، اسد عزیز، وسیم عباس اور عثمان تنویر (فل بیکس)،محمد کاشف جاوید، تصور عباس، علی حسن فراز،کامران آصف، نیر، عدنان، محمد صہیب اور عثمان تنویر (ہاف بیکس) جبکہ محمد عرفان، محمد عمیر، عدنان انور، محسن صابر، ایوب علی، احمد زبیر، علی شان، عبدالقیوم ڈوگر، محمد رضوان، رضوان، اویس، عبدالخالق، وسیم اسلم، عبدالکریم خان، فہد اللہ خان، اکبر علی، صابر علی،حماد آصف علی اورمحمد اسد بشیر (فارورڈز)شامل ہیں۔ یاد رہے کہ میگا ایونٹ کے لیے تربیتی کیمپ 2 مرحلوں میں لگایا جا رہا ہے۔
پہلا مرحلہ 20 اکتوبر سے10 نومبر تک اسلام آباد کے نصیر بندہ ہاکی اسٹیڈیم میں ہوگا جبکہ دوسرے مرحلے میں کھلاڑی 15 نومبر کو نیشنل ہاکی اسٹیڈیم لاہور میں دوبارہ ٹریننگ کا آغاز کریں گے۔ آسٹریلیا میں نائن اے سائیڈ اور جاپان میں ایشین چیمپئنز ٹرافی میں حصہ لینے کے بعدکھلاڑی 13 نومبر کو وطن واپس پہنچیں گے اور ایک دن آرام کے بعد 15 نومبر کو کیمپ کا باقاعدہ حصہ بن جائیں گے، حتمی اسکواڈ کا اعلان 22 نومبر کو شیڈول ہے۔ مینز جونیئر ہاکی ورلڈ کپ 6 سے 15 دسمبر تک بھارت میں کھیلے جانے والے میگا ایونٹ میں دنیا بھر سے 16 ٹیمیں عالمی ٹائٹل کے حصول کیلیے ایکشن میں دکھائی دیں گی اور شریک ٹیموں کو چار مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔
گروپ اے میں پاکستان، جرمنی، بلجیم اور مصر، گروپ بی میں آسٹریلیا، سپین، ارجنٹائن اور فرانس، گروپ سی میں ہالینڈ، جنوبی کوریا، بھارت اور کینیڈا جبکہ گروپ ڈی میں انگلینڈ، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ اور ملائیشیا شامل ہیں۔ پاکستانی ٹیم 6 دسمبر کو ابتدائی میچ مصر کے خلاف کھیلے گی، گرین شرٹس 8 دسمبر کو جرمنی جبکہ تیسرا اور آخری میچ 10 دسمبر کو بیلجیئم کے خلاف کھیلے گی۔ دوسری جانب کیمپ کمانڈنٹ منظور الحسن سینئر کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کے صبح اور شام کے دو، دو گھنٹے کے الگ سیشنز میں بھر پور ٹریننگ کروائی جائے گی، صبح کا سیشن فزیکل ٹریننگ کے لیے وقف ہوگا جبکہ شام کے مرحلے میں پلیئرز کی خامیوں کو دور کیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ ابتدائی روز تمام کھلاڑیوں کے فزیکل ٹیسٹ ہو جائیں گے جبکہ شام کو انھیں پریکٹس کرائی جائے گی۔چیف کوچ نے کہا کہ ورلڈ کپ میں شریک ٹیموں کو دیکھتے ہوئے میگا ایونٹ کو آسان ہدف نہیں کہا جا سکتا لیکن میں چیلنجز کو پسند کرتا ہوں اور جونیئر ٹیم کی کوچنگ کا عہدہ بھی چیلنج سمجھ کر قبول کیا ہے،امید ہے کہ قومی ٹیم ورلڈ کپ کا ٹائٹل اپنے نام کرنے میں کامیاب رہے گی۔
میگا ایونٹ 5 دسمبر سے بھارت میں شروع ہوگا، کیمپ کیلیے ابتدائی طور پر بلائے گئے کھلاڑیوں میں مظہر عباس، امین یوسف، عدنان شکور، امجد علی، علی حیدر اور طلال خالد (گول کیپرز)، مشتاق، زوہیب اشرف، علیم بلال، حافظ عمار طیب، اسد عزیز، وسیم عباس اور عثمان تنویر (فل بیکس)،محمد کاشف جاوید، تصور عباس، علی حسن فراز،کامران آصف، نیر، عدنان، محمد صہیب اور عثمان تنویر (ہاف بیکس) جبکہ محمد عرفان، محمد عمیر، عدنان انور، محسن صابر، ایوب علی، احمد زبیر، علی شان، عبدالقیوم ڈوگر، محمد رضوان، رضوان، اویس، عبدالخالق، وسیم اسلم، عبدالکریم خان، فہد اللہ خان، اکبر علی، صابر علی،حماد آصف علی اورمحمد اسد بشیر (فارورڈز)شامل ہیں۔ یاد رہے کہ میگا ایونٹ کے لیے تربیتی کیمپ 2 مرحلوں میں لگایا جا رہا ہے۔
پہلا مرحلہ 20 اکتوبر سے10 نومبر تک اسلام آباد کے نصیر بندہ ہاکی اسٹیڈیم میں ہوگا جبکہ دوسرے مرحلے میں کھلاڑی 15 نومبر کو نیشنل ہاکی اسٹیڈیم لاہور میں دوبارہ ٹریننگ کا آغاز کریں گے۔ آسٹریلیا میں نائن اے سائیڈ اور جاپان میں ایشین چیمپئنز ٹرافی میں حصہ لینے کے بعدکھلاڑی 13 نومبر کو وطن واپس پہنچیں گے اور ایک دن آرام کے بعد 15 نومبر کو کیمپ کا باقاعدہ حصہ بن جائیں گے، حتمی اسکواڈ کا اعلان 22 نومبر کو شیڈول ہے۔ مینز جونیئر ہاکی ورلڈ کپ 6 سے 15 دسمبر تک بھارت میں کھیلے جانے والے میگا ایونٹ میں دنیا بھر سے 16 ٹیمیں عالمی ٹائٹل کے حصول کیلیے ایکشن میں دکھائی دیں گی اور شریک ٹیموں کو چار مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔
گروپ اے میں پاکستان، جرمنی، بلجیم اور مصر، گروپ بی میں آسٹریلیا، سپین، ارجنٹائن اور فرانس، گروپ سی میں ہالینڈ، جنوبی کوریا، بھارت اور کینیڈا جبکہ گروپ ڈی میں انگلینڈ، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ اور ملائیشیا شامل ہیں۔ پاکستانی ٹیم 6 دسمبر کو ابتدائی میچ مصر کے خلاف کھیلے گی، گرین شرٹس 8 دسمبر کو جرمنی جبکہ تیسرا اور آخری میچ 10 دسمبر کو بیلجیئم کے خلاف کھیلے گی۔ دوسری جانب کیمپ کمانڈنٹ منظور الحسن سینئر کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کے صبح اور شام کے دو، دو گھنٹے کے الگ سیشنز میں بھر پور ٹریننگ کروائی جائے گی، صبح کا سیشن فزیکل ٹریننگ کے لیے وقف ہوگا جبکہ شام کے مرحلے میں پلیئرز کی خامیوں کو دور کیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ ابتدائی روز تمام کھلاڑیوں کے فزیکل ٹیسٹ ہو جائیں گے جبکہ شام کو انھیں پریکٹس کرائی جائے گی۔چیف کوچ نے کہا کہ ورلڈ کپ میں شریک ٹیموں کو دیکھتے ہوئے میگا ایونٹ کو آسان ہدف نہیں کہا جا سکتا لیکن میں چیلنجز کو پسند کرتا ہوں اور جونیئر ٹیم کی کوچنگ کا عہدہ بھی چیلنج سمجھ کر قبول کیا ہے،امید ہے کہ قومی ٹیم ورلڈ کپ کا ٹائٹل اپنے نام کرنے میں کامیاب رہے گی۔