بلوچستان میں ٹرین بم دھماکا
بلوچستان کے شہر ڈیرہ مراد جمالی میں شوری ریلوے اسٹیشن کے قریب راولپنڈی سے کوئٹہ جانے والی جعفرایکسپریس کو...
جعفر ایکسپریس دھماکے میں 7 افراد جاں بحق اور 20 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ فوٹو: رائٹرز
بلوچستان کے شہر ڈیرہ مراد جمالی میں شوری ریلوے اسٹیشن کے قریب راولپنڈی سے کوئٹہ جانے والی جعفرایکسپریس کو ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں صادق آباد کے3 سگے بھائیوں سمیت7 افراد جا ںبحق جب کہ20زخمی ہوگئے، ٹرین کی2 بوگیاں الٹ گئیں اور 4پٹڑی سے اترگئیں، 100فٹ سے زائد ریلوے ٹریک کونقصان پہنچا ۔بلوچستان میں مسافر ٹرینوں اور بسوں پر فائرنگ کے ان گنت واقعات ہوچکے ہیں اور گزشتہ روز کا سانحہ اس اعتبار سے اندوہ ناک ہے کہ اس میں بیگناہ انسانون کو نشانہ بنایا گیا۔
ادھرکیچ(مکران) میں دہشت گردوں نے ایک عرب شیخ کے عارضی شکار کیمپ پر حملہ کیا جس میں ایک لیویز اہلکارجاںبحق ہوگیا ۔حملہ آور دو گاڑیاں اور تین کلاشنکوفیں چھین کر فرار ہوگئے جب کہ پشاور چیک پوسٹ پر حملے میں شہید 4 اہلکار سپرد خاک کردیے گئے۔بالخصوص بلوچستان کی صورتحال بگڑتی جارہی ہے اور ابھی تک بلوچستان حکومت کا امن وامان کے قیام اور ناراض بلوچ رہنمائوں سے رابطہ کی کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آئی،ایک اطلاع کے مطابق صوبائی حکومت نے اے پی سی کی تیاریاںشروع کردی ہیں تاہم سب سے اہم ٹاسک امن و امان اورحکومت کی رٹ قائم کرنے کا ہے، بلوچستان قتل گاہ میں تبدیل ہوتا جارہا ہے اور حالیہ ٹرین بم دھماکا دہشت گردی میں تسلسل اور شدت کی عکاسی کرتا ہے۔
جس کی طرف وفاق اور صوبائی انتظامیہ کوتوجہ دینی چاہیے اور مشترکہ طور پر تخریب کاری کی روک تھام کے لیے ایکشن لینا چاہیے۔سرکاری ذرائع کے مطابق تخریب کاروں نے ٹریک پر ریموٹ کنٹرول بم نصب کیا تھا جس کا نشانہ ٹرین کے انجن کو بنایا گیا تاہم ڈبے بم دھماکے کی زد میں آگئے، بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق 10سے 15 کلو گرام تک بارودی مواد استعمال کیا گیا ، ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبے کی مسافر ٹرینوں اور بسوں سمیت تمام اہم تنصیبات اور بین الصوبائی سفری راستوں کو دہشت گردی اور تخریب کاری سے محفوظ رکھنے کے لیے فورس میں اضافہ ناگزیر ہے۔ وفاقی وزیرریلوے سعد رفیق نے دھماکے کی تحقیقات کا حکم دے دیاجب کہ ان کی ہدایت پر ریلوے حکام نے مسافروں کی سہولت کے لیے 2 ریلیف ٹرینیں بھی روانہ کردیں۔تاہم ارباب اختیار بلوچستان کے مسائل اور بحران کا کوئی جامع سیاسی حل تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ راست اقدام کی تیاری بھی کرلیں، بات چیت کا راستہ بند نہ کیا جائے لیکن شہریوں کو ہلاکتوں سے بچانا اولین ذمے داری ہے۔امید کی جانی چاہیے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر مالک اے پی سی میں دہشت گردی سے نمٹنے کا کوئی ٹھوس حل نکالنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔
ادھرکیچ(مکران) میں دہشت گردوں نے ایک عرب شیخ کے عارضی شکار کیمپ پر حملہ کیا جس میں ایک لیویز اہلکارجاںبحق ہوگیا ۔حملہ آور دو گاڑیاں اور تین کلاشنکوفیں چھین کر فرار ہوگئے جب کہ پشاور چیک پوسٹ پر حملے میں شہید 4 اہلکار سپرد خاک کردیے گئے۔بالخصوص بلوچستان کی صورتحال بگڑتی جارہی ہے اور ابھی تک بلوچستان حکومت کا امن وامان کے قیام اور ناراض بلوچ رہنمائوں سے رابطہ کی کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آئی،ایک اطلاع کے مطابق صوبائی حکومت نے اے پی سی کی تیاریاںشروع کردی ہیں تاہم سب سے اہم ٹاسک امن و امان اورحکومت کی رٹ قائم کرنے کا ہے، بلوچستان قتل گاہ میں تبدیل ہوتا جارہا ہے اور حالیہ ٹرین بم دھماکا دہشت گردی میں تسلسل اور شدت کی عکاسی کرتا ہے۔
جس کی طرف وفاق اور صوبائی انتظامیہ کوتوجہ دینی چاہیے اور مشترکہ طور پر تخریب کاری کی روک تھام کے لیے ایکشن لینا چاہیے۔سرکاری ذرائع کے مطابق تخریب کاروں نے ٹریک پر ریموٹ کنٹرول بم نصب کیا تھا جس کا نشانہ ٹرین کے انجن کو بنایا گیا تاہم ڈبے بم دھماکے کی زد میں آگئے، بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق 10سے 15 کلو گرام تک بارودی مواد استعمال کیا گیا ، ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبے کی مسافر ٹرینوں اور بسوں سمیت تمام اہم تنصیبات اور بین الصوبائی سفری راستوں کو دہشت گردی اور تخریب کاری سے محفوظ رکھنے کے لیے فورس میں اضافہ ناگزیر ہے۔ وفاقی وزیرریلوے سعد رفیق نے دھماکے کی تحقیقات کا حکم دے دیاجب کہ ان کی ہدایت پر ریلوے حکام نے مسافروں کی سہولت کے لیے 2 ریلیف ٹرینیں بھی روانہ کردیں۔تاہم ارباب اختیار بلوچستان کے مسائل اور بحران کا کوئی جامع سیاسی حل تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ راست اقدام کی تیاری بھی کرلیں، بات چیت کا راستہ بند نہ کیا جائے لیکن شہریوں کو ہلاکتوں سے بچانا اولین ذمے داری ہے۔امید کی جانی چاہیے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر مالک اے پی سی میں دہشت گردی سے نمٹنے کا کوئی ٹھوس حل نکالنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔