مختلف سیاسی صورت حال
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے جو اصل میں زرداری قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں 18 اکتوبر۔۔۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے جو اصل میں زرداری قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں 18 اکتوبر کو کراچی کے ایک اجتماع میں خود کو بلاول بھٹو زرداری کی بجائے بلاول بھٹو قرار دیتے ہوئے اپنا پہلا سیاسی خطاب تحریری پڑھتے ہوئے کیا اور اپنے والد آصف علی زرداری اور والدہ بے نظیر بھٹو کی مفاہمتی پالیسی کے برعکس جارحانہ طور پر (ن) لیگ، پی ٹی آئی اور اپنی پارٹی کی سابق حلیف متحدہ کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا جس کا جواب بھی انھیں تینوں جماعتوں کی طرف سے فوری مل گیا۔
19 اکتوبر کے ایکسپریس میں جہاں بلاول بھٹو زرداری کی جذباتی تقریر شہ سرخی سے شایع ہوئی وہاں سابق صدر آصف علی زرداری کی بھی خبر نمایاں طور پر شایع ہوئی ہے جس میں انھوں نے وزیر اعظم سے کہا ہے کہ نواز شریف قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ سابق صدر نے وزیر اعظم کو کہا ہے کہ جو ہم اپنے دور میں نہ کرسکے وہ آپ کرکے دکھائیں۔ موجودہ حکومت نے اپنے چار ماہ میں مہنگائی بڑھاکر وہ تو کرکے دکھادیا ہے جو پی پی حکومت 5 سال میں نہ کرسکی تھی۔ 2018ء کے انتخابات کے لیے پیپلز پارٹی کی کمان اور تیر کی طرف سے ہونے والی تقاریر اگرچہ کچھ مختلف ہیں مگر یہ وقت سے بہت پہلے کردی گئی ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے لکھی ہوئی جو تقریر پڑھی وہ آصف علی زرداری کی منظوری سے ہوئی ہوگی جب کہ آصف زرداری نے وزیر اعظم کے الوداعی ظہرانے میں قطعی مختلف تقریر کی تھی۔ وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی تقریر میں صدر زرداری کے کردار کو سراہا تھا اور دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کی تعریف میں جو کہا تھا اس سے لگتا تھا کہ دونوں کی شاید باہمی ملی بھگت تھی کہ ہم نے اپنی باری پوری کرلی اب آپ باری پوری کرلیں۔
ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اس لحاظ سے مختلف ہے کہ ماضی میں ایسی سیاسی صورتحال کبھی نہیں رہی۔ گزشتہ حکومت میں بھی اگرچہ تین صوبوں میں تین مختلف پارٹیوں مسلم لیگ (ن) کی پنجاب میں، پی پی کی سندھ اور بلوچستان میں اور کے پی کے میں اے این پی کی حکومت تھی۔ پنجاب اور سندھ میں تو دوبارہ بھی ان ہی پارٹیوں کی حکومت بنی جن کی پہلے تھی بلکہ دونوں کے وزرائے اعلیٰ بھی وہی ہیں۔ کے پی کے میں پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰ ہیں تو جماعت اسلامی اور قومی جمہوری پارٹی ان کی حلیف ہے جب کہ بلوچستان میں نیشنل پارٹی کا وزیر اعلیٰ ہے تو مسلم لیگ (ن) اور ملی پارٹی ان کی حلیف ہے۔
بلوچستان کی صورتحال تو ویسے بھی کئی عشروں سے مختلف چلی آرہی ہے جہاں سیاسی جماعتوں سے زیادہ سیاسی، قبائلی اور سرداری شخصیات کا اثر زیادہ رہتا ہے۔ 2008ء کے الیکشن میں بلوچستان میں زیادہ نشستیں مسلم لیگ (ق) کو ملی تھیں مگر وزیر اعلیٰ کہنے کو تو پی پی کا تھا مگر اپوزیشن میں صرف ایک رکن تھا اور اسلم رئیسانی کی مخلوط حکومت اپنی مرضی اور مفاد کے فیصلے کرتی تھی جس کی وجہ سے وفاقی حکومت کو اپنے ہی وزیر اعلیٰ کو ہٹاکر گورنر راج لگانا پڑا تھا۔ اب بلوچستان میں کثیر الجماعتی کے بجائے صرف تین پارٹیوں کی حکومت ہے اور وہاں جے یو آئی سمیت ایک مضبوط اپوزیشن بھی موجود ہے۔
ملک کی مختلف سیاسی صورتحال میں وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی واضح اکثریت ہے جس کے بعد پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے پاس قومی اسمبلی میں زیادہ نشستیں ہیں اور یہ تین جماعتیں ہی پنجاب، سندھ اور کے پی کے میں برسر اقتدار ہیں۔ چوتھی پارٹی متحدہ وہ واحد پارٹی ہے جس کے پاس قومی اسمبلی میں 24 اور سندھ میں تقریباً 50 نشستیں ہیں جو وفاق میں وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کو ووٹ دیتی آرہی ہے مگر سندھ میں اپوزیشن میں ہے اور پی پی حکومت کی کوشش کے باوجود سندھ کے اقتدار میں شریک نہیں ہو رہی۔ متحدہ اور پی پی گزشتہ 5 سالوں میں حلیف رہی ہیں مگر اب متحدہ سندھ میں واضح اپوزیشن ہے۔ قومی اسمبلی میں پی پی اپوزیشن اپنا لیڈر رکھتی ہے جب کہ پی ٹی آئی، متحدہ اور جے یو آئی کے ارکان کی مشترکہ تعداد پی پی سے زیادہ ہے۔
گزشتہ دنوں پی پی کے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا تھا کہ تحریک انصاف اور متحدہ مل کر مجھے ہٹانا چاہیں تو ہٹادیں اور اپنا اپوزیشن لیڈر لے آئیں۔ پی ٹی آئی اور متحدہ اگر دونوں آپس میں مل جائیں تو ایسا ممکن بھی ہے اور دونوں پارٹیاں مل کر اپنا اپوزیشن لیڈر لاسکتی ہیں مگر دونوں کے درمیان اتنے شدید اختلافات ہیں کہ دونوں کے ملنے کی کوئی امید نہیں ہے اور اس سلسلے میں متحدہ کے خلاف عمران خان کا رویہ بہت سخت ہے۔ عمران خان مسلم لیگ (ن)، پی پی، جے یو آئی کے خلاف بھی سخت موقف رکھتے ہیں اور اے این پی کے بھی خلاف ہیں اور قومی سطح پر تنہا پرواز کر رہے ہیں۔
مسلم لیگ (ق) گزشتہ حکومت میں پی پی کی حلیف تھی مگر اب وہ پی ٹی آئی سے روابط بڑھا رہی ہے اور وہ جنرل پرویز کے بھی ساتھ رہی ہے جس کی وجہ سے عمران خان (ق) لیگ کے خلاف رہے ہیں مگر پنجاب میں پی ٹی آئی اور (ق) لیگ ساتھ چل رہے ہیں۔ کے پی کے میں جے یو آئی کے پاس کافی صوبائی نشستیں ہیں مگر جے یو آئی اور تحریک انصاف کے قائدین عمران خان اور مولانا فضل الرحمن میں اکثر محاذ آرائی رہتی ہے اور دونوں ایک دوسرے کے خلاف سخت بیان بازی کرتے رہتے ہیں۔ پی ٹی آئی کی وجہ سے کے پی کے کی دو سابق حکمران جماعتیں جے یو آئی اور اے این پی قریب آرہی ہیں۔ کے پی کے میں ماضی کی حلیف مجلس عمل میں شامل جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے درمیان بھی شدید اختلافات ہیں۔ جے یو آئی دس سال تک بلوچستان کی مخلوط حکومت میں شامل رہی ہے مگر اب بلوچستان میں حکومت میں شامل دو پارٹیاں نیشنل پارٹی اور ملی پارٹی جے یو آئی کو حکومت میں شامل کرنے کے خلاف ہیں۔
سندھ میں متحدہ سے مایوس ہوکر پی پی حکومت اب متحدہ کے بقول انتقام پر اتر آئی ہے اور اب بلاول زرداری نے کھل کر متحدہ کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس سے پی پی اور متحدہ میں دوریاں مزید بڑھیں گی۔ سندھ میں تمام قوم پرست جماعتیں اور رہنما متحدہ کے خلاف ہیں۔
متحدہ اور جے یو آئی تقریباً ایک جیسی صورت حال سے دوچار ہیں یہ دونوں ماضی میں پی پی کی حلیف تھیں مگر اب دونوں پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی سے دور ہوکر (ن) لیگ کے قریب ہیں اور اب بلاول بھٹو (ن) لیگ کے شیر کو شکار کرنے کا اعلان کرچکے ہیں اور ممکن ہے (ن) لیگ اس سے قبل ہی متحدہ اور فنکشنل لیگ سے مل کر سندھ میں پی پی کی حکومت کا شکار کرلیں جس کے بعد سندھ میں پی پی اور پی ٹی آئی تنہا ہوکر آپس میں مل بھی سکتی ہیں۔سیاست اسی کا نام ہے۔
19 اکتوبر کے ایکسپریس میں جہاں بلاول بھٹو زرداری کی جذباتی تقریر شہ سرخی سے شایع ہوئی وہاں سابق صدر آصف علی زرداری کی بھی خبر نمایاں طور پر شایع ہوئی ہے جس میں انھوں نے وزیر اعظم سے کہا ہے کہ نواز شریف قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ سابق صدر نے وزیر اعظم کو کہا ہے کہ جو ہم اپنے دور میں نہ کرسکے وہ آپ کرکے دکھائیں۔ موجودہ حکومت نے اپنے چار ماہ میں مہنگائی بڑھاکر وہ تو کرکے دکھادیا ہے جو پی پی حکومت 5 سال میں نہ کرسکی تھی۔ 2018ء کے انتخابات کے لیے پیپلز پارٹی کی کمان اور تیر کی طرف سے ہونے والی تقاریر اگرچہ کچھ مختلف ہیں مگر یہ وقت سے بہت پہلے کردی گئی ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے لکھی ہوئی جو تقریر پڑھی وہ آصف علی زرداری کی منظوری سے ہوئی ہوگی جب کہ آصف زرداری نے وزیر اعظم کے الوداعی ظہرانے میں قطعی مختلف تقریر کی تھی۔ وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی تقریر میں صدر زرداری کے کردار کو سراہا تھا اور دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کی تعریف میں جو کہا تھا اس سے لگتا تھا کہ دونوں کی شاید باہمی ملی بھگت تھی کہ ہم نے اپنی باری پوری کرلی اب آپ باری پوری کرلیں۔
ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اس لحاظ سے مختلف ہے کہ ماضی میں ایسی سیاسی صورتحال کبھی نہیں رہی۔ گزشتہ حکومت میں بھی اگرچہ تین صوبوں میں تین مختلف پارٹیوں مسلم لیگ (ن) کی پنجاب میں، پی پی کی سندھ اور بلوچستان میں اور کے پی کے میں اے این پی کی حکومت تھی۔ پنجاب اور سندھ میں تو دوبارہ بھی ان ہی پارٹیوں کی حکومت بنی جن کی پہلے تھی بلکہ دونوں کے وزرائے اعلیٰ بھی وہی ہیں۔ کے پی کے میں پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰ ہیں تو جماعت اسلامی اور قومی جمہوری پارٹی ان کی حلیف ہے جب کہ بلوچستان میں نیشنل پارٹی کا وزیر اعلیٰ ہے تو مسلم لیگ (ن) اور ملی پارٹی ان کی حلیف ہے۔
بلوچستان کی صورتحال تو ویسے بھی کئی عشروں سے مختلف چلی آرہی ہے جہاں سیاسی جماعتوں سے زیادہ سیاسی، قبائلی اور سرداری شخصیات کا اثر زیادہ رہتا ہے۔ 2008ء کے الیکشن میں بلوچستان میں زیادہ نشستیں مسلم لیگ (ق) کو ملی تھیں مگر وزیر اعلیٰ کہنے کو تو پی پی کا تھا مگر اپوزیشن میں صرف ایک رکن تھا اور اسلم رئیسانی کی مخلوط حکومت اپنی مرضی اور مفاد کے فیصلے کرتی تھی جس کی وجہ سے وفاقی حکومت کو اپنے ہی وزیر اعلیٰ کو ہٹاکر گورنر راج لگانا پڑا تھا۔ اب بلوچستان میں کثیر الجماعتی کے بجائے صرف تین پارٹیوں کی حکومت ہے اور وہاں جے یو آئی سمیت ایک مضبوط اپوزیشن بھی موجود ہے۔
ملک کی مختلف سیاسی صورتحال میں وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی واضح اکثریت ہے جس کے بعد پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے پاس قومی اسمبلی میں زیادہ نشستیں ہیں اور یہ تین جماعتیں ہی پنجاب، سندھ اور کے پی کے میں برسر اقتدار ہیں۔ چوتھی پارٹی متحدہ وہ واحد پارٹی ہے جس کے پاس قومی اسمبلی میں 24 اور سندھ میں تقریباً 50 نشستیں ہیں جو وفاق میں وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کو ووٹ دیتی آرہی ہے مگر سندھ میں اپوزیشن میں ہے اور پی پی حکومت کی کوشش کے باوجود سندھ کے اقتدار میں شریک نہیں ہو رہی۔ متحدہ اور پی پی گزشتہ 5 سالوں میں حلیف رہی ہیں مگر اب متحدہ سندھ میں واضح اپوزیشن ہے۔ قومی اسمبلی میں پی پی اپوزیشن اپنا لیڈر رکھتی ہے جب کہ پی ٹی آئی، متحدہ اور جے یو آئی کے ارکان کی مشترکہ تعداد پی پی سے زیادہ ہے۔
گزشتہ دنوں پی پی کے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا تھا کہ تحریک انصاف اور متحدہ مل کر مجھے ہٹانا چاہیں تو ہٹادیں اور اپنا اپوزیشن لیڈر لے آئیں۔ پی ٹی آئی اور متحدہ اگر دونوں آپس میں مل جائیں تو ایسا ممکن بھی ہے اور دونوں پارٹیاں مل کر اپنا اپوزیشن لیڈر لاسکتی ہیں مگر دونوں کے درمیان اتنے شدید اختلافات ہیں کہ دونوں کے ملنے کی کوئی امید نہیں ہے اور اس سلسلے میں متحدہ کے خلاف عمران خان کا رویہ بہت سخت ہے۔ عمران خان مسلم لیگ (ن)، پی پی، جے یو آئی کے خلاف بھی سخت موقف رکھتے ہیں اور اے این پی کے بھی خلاف ہیں اور قومی سطح پر تنہا پرواز کر رہے ہیں۔
مسلم لیگ (ق) گزشتہ حکومت میں پی پی کی حلیف تھی مگر اب وہ پی ٹی آئی سے روابط بڑھا رہی ہے اور وہ جنرل پرویز کے بھی ساتھ رہی ہے جس کی وجہ سے عمران خان (ق) لیگ کے خلاف رہے ہیں مگر پنجاب میں پی ٹی آئی اور (ق) لیگ ساتھ چل رہے ہیں۔ کے پی کے میں جے یو آئی کے پاس کافی صوبائی نشستیں ہیں مگر جے یو آئی اور تحریک انصاف کے قائدین عمران خان اور مولانا فضل الرحمن میں اکثر محاذ آرائی رہتی ہے اور دونوں ایک دوسرے کے خلاف سخت بیان بازی کرتے رہتے ہیں۔ پی ٹی آئی کی وجہ سے کے پی کے کی دو سابق حکمران جماعتیں جے یو آئی اور اے این پی قریب آرہی ہیں۔ کے پی کے میں ماضی کی حلیف مجلس عمل میں شامل جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے درمیان بھی شدید اختلافات ہیں۔ جے یو آئی دس سال تک بلوچستان کی مخلوط حکومت میں شامل رہی ہے مگر اب بلوچستان میں حکومت میں شامل دو پارٹیاں نیشنل پارٹی اور ملی پارٹی جے یو آئی کو حکومت میں شامل کرنے کے خلاف ہیں۔
سندھ میں متحدہ سے مایوس ہوکر پی پی حکومت اب متحدہ کے بقول انتقام پر اتر آئی ہے اور اب بلاول زرداری نے کھل کر متحدہ کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس سے پی پی اور متحدہ میں دوریاں مزید بڑھیں گی۔ سندھ میں تمام قوم پرست جماعتیں اور رہنما متحدہ کے خلاف ہیں۔
متحدہ اور جے یو آئی تقریباً ایک جیسی صورت حال سے دوچار ہیں یہ دونوں ماضی میں پی پی کی حلیف تھیں مگر اب دونوں پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی سے دور ہوکر (ن) لیگ کے قریب ہیں اور اب بلاول بھٹو (ن) لیگ کے شیر کو شکار کرنے کا اعلان کرچکے ہیں اور ممکن ہے (ن) لیگ اس سے قبل ہی متحدہ اور فنکشنل لیگ سے مل کر سندھ میں پی پی کی حکومت کا شکار کرلیں جس کے بعد سندھ میں پی پی اور پی ٹی آئی تنہا ہوکر آپس میں مل بھی سکتی ہیں۔سیاست اسی کا نام ہے۔