میچ فکسنگلوگ بات کرتے ہوئے ڈرتے ہیںراناٹنگا
آئی پی ایل کا وقارالزامات ، ڈرگس اور دیگر ناخوشگوار واقعات سے مجروح ہو چکا
بعض کھلاڑی ہمیشہ میچ فکسنگ میں شامل ہونا چاہتے اور دولت کی خواہش رکھنے والے آفیشلز انھیں ایسا کرنے دیتے ہیں۔فوٹو:فائل
سری لنکا کے ورلڈ کپ فاتح کپتان ارجنا رانا ٹنگا کے مطابق لوگ میچ فکسنگ کے خلاف بات کرتے ہوئے ڈرتے ہیں۔
ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ میں بھارتی راہول ڈریوڈ جیسے ممتاز انٹرنیشنل پلیئرز کی اس بات سے متفق ہیں کہ فکسنگ کو جرم قرار دیا جائے،ایسا کرنے والوں کو قانون سزا دے کیونکہ ایک انتہائی گھناؤنا جرم ہے، ایک مرتبہ وزیر کھیل سے ایک قانون متعارف کرنے کی درخواست کی گئی تھی جس کے ذریعے حکام ان معاملات میں ملوث پلیئرز کیخلاف کارروائی کرسکیں، انھوں نے کہا کہ بعض کھلاڑی ہمیشہ میچ فکسنگ میں شامل ہونا چاہتے اور دولت کی خواہش رکھنے والے آفیشلز انھیں ایسا کرنے دیتے ہیں ، اسی وجہ سے ہمیں نہ صرف پلیئرز بلکہ آفیشلز کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔ اس بات پر کہ 2011 میں ہشان تلکارتنے نے میڈیاکو بتایا تھا کہ وہ اپنے کیریئر کے دوران فکسڈ ہونے والے میچز کے بارے میں جانتے ہیں لیکن وہ کسی بھی قسم کی معلومات دینے میں ناکام رہے۔
رانا ٹنگا نے کہاکہ مجھے افسوس ہے کہ ان بیانات کے بعد انھوں نے سری لنکا کی عوام کو سچ نہیں بتایا، انھوں نے الزامات لگائے تھے تو پھر وہ شہادتیں مہیا کرتے تاکہ کارروائی کی جاتی، یہ کہنے کے بعد کہ ان کے پاس میچ فکسنگ کی معلومات ہیں ان کی ایک میٹنگ صدر مہندا راجاپکسے سے ہوئی تھی، مجھے نہیں معلوم اس کے بعد ان کے الزامات پر کیا کارروائی ہوئی۔
آج جو کچھ ہورہا ہے اس پر بھی بہت سے افراد کچھ کہتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ تشارا پریرا پر آئی پی ایل کے دوران میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کے الزام پر رانا ٹنگا نے کہا کہ وہ نوجوان اور انتہائی باصلاحیت پلیئر ہے۔
اس پورے معاملے پر میں بہت افسردہ ہوں، اگر کسی پلیئر کو اس قسم کے الزامات کا سامنا ہو تو ایس ایل سی کو ضرورت نہیں کہ بی سی سی آئی کو استعمال کرکے معاملہ ختم کردے، آج سری لنکا کے شائقین پریرا کو شک کی نظر سے دیکھ سکتے ہیں، اس لیے الزامات لگانے والے افراد کیخلاف بغیر کسی کارروائی کے معاملے کو ختم کرنا پلیئر سے ناانصافی ہوگی، اسے اب ان الزامات کے ساتھ زندگی گزارنا پڑے گی۔ رانا ٹنگا نے کہاکہ حکومت دولت کے پیچھے بھاگ رہی اوراس کے نتیجے میں ہماری کرکٹ تباہ ہونے لگی ہے، آئی پی ایل کا وقار میچ فکسنگ الزامات ، ڈرگس کے استعمال اور دیگر ناخوشگوار واقعات سے مجروح ہوا، بھارتی انتخابات کے سبب اس کا اگر سری لنکا میں انعقاد ہوا تو یہ ان منفی چیزوں کو ہم تک لانے کا ذریعہ بنے گا، میں نہیں سمجھتا کہ حکومت کو اس سے کوئی فرق پڑے گا کیونکہ اس نے جوئے خانوںکو چلانے کیلیے بھی اجازت دے دی ہے۔
ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ میں بھارتی راہول ڈریوڈ جیسے ممتاز انٹرنیشنل پلیئرز کی اس بات سے متفق ہیں کہ فکسنگ کو جرم قرار دیا جائے،ایسا کرنے والوں کو قانون سزا دے کیونکہ ایک انتہائی گھناؤنا جرم ہے، ایک مرتبہ وزیر کھیل سے ایک قانون متعارف کرنے کی درخواست کی گئی تھی جس کے ذریعے حکام ان معاملات میں ملوث پلیئرز کیخلاف کارروائی کرسکیں، انھوں نے کہا کہ بعض کھلاڑی ہمیشہ میچ فکسنگ میں شامل ہونا چاہتے اور دولت کی خواہش رکھنے والے آفیشلز انھیں ایسا کرنے دیتے ہیں ، اسی وجہ سے ہمیں نہ صرف پلیئرز بلکہ آفیشلز کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔ اس بات پر کہ 2011 میں ہشان تلکارتنے نے میڈیاکو بتایا تھا کہ وہ اپنے کیریئر کے دوران فکسڈ ہونے والے میچز کے بارے میں جانتے ہیں لیکن وہ کسی بھی قسم کی معلومات دینے میں ناکام رہے۔
رانا ٹنگا نے کہاکہ مجھے افسوس ہے کہ ان بیانات کے بعد انھوں نے سری لنکا کی عوام کو سچ نہیں بتایا، انھوں نے الزامات لگائے تھے تو پھر وہ شہادتیں مہیا کرتے تاکہ کارروائی کی جاتی، یہ کہنے کے بعد کہ ان کے پاس میچ فکسنگ کی معلومات ہیں ان کی ایک میٹنگ صدر مہندا راجاپکسے سے ہوئی تھی، مجھے نہیں معلوم اس کے بعد ان کے الزامات پر کیا کارروائی ہوئی۔
آج جو کچھ ہورہا ہے اس پر بھی بہت سے افراد کچھ کہتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ تشارا پریرا پر آئی پی ایل کے دوران میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کے الزام پر رانا ٹنگا نے کہا کہ وہ نوجوان اور انتہائی باصلاحیت پلیئر ہے۔
اس پورے معاملے پر میں بہت افسردہ ہوں، اگر کسی پلیئر کو اس قسم کے الزامات کا سامنا ہو تو ایس ایل سی کو ضرورت نہیں کہ بی سی سی آئی کو استعمال کرکے معاملہ ختم کردے، آج سری لنکا کے شائقین پریرا کو شک کی نظر سے دیکھ سکتے ہیں، اس لیے الزامات لگانے والے افراد کیخلاف بغیر کسی کارروائی کے معاملے کو ختم کرنا پلیئر سے ناانصافی ہوگی، اسے اب ان الزامات کے ساتھ زندگی گزارنا پڑے گی۔ رانا ٹنگا نے کہاکہ حکومت دولت کے پیچھے بھاگ رہی اوراس کے نتیجے میں ہماری کرکٹ تباہ ہونے لگی ہے، آئی پی ایل کا وقار میچ فکسنگ الزامات ، ڈرگس کے استعمال اور دیگر ناخوشگوار واقعات سے مجروح ہوا، بھارتی انتخابات کے سبب اس کا اگر سری لنکا میں انعقاد ہوا تو یہ ان منفی چیزوں کو ہم تک لانے کا ذریعہ بنے گا، میں نہیں سمجھتا کہ حکومت کو اس سے کوئی فرق پڑے گا کیونکہ اس نے جوئے خانوںکو چلانے کیلیے بھی اجازت دے دی ہے۔