امریکا سے حوصلہ افزا اشارے
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے دورہ امریکا کے مثبت اثرات اس وقت کھل کر سامنے آ گئے جب امریکا کے محکمہ خارجہ نے...
فوٹو: فائل
DHAKA:
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے دورہ امریکا کے مثبت اثرات اس وقت کھل کر سامنے آ گئے جب امریکا کے محکمہ خارجہ نے کانگریس سے پاکستان کی معطل شدہ 30 کروڑ ڈالر کی امداد جاری کرنے کی باضابطہ درخواست کر دی۔ ایبٹ آباد آپریشن اور سانحہ سلالہ کے بعد پاکستان اور امریکا کے درمیان جو کشیدگی پیدا ہوئی تھی' اس کے نتیجے میں پاکستان نے افغانستان میں موجود نیٹو اور امریکی فوج کے لیے راہداری کی سہولت ختم کردی تھی جب کہ امریکا نے پاکستان کی یہ فوجی امداد بند کر دی تھی تاہم 857 ملین ڈالر کی سویلین امداد جاری رہی تھی۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان میری ہاف نے کہا ہے کہ فوجی امداد کی بحالی سے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو گا جو مغربی سرحد پر واقع علاقوں میں تشدد کے خاتمے کے لیے ضروری ہے۔ یہ پیش رفت وزیراعظم نواز شریف کی صدر اوباما سے ملاقات سے پہلے ہوئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ وزیراعظم پاکستان کو مثبت اشارے دے رہی ہے اور وہ پاکستان کو سنجیدہ لے رہی ہے' اس تناظر میں دیکھا جائے تو وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا دورہ امریکا خاصا کامیاب رہے گا۔ ادھر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے دورہ امریکا کے آغاز پر اگلے روز واشنگٹن میں انتہائی مصروف دن گزارا۔
انھوں نے امریکا کے خارجہ امور اور توانائی کے وزراء اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارٹن ڈیمپسی سے ملاقاتوں کے علاوہ پاک امریکا بزنس کونسل کے اجلاس سے بھی خطاب کیا اور امریکی تجارتی نمائندے مائیکل فرومین سے بھی ملے۔ امریکا کے وزیر خارجہ جان کیری کے ساتھ ملاقات 3 گھنٹے سے زائد دورانیے پر محیط تھی' وزیراعظم اور امریکی وزیر خارجہ کی ملاقات میں انتہا پسندی جیسے مسائل کے خلاف مل کر کام کرنے' توانائی' تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعظم پاکستان آج بدھ کوصدر باراک اوباما اور نائب صدر جوبائیڈن سے ملاقات کریں گے۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے امریکا روانہ ہونے سے پہلے ایسی اطلاعات منظر عام پر آئیں کہ اس دورے سے بہت زیادہ توقعات نہیں رکھی جانی چاہئیں لیکن اب امریکا سے جو خبریں آ رہی ہیں' وہ خاصی حوصلہ افزا ہیں اور ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں خاصی سنجیدہ ہے۔ 30 کروڑ ڈالر کی معطل شدہ امداد کی بحالی کی درخواست اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے اگلے روز جن امریکی وزراء سے ملاقات کی' وہاں سے بھی کوئی اختلافی نکتہ سامنے نہیں آیا' امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسی سے ملاقات بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
اس ملاقات میں یقینی طور پر انتہائی اہمیت کے معاملات زیر بحث آئے ہوں گے۔ عالمی اسٹرٹیجک امور ہوں یا جنوبی ایشیا اور وسط ایشیاکے معاملات ہوں' امریکا کو اس وقت ایسے بااعتماد اتحادیوں اور دوستوں کی ضرورت ہے جو اسے بحرانی صورت حال سے نکالنے میں مدد گار ہوں۔ افغانستان کے بحران سے نکلنے کے لیے امریکا کو پاکستان کی بہت ضرورت ہے۔ ادھر پاکستان کے لیے بھی یہ بحران وبال جان بنا ہوا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دونوں ملک ایک دوسرے کے اتحادی ہیں۔
یوں دیکھا جائے تو اس خطے میں تعاون کا معاملہ یکطرفہ نہیں رہا بلکہ دو طرفہ ہو گیا ہے' اگر امریکا کو پاکستان کی ضرورت ہے تو پاکستان کو امریکا کی ضرورت ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت کو اس حقیقت کا ادراک ہو چکا ہے۔ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو اب کھل کر اس بات کا اظہار کرنا پڑے گا کہ امریکا پاکستان کی ضرورت ہے اور ہم نے مستقبل میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنا ہے' یہ سوچ اور طرز عمل امریکی انتظامیہ کو بھی اپنانا پڑے گا۔ڈرون حملوں کے معاملے میں امریکا اپنے رویے میں لچک پیدا کرکے اچھا پیغام دے سکتا ہے۔
اسی طرح پاکستان کو بھی طالبان کے حوالے سے غیر مبہم پالیسی اختیار کرنی ہوگی، اس حوالے سے صرف امریکا ہی نہیں بلکہ پاکستانی قوم کو بھی اعتماد میں لینا ہوگا۔اچھے طالبان اور برے طالبان کی اصطلاح شاید اب پرانی ہوگئی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے زمینی حقائق کو سامنا رکھنا پڑے گا، خواہشوں یا سازشوں کا دور ختم کرکے ہی آگے بڑھا جاسکتا ہے۔
امریکا کی انتظامیہ کو پاکستان کے اقتصادی بحران کے خاتمے کے لیے بھی اہم کردار ادا کرنا ہو گا۔ پاکستان کے لیے اس وقت اقتصادی سرگرمیوں کو رواں رکھنے کے لیے توانائی بحران کے خاتمے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے امریکا کے وزیر توانائی ارنسٹ مائیو سے ملاقات میں کہا ہے کہ توانائی بحران پاکستان کا بڑا مسئلہ ہے' امریکا اس بحران کے خاتمے میں پاکستان کی مدد کرے کیونکہ توانائی بحران موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق امریکی وزیر توانائی نے یقین دلایا ہے کہ امریکا توانائی کے شعبے میں تعاون جاری رکھے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس معاملے میں امریکا کتنی سنجیدگی دکھاتا ہے' جہاں تک دہشت گردی کے خلاف جنگ کا تعلق ہے تو اس حوالے سے بھی غلط فہمیوں کے خاتمے کی ضرورت ہے۔ دونوں ملکوں کے پالیسی سازوں کو اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ ابہام غلط فہمیاں پیدا کرتے ہیں' دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے دونوں ملکوں کو سنجیدگی اور مخلصی کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا' اس طریقے سے ہی یہ جنگ جیتی جا سکتی ہے۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے دورہ امریکا کے مثبت اثرات اس وقت کھل کر سامنے آ گئے جب امریکا کے محکمہ خارجہ نے کانگریس سے پاکستان کی معطل شدہ 30 کروڑ ڈالر کی امداد جاری کرنے کی باضابطہ درخواست کر دی۔ ایبٹ آباد آپریشن اور سانحہ سلالہ کے بعد پاکستان اور امریکا کے درمیان جو کشیدگی پیدا ہوئی تھی' اس کے نتیجے میں پاکستان نے افغانستان میں موجود نیٹو اور امریکی فوج کے لیے راہداری کی سہولت ختم کردی تھی جب کہ امریکا نے پاکستان کی یہ فوجی امداد بند کر دی تھی تاہم 857 ملین ڈالر کی سویلین امداد جاری رہی تھی۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان میری ہاف نے کہا ہے کہ فوجی امداد کی بحالی سے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو گا جو مغربی سرحد پر واقع علاقوں میں تشدد کے خاتمے کے لیے ضروری ہے۔ یہ پیش رفت وزیراعظم نواز شریف کی صدر اوباما سے ملاقات سے پہلے ہوئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ وزیراعظم پاکستان کو مثبت اشارے دے رہی ہے اور وہ پاکستان کو سنجیدہ لے رہی ہے' اس تناظر میں دیکھا جائے تو وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا دورہ امریکا خاصا کامیاب رہے گا۔ ادھر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے دورہ امریکا کے آغاز پر اگلے روز واشنگٹن میں انتہائی مصروف دن گزارا۔
انھوں نے امریکا کے خارجہ امور اور توانائی کے وزراء اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارٹن ڈیمپسی سے ملاقاتوں کے علاوہ پاک امریکا بزنس کونسل کے اجلاس سے بھی خطاب کیا اور امریکی تجارتی نمائندے مائیکل فرومین سے بھی ملے۔ امریکا کے وزیر خارجہ جان کیری کے ساتھ ملاقات 3 گھنٹے سے زائد دورانیے پر محیط تھی' وزیراعظم اور امریکی وزیر خارجہ کی ملاقات میں انتہا پسندی جیسے مسائل کے خلاف مل کر کام کرنے' توانائی' تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعظم پاکستان آج بدھ کوصدر باراک اوباما اور نائب صدر جوبائیڈن سے ملاقات کریں گے۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے امریکا روانہ ہونے سے پہلے ایسی اطلاعات منظر عام پر آئیں کہ اس دورے سے بہت زیادہ توقعات نہیں رکھی جانی چاہئیں لیکن اب امریکا سے جو خبریں آ رہی ہیں' وہ خاصی حوصلہ افزا ہیں اور ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں خاصی سنجیدہ ہے۔ 30 کروڑ ڈالر کی معطل شدہ امداد کی بحالی کی درخواست اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے اگلے روز جن امریکی وزراء سے ملاقات کی' وہاں سے بھی کوئی اختلافی نکتہ سامنے نہیں آیا' امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسی سے ملاقات بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
اس ملاقات میں یقینی طور پر انتہائی اہمیت کے معاملات زیر بحث آئے ہوں گے۔ عالمی اسٹرٹیجک امور ہوں یا جنوبی ایشیا اور وسط ایشیاکے معاملات ہوں' امریکا کو اس وقت ایسے بااعتماد اتحادیوں اور دوستوں کی ضرورت ہے جو اسے بحرانی صورت حال سے نکالنے میں مدد گار ہوں۔ افغانستان کے بحران سے نکلنے کے لیے امریکا کو پاکستان کی بہت ضرورت ہے۔ ادھر پاکستان کے لیے بھی یہ بحران وبال جان بنا ہوا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دونوں ملک ایک دوسرے کے اتحادی ہیں۔
یوں دیکھا جائے تو اس خطے میں تعاون کا معاملہ یکطرفہ نہیں رہا بلکہ دو طرفہ ہو گیا ہے' اگر امریکا کو پاکستان کی ضرورت ہے تو پاکستان کو امریکا کی ضرورت ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت کو اس حقیقت کا ادراک ہو چکا ہے۔ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو اب کھل کر اس بات کا اظہار کرنا پڑے گا کہ امریکا پاکستان کی ضرورت ہے اور ہم نے مستقبل میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنا ہے' یہ سوچ اور طرز عمل امریکی انتظامیہ کو بھی اپنانا پڑے گا۔ڈرون حملوں کے معاملے میں امریکا اپنے رویے میں لچک پیدا کرکے اچھا پیغام دے سکتا ہے۔
اسی طرح پاکستان کو بھی طالبان کے حوالے سے غیر مبہم پالیسی اختیار کرنی ہوگی، اس حوالے سے صرف امریکا ہی نہیں بلکہ پاکستانی قوم کو بھی اعتماد میں لینا ہوگا۔اچھے طالبان اور برے طالبان کی اصطلاح شاید اب پرانی ہوگئی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے زمینی حقائق کو سامنا رکھنا پڑے گا، خواہشوں یا سازشوں کا دور ختم کرکے ہی آگے بڑھا جاسکتا ہے۔
امریکا کی انتظامیہ کو پاکستان کے اقتصادی بحران کے خاتمے کے لیے بھی اہم کردار ادا کرنا ہو گا۔ پاکستان کے لیے اس وقت اقتصادی سرگرمیوں کو رواں رکھنے کے لیے توانائی بحران کے خاتمے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے امریکا کے وزیر توانائی ارنسٹ مائیو سے ملاقات میں کہا ہے کہ توانائی بحران پاکستان کا بڑا مسئلہ ہے' امریکا اس بحران کے خاتمے میں پاکستان کی مدد کرے کیونکہ توانائی بحران موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق امریکی وزیر توانائی نے یقین دلایا ہے کہ امریکا توانائی کے شعبے میں تعاون جاری رکھے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس معاملے میں امریکا کتنی سنجیدگی دکھاتا ہے' جہاں تک دہشت گردی کے خلاف جنگ کا تعلق ہے تو اس حوالے سے بھی غلط فہمیوں کے خاتمے کی ضرورت ہے۔ دونوں ملکوں کے پالیسی سازوں کو اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ ابہام غلط فہمیاں پیدا کرتے ہیں' دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے دونوں ملکوں کو سنجیدگی اور مخلصی کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا' اس طریقے سے ہی یہ جنگ جیتی جا سکتی ہے۔