صدرکاغیروابستہ تحریک کےاجلاس سے خطاب
پاکستان کی بات کی جائے تو یہاں دہشت گردوں‘ انتہا پسندوں اور عسکریت پسندوں کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جا سکتا‘
پاکستان فلسطین کے عوام کے حق خود ارادیت کا پورا احترام کرتا ہے،صدر آصف علی زرداری فوٹو: فائل
صدر آصف علی زرداری نے غیروابستہ تحریک کے16ویں سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان متعدد علاقائی اور بین الاقوامی مسائل کے حل کی ضرورت پر زور دیا ہے جن کی وجہ سے دنیا کے مختلف خطوں میں امن ناپید ہو چکا ہے اور امن کے قیام کی کوششیں رائیگاں جا رہی ہیں۔ پاکستان کے لیے ان میں سب سے اہم کشمیر کا تنازع ہے جس کی وجہ سے پاک بھارت مستحکم تعلقات کا قیام ہمیشہ ایک خواب بنا رہا۔ اگرچہ یہ مسئلہ تاحال حل نہیں ہوا ہے پھر بھی پاکستان نے سرعت کے ساتھ تغیر پذیر حالات کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا جس کے نتیجے میں اب دونوں ملکوں کے مابین حالات اور تعلقات پہلے کی نسبت کافی بہتر ہو چکے ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ مختلف تصفیہ طلب امور پر مذاکرات کا سلسلہ بھی چل نکلا ہے' صدر مملکت نے اسی جانب اشارہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات میں مصروف ہے، کشمیر سمیت تمام دیرینہ تصفیہ طلب مسائل کا پُرامن حل چاہتا ہے۔ صدر کا یہ کہنا بھی بالکل صائب اور تاریخی حقائق کے عین مطابق ہے کہ پاکستان افغانستان میں استحکام اور دیرپا امن کے لیے پُرعزم ہے۔
اس کے ثبوت کے طور پر پاکستان کی ان کوششوں اور عملی اقدامات کو پیش کیا جا سکتا ہے جو اس نے بتیس سال قبل اس ملک پر سوویت یونین کے حملے کے بعد سے اب تک کی ہیں جن میں لاکھوں افغان مہاجرین کا بوجھ برداشت کرنا' افغانستان میں مستحکم حکومت کے قیام کے لیے عملی تگ و دو اور داخلی اقتصادی و معاشی مسائل کے باوجود افغان عوام کی مالی مدد کرنا بھی شامل ہے۔ صدر نے اپنے خطاب میں یہ بات بھی بالکل درست کہی ہے کہ عسکریت پسندی کے خلاف فتح کے لیے لوگوں کے دل و دماغ جیتنا ہوں گے یعنی ان آمادہء جنگ لوگوں اور گروہوں کو بات چیت اور ترغیبات کے ذریعے امن پسند بنانے کی کوششیں کرنا ضروری ہے۔
اس حوالے سے پاکستان کی بات کی جائے تو یہاں دہشت گردوں' انتہا پسندوں اور عسکریت پسندوں کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جا سکتا' حکومت ان لوگوں کے خلاف ایک عرصے سے برسرپیکار ہے اور حکومت ہی کی جانب سے کئی بار یہ اعلان بھی کیا جا چکا ہے کہ جو عسکریت پسند ہتھیار پھینک کو حکومتی رٹ قبول کر لیں گے ان کو معاف کر دیا جائے گا لیکن امریکی ڈرون حملوں کی وجہ سے حکومت پاکستان کی جانب سے کی گئی انتہاپسندوں کو رام کرنے کی کوششیں سبوتاژ ہو رہی ہیں کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ ڈرون حملوں سے جہاں دو چار دہشت گرد مرتے ہیں وہاں اس سے زیادہ تعداد میں بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں چنانچہ ان کے لواحقین ایک بار پھر مسلح ہو کر حکومت کے خلاف برسرپیکار ہو جاتے ہیں۔
صدر زرداری کے کہنے کا مدعا اور مقصد یہ ہے کہ اگر ان لوگوں کے لیے مراعات کا اعلان کیا جائے اور ان کے لیے زندگی کی سہولتیں بڑھائی جائیں تو ان کی سوچ میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ اسی فارمولے کو دنیا میں کہیں بھی موجود دہشت گردی کے خاتمے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ اسلامی تعاون تنظیم نے شام کی رکنیت معطل کر دی ہے پھر بھی اس مسلم ملک میں امن کے قیام کی کوششیں ترک نہیں کی جانی چاہئیں اور یہ ذمے داری ظاہر ہے کہ اسلامی دنیا کی ہے۔ اپنے خطاب میں صدر زرداری نے اسی بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شام میں جاری خونریزی کا سلسلہ فوری رکنا چاہیے۔
صدر مملکت کا یہ کہنا بھی سو فیصد درست ہے کہ غیروابستہ ممالک کی تنظیم اس وقت چیلنجوں کے دور سے گزر رہی ہے کیونکہ وہ ممالک اور عالمی تنظیمیں جو مخصوص نتائج کے حصول کے لیے مخصوص مقاصد کی تکمیل میں لگی ہوئی ہیں انھیں اس تنظیم اور تحریک کی سرگرمیاں کہاں پسند ہوں گی چنانچہ اس تحریک کو زندہ رکھنے اور اس کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا اتحاد قائم رکھا جائے کیونکہ بقول صدر زرداری سب سے بڑی طاقت اس تنظیم کا اتحاد رہا ہے۔ صدر نے اپنے خطاب میں امید ظاہر کی کہ بین الاقوامی برادری افغان مہاجرین کی واپسی کے ادھورے مسئلے کو مدنظر رکھے گی۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان فلسطین کے عوام کے حق خود ارادیت کا پورا احترام کرتا ہے کیونکہ آزاد فلسطینی ریاست کا قیام امن کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے 40 ہزار بے گناہ جانوں کی قربانی دی اور 80 ارب ڈالر سے زائد کا اقتصادی نقصان اٹھایا ہے' دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک پیچیدہ معاملہ ہے' مخالف نظریے کو شکست دینے کے لیے ہیروئن کو جنگی ہتھیار کے طور پر بروئے کار لایا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ماضی میں بین الاقوامی برادری افغانستان سے نکلتے ہوئے اپنے ہتھیار تو ساتھ لے گئی لیکن قابل افسوس طور پر اپنے پیچھے ہیروئن چھوڑ گئی جو خطہ میں تباہی کا باعث بن رہی ہے۔
صدر نے کہا کہ عالمی امن اور سلامتی کے لیے جوہری عدم پھیلائو اور ہتھیاروں کا خاتمہ ضروری ہے اور ان کے لیے قواعد غیرامتیازی بنیاد پر ہونے چاہئیں' غیروابستہ تحریک کو تخفیف اسلحہ کے نظاموں میں دہرے معیارات کی تائید نہیں کرنی چاہیے۔ افغانستان اور منشیات کے حوالے سے بات کر کے صدر مملکت نے دراصل اس تحریک سے وابستہ ممالک کو یہ چنائوتی دی ہے کہ اس بار بھی ماضی والی غلطی دھرائی گئی تو اس کے نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے گھنائونے اثرات و نتائج سامنے آئیں گے۔ صدر کا یہ کہنا بھی عالمی برادری کے لیے قابل غور ہے کہ ایران کے مسئلے کا حل سفارتکاری کے ذریعے ڈھونڈا جانا چاہئے۔
اس کے ثبوت کے طور پر پاکستان کی ان کوششوں اور عملی اقدامات کو پیش کیا جا سکتا ہے جو اس نے بتیس سال قبل اس ملک پر سوویت یونین کے حملے کے بعد سے اب تک کی ہیں جن میں لاکھوں افغان مہاجرین کا بوجھ برداشت کرنا' افغانستان میں مستحکم حکومت کے قیام کے لیے عملی تگ و دو اور داخلی اقتصادی و معاشی مسائل کے باوجود افغان عوام کی مالی مدد کرنا بھی شامل ہے۔ صدر نے اپنے خطاب میں یہ بات بھی بالکل درست کہی ہے کہ عسکریت پسندی کے خلاف فتح کے لیے لوگوں کے دل و دماغ جیتنا ہوں گے یعنی ان آمادہء جنگ لوگوں اور گروہوں کو بات چیت اور ترغیبات کے ذریعے امن پسند بنانے کی کوششیں کرنا ضروری ہے۔
اس حوالے سے پاکستان کی بات کی جائے تو یہاں دہشت گردوں' انتہا پسندوں اور عسکریت پسندوں کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جا سکتا' حکومت ان لوگوں کے خلاف ایک عرصے سے برسرپیکار ہے اور حکومت ہی کی جانب سے کئی بار یہ اعلان بھی کیا جا چکا ہے کہ جو عسکریت پسند ہتھیار پھینک کو حکومتی رٹ قبول کر لیں گے ان کو معاف کر دیا جائے گا لیکن امریکی ڈرون حملوں کی وجہ سے حکومت پاکستان کی جانب سے کی گئی انتہاپسندوں کو رام کرنے کی کوششیں سبوتاژ ہو رہی ہیں کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ ڈرون حملوں سے جہاں دو چار دہشت گرد مرتے ہیں وہاں اس سے زیادہ تعداد میں بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں چنانچہ ان کے لواحقین ایک بار پھر مسلح ہو کر حکومت کے خلاف برسرپیکار ہو جاتے ہیں۔
صدر زرداری کے کہنے کا مدعا اور مقصد یہ ہے کہ اگر ان لوگوں کے لیے مراعات کا اعلان کیا جائے اور ان کے لیے زندگی کی سہولتیں بڑھائی جائیں تو ان کی سوچ میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ اسی فارمولے کو دنیا میں کہیں بھی موجود دہشت گردی کے خاتمے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ اسلامی تعاون تنظیم نے شام کی رکنیت معطل کر دی ہے پھر بھی اس مسلم ملک میں امن کے قیام کی کوششیں ترک نہیں کی جانی چاہئیں اور یہ ذمے داری ظاہر ہے کہ اسلامی دنیا کی ہے۔ اپنے خطاب میں صدر زرداری نے اسی بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شام میں جاری خونریزی کا سلسلہ فوری رکنا چاہیے۔
صدر مملکت کا یہ کہنا بھی سو فیصد درست ہے کہ غیروابستہ ممالک کی تنظیم اس وقت چیلنجوں کے دور سے گزر رہی ہے کیونکہ وہ ممالک اور عالمی تنظیمیں جو مخصوص نتائج کے حصول کے لیے مخصوص مقاصد کی تکمیل میں لگی ہوئی ہیں انھیں اس تنظیم اور تحریک کی سرگرمیاں کہاں پسند ہوں گی چنانچہ اس تحریک کو زندہ رکھنے اور اس کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا اتحاد قائم رکھا جائے کیونکہ بقول صدر زرداری سب سے بڑی طاقت اس تنظیم کا اتحاد رہا ہے۔ صدر نے اپنے خطاب میں امید ظاہر کی کہ بین الاقوامی برادری افغان مہاجرین کی واپسی کے ادھورے مسئلے کو مدنظر رکھے گی۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان فلسطین کے عوام کے حق خود ارادیت کا پورا احترام کرتا ہے کیونکہ آزاد فلسطینی ریاست کا قیام امن کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے 40 ہزار بے گناہ جانوں کی قربانی دی اور 80 ارب ڈالر سے زائد کا اقتصادی نقصان اٹھایا ہے' دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک پیچیدہ معاملہ ہے' مخالف نظریے کو شکست دینے کے لیے ہیروئن کو جنگی ہتھیار کے طور پر بروئے کار لایا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ماضی میں بین الاقوامی برادری افغانستان سے نکلتے ہوئے اپنے ہتھیار تو ساتھ لے گئی لیکن قابل افسوس طور پر اپنے پیچھے ہیروئن چھوڑ گئی جو خطہ میں تباہی کا باعث بن رہی ہے۔
صدر نے کہا کہ عالمی امن اور سلامتی کے لیے جوہری عدم پھیلائو اور ہتھیاروں کا خاتمہ ضروری ہے اور ان کے لیے قواعد غیرامتیازی بنیاد پر ہونے چاہئیں' غیروابستہ تحریک کو تخفیف اسلحہ کے نظاموں میں دہرے معیارات کی تائید نہیں کرنی چاہیے۔ افغانستان اور منشیات کے حوالے سے بات کر کے صدر مملکت نے دراصل اس تحریک سے وابستہ ممالک کو یہ چنائوتی دی ہے کہ اس بار بھی ماضی والی غلطی دھرائی گئی تو اس کے نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے گھنائونے اثرات و نتائج سامنے آئیں گے۔ صدر کا یہ کہنا بھی عالمی برادری کے لیے قابل غور ہے کہ ایران کے مسئلے کا حل سفارتکاری کے ذریعے ڈھونڈا جانا چاہئے۔