صوبائی وزیر بلدیات پر حملے کی تحقیقات کا حکم دیدیا گیا
روٹ تبدیل کرنے کی بھی تحقیق ہوگی،شاہد حیات کی سربراہی میں کمیٹی قائم
صوبائی وزیر اویس مظفر نے گزشتہ دنوں غیر قانونی ہائیڈرینٹس پر چھاپہ مارا جہاں ان پر نامعلوم افراد کی جانب سے حملہ کیا گیا،فوٹو ایکسپریس/فائل
صوبائی وزیر بلدیات سید اویس مظفر پر ہونیوالے قاتلانہ حملے اور غیر قانونی ہائیڈرنٹس کو توڑنے والے روٹس میں اچانک تبدیلی کے ذمے داروں کا تعین کرنے کیلیے ایڈیشنل آئی جی پولیس کراچی شاہد حیات کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے۔
کمیٹی کے اراکین میں ڈی آئی جی ایسٹ منیر احمد شیخ اور ایس ایس پی ملیر ناصر آفتاب کو شامل کیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق کمیٹی کو ایک ہفتے میں واقعے کی مجموعی رپورٹ اور ذمے داروں کے تعین کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، کمیٹی کے اراکین متعلقہ پولیس حکام اور واٹر بورڈ کے عملے سے اس ضمن میں جامع تفتیش کرکے واقعے کے پس پردہ عناصر کے حوالے سے رپورٹ دیں گے، یاد رہے کہ صوبائی وزیر بلدیات مستقل غیر قانونی واٹر ہائینڈرنٹس کو مسمار کرنے کے لیے آپریشن کرا رہے ہیں اور اتوار کو بھی غیر قانونی ہائیڈرنٹس جو کہ کورنگی، لانڈھی اور کورنگی انڈسٹریل ایریا میں واقع ہیں کو مسمار کرانے کے لیے آپریشن کی نگرانی کر رہے تھے کہ اچانک ان کے روٹ میں تبدیل کردی گئی اور ریڑھی گوٹھ ، ابراہیم حیدری اور گلشن بونیر کے علاقے سے واپس کورنگی انڈسٹریل ایریا لایا گیا ۔
جہاں پر نامعلوم مسلح افراد نے وزیر بلدیات کے قافلے پر فائرنگ کردی اور پولیس کی جوابی فائرنگ سے مسلح افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے،وزیر بلدیات نے ایڈیشنل آئی جی کراچی شاہد حیات سے فون پر بات چیت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کورنگی روڈ پر ریتی بجری کا کاروبار بند کیا جائے اور ملوث پولیس حکام کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے،کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس بات کا تعین کرے کہ جن افسران نے اس روٹ کا تعین کیا تھا وہ کیا دانستہ طور پر کیا تھا یہ اتفافیہ ہوا،اگر دانستہ طور پر کیا گیا تو اس کے پیچھے مقاصد کیا تھے اور اس میں کون کون افسران ملوث ہیں۔
کمیٹی کے اراکین میں ڈی آئی جی ایسٹ منیر احمد شیخ اور ایس ایس پی ملیر ناصر آفتاب کو شامل کیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق کمیٹی کو ایک ہفتے میں واقعے کی مجموعی رپورٹ اور ذمے داروں کے تعین کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، کمیٹی کے اراکین متعلقہ پولیس حکام اور واٹر بورڈ کے عملے سے اس ضمن میں جامع تفتیش کرکے واقعے کے پس پردہ عناصر کے حوالے سے رپورٹ دیں گے، یاد رہے کہ صوبائی وزیر بلدیات مستقل غیر قانونی واٹر ہائینڈرنٹس کو مسمار کرنے کے لیے آپریشن کرا رہے ہیں اور اتوار کو بھی غیر قانونی ہائیڈرنٹس جو کہ کورنگی، لانڈھی اور کورنگی انڈسٹریل ایریا میں واقع ہیں کو مسمار کرانے کے لیے آپریشن کی نگرانی کر رہے تھے کہ اچانک ان کے روٹ میں تبدیل کردی گئی اور ریڑھی گوٹھ ، ابراہیم حیدری اور گلشن بونیر کے علاقے سے واپس کورنگی انڈسٹریل ایریا لایا گیا ۔
جہاں پر نامعلوم مسلح افراد نے وزیر بلدیات کے قافلے پر فائرنگ کردی اور پولیس کی جوابی فائرنگ سے مسلح افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے،وزیر بلدیات نے ایڈیشنل آئی جی کراچی شاہد حیات سے فون پر بات چیت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کورنگی روڈ پر ریتی بجری کا کاروبار بند کیا جائے اور ملوث پولیس حکام کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے،کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس بات کا تعین کرے کہ جن افسران نے اس روٹ کا تعین کیا تھا وہ کیا دانستہ طور پر کیا تھا یہ اتفافیہ ہوا،اگر دانستہ طور پر کیا گیا تو اس کے پیچھے مقاصد کیا تھے اور اس میں کون کون افسران ملوث ہیں۔