وزیر بلدیات نے افسروں کی ترقی کا ریکارڈ طلب کر لیا
خلاف ضابطہ ترقی حاصل کرنے والے افسر کی تنزلی سمیت ترقی دینے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی ہوگی، صوبائی وزیر
صوبائی وزیر اویس مظفر کی سربراہی میں 4 رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم، سندھ کے تمام بلدیاتی اداروں کے سربراہان 3دن میں ریکارڈ جمع کرادیں، حکم نامہ جاری۔ فوٹو: فائل
بلدیہ عظمیٰ کراچی،سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی،کراچی واٹر بورڈ سمیت صوبے کے تمام بلدیاتی اداروں میں گزشتہ 10 سال کے دوران گریڈ 16اور اس سے اوپر کی اسامیوں پر اگلے گریڈ میں ترقیاں حاصل کرنے والے افسران کی مکمل فہرستیں صوبائی وزیر بلدیات سید اویس مظفر نے بمعہ ریکارڈ طلب کرلی ہیں اور تمام بلدیاتی اداروں کے ایڈمنسٹریٹرز اور سربراہان کوہدایت کی ہے کہ 3 روز میں ان افسران کی فہرستیں محکمہ بلدیات کو فراہم کی جائیں ہدایات پر عمل نہ کرنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
وزیر بلدیات سید اویس مظفر نے کہا ہے کہ اگر بلدیاتی اداروں میں کسی افسر نے خلاف ضابطہ ترقی حاصل کی ہے تو اس افسر کی نہ صرف تنزلی کی جائے گی بلکہ جس مجاز اتھارٹی نے مذکورہ افسر کو غیر قانونی طور پر ترقی دی ہوگی اس کے خلاف بھی سخت محکمہ جاتی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
محکمہ بلدیات حکومت سندھ کے جاری حکم نامے (نوٹیفکیشن) کے مطابق وزیر بلدیات سید اویس مظفر کی ہدایت پر سیکریٹری بلدیات نے ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ کراچی ، ایڈمنسٹریٹر و چیف آفیسرز ڈسٹرکٹ کونسلز سندھ ، ایڈمنسٹریٹر میونسپل کمیٹیز، ٹاؤن کمیٹیز ، ڈائریکٹر جنرلز ادارہ ترقیات ملیرلیاری ، حیدرآباد ، لاڑکانہ اور سکھر ، ایم ڈی کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ سمیت تمام بلدیاتی اداروں کے سربراہان کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ ان کے ماتحت بلدیاتی اداروں میں جن گریڈ 16اور اس سے اوپر کے افسران کو گزشتہ10سال میں اگلے گریڈ میں ترقیاں دی گئی ہیں ان افسران کی فہرستیں 3 روز میں مرتب کرکے مکمل ریکارڈ کے ساتھ محکمہ بلدیات میں جمع کرائی جائیں۔
حکم نامے کے مطابق محکمہ بلدیات نے تمام بلدیاتی اداروں کے سربراہان پر واضح کیا ہے کہ اگر ان ہدایات پر عمل نہ کیا گیا تو ان کے خلاف بھی سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، محکمہ بلدیات کے جاری ایک اور حکم نامے کے مطابق وزیر بلدیات سید اویس مظفر کی سربراہی میں 4 رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔
جس میں سکریٹری بلدیات، ایڈیشنل سکریٹری سروسز ون محکمہ سروسز ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈی نیشن اور ایڈیشنل سکریٹری ہاؤسنگ ٹاؤن پلاننگ محکمہ بلدیات شامل ہیں،کمیٹی ان تمام ترقیوں کا مرحلہ وار جائزہ لے گی اور جن افسران کو خلاف ضابطہ ترقیاں دی گئی ہیں ان کی ترقیاں نہ صرف منسوخ کی جائیں گی بلکہ ان کی تنزلی کرکے ان کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی،واضح رہے کہ گزشتہ 10سال میں سیکڑوں افسران کو کے ایم سی سمیت دیگر بلدیاتی اداروں میں اگلے گریڈ میں خلاف ضابطہ ترقیاں دی گئیں ہیں جن کا وزیر بلدیات سید اویس مظفر نے نوٹس لیا ہے اور اس حوالے سے وسیع پیمانے پر تحقیقات شروع ہوگئی ہے۔
وزیر بلدیات سید اویس مظفر نے کہا ہے کہ اگر بلدیاتی اداروں میں کسی افسر نے خلاف ضابطہ ترقی حاصل کی ہے تو اس افسر کی نہ صرف تنزلی کی جائے گی بلکہ جس مجاز اتھارٹی نے مذکورہ افسر کو غیر قانونی طور پر ترقی دی ہوگی اس کے خلاف بھی سخت محکمہ جاتی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
محکمہ بلدیات حکومت سندھ کے جاری حکم نامے (نوٹیفکیشن) کے مطابق وزیر بلدیات سید اویس مظفر کی ہدایت پر سیکریٹری بلدیات نے ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ کراچی ، ایڈمنسٹریٹر و چیف آفیسرز ڈسٹرکٹ کونسلز سندھ ، ایڈمنسٹریٹر میونسپل کمیٹیز، ٹاؤن کمیٹیز ، ڈائریکٹر جنرلز ادارہ ترقیات ملیرلیاری ، حیدرآباد ، لاڑکانہ اور سکھر ، ایم ڈی کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ سمیت تمام بلدیاتی اداروں کے سربراہان کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ ان کے ماتحت بلدیاتی اداروں میں جن گریڈ 16اور اس سے اوپر کے افسران کو گزشتہ10سال میں اگلے گریڈ میں ترقیاں دی گئی ہیں ان افسران کی فہرستیں 3 روز میں مرتب کرکے مکمل ریکارڈ کے ساتھ محکمہ بلدیات میں جمع کرائی جائیں۔
حکم نامے کے مطابق محکمہ بلدیات نے تمام بلدیاتی اداروں کے سربراہان پر واضح کیا ہے کہ اگر ان ہدایات پر عمل نہ کیا گیا تو ان کے خلاف بھی سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، محکمہ بلدیات کے جاری ایک اور حکم نامے کے مطابق وزیر بلدیات سید اویس مظفر کی سربراہی میں 4 رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔
جس میں سکریٹری بلدیات، ایڈیشنل سکریٹری سروسز ون محکمہ سروسز ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈی نیشن اور ایڈیشنل سکریٹری ہاؤسنگ ٹاؤن پلاننگ محکمہ بلدیات شامل ہیں،کمیٹی ان تمام ترقیوں کا مرحلہ وار جائزہ لے گی اور جن افسران کو خلاف ضابطہ ترقیاں دی گئی ہیں ان کی ترقیاں نہ صرف منسوخ کی جائیں گی بلکہ ان کی تنزلی کرکے ان کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی،واضح رہے کہ گزشتہ 10سال میں سیکڑوں افسران کو کے ایم سی سمیت دیگر بلدیاتی اداروں میں اگلے گریڈ میں خلاف ضابطہ ترقیاں دی گئیں ہیں جن کا وزیر بلدیات سید اویس مظفر نے نوٹس لیا ہے اور اس حوالے سے وسیع پیمانے پر تحقیقات شروع ہوگئی ہے۔