سندھ کو منتقل اسپتالوں کے مستقبل پر قائمہ کمیٹی کااجلاس طلب
سینیٹ کے 13 اراکین اورتینوں اسپتالوں کے سربراہ بھی 24 اکتوبر کو مدعو
سینیٹ قائمہ کمیٹی کااجلاس سینیٹر سید ظفرعلی شاہ کی سربراہی میں ہوگا۔فوٹو: فائل
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے جناح اسپتال،قومی ادارہ امراض قلب اور قومی ادارہ اطفال برائے صحت کے سربراہوںکو24اکتوبرکوہونیوالے اجلاس میںطلب کرلیا۔
سینیٹ سیکریٹریٹ سے جاری ہونے والے اجلاس کے ایجنڈے میں تینوں اسپتالوں کے حوالے سے بریفنگ اوردیگراموربھی شامل ہیں،سینیٹ قائمہ کمیٹی کااجلاس سینیٹر سید ظفرعلی شاہ کی سربراہی میں ہوگاجس میں سینیٹر عبد الحسیب خان،سینیٹرکریم احمد خواجہ سمیت 13 سینیٹرز شرکت کریں گے، اجلاس میں وفاق سے صوبوں کومنتقل کیے جانے والے کراچی کے جناح ، امراض قلب اور امراض اطفال تینوں اسپتالوں اوران کے مسائل کا بھی جائزہ لیاجائیگا۔
واضح رہے کہ ان تینوں اسپتالوں کو2سال قبل صوبائی خود مختاری کے تحت صوبوں کے حوالے کیاگیا تھا تاہم جناح اسپتال کے ملازمین نے صوبائی حکومت میں جانے کیخلاف متعلقہ عدالت سے حکم امتناعی حاصل کررکھا ہے جس کا مقدمہ زیر سماعت ہے، موجودہ صورتحال میں تینوں اسپتالوں کی انتظامیہ کسی کو جواب دہ نہیں اور ان تینوں اسپتالوں کے مسائل بھی اپنی جگہ بدستور قائم ہیں لیکن ملازمین اور ڈاکٹروں کے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے، ان اسپتالوں کے بیشتر یونٹوں کے سربراہوں کے ریٹائرمنٹ کے بعد بیشتر یونٹوں میں کسی سینئرپروفیسرزکی تعیناتیاں نہیں کی جاسکیں جبکہ دیگر ملازمین کے ریٹائرڈ ہونے کے بعدان اسامیوں پر کسی کوبھرتی نہیں کیاجاسکا۔
سینیٹ سیکریٹریٹ سے جاری ہونے والے اجلاس کے ایجنڈے میں تینوں اسپتالوں کے حوالے سے بریفنگ اوردیگراموربھی شامل ہیں،سینیٹ قائمہ کمیٹی کااجلاس سینیٹر سید ظفرعلی شاہ کی سربراہی میں ہوگاجس میں سینیٹر عبد الحسیب خان،سینیٹرکریم احمد خواجہ سمیت 13 سینیٹرز شرکت کریں گے، اجلاس میں وفاق سے صوبوں کومنتقل کیے جانے والے کراچی کے جناح ، امراض قلب اور امراض اطفال تینوں اسپتالوں اوران کے مسائل کا بھی جائزہ لیاجائیگا۔
واضح رہے کہ ان تینوں اسپتالوں کو2سال قبل صوبائی خود مختاری کے تحت صوبوں کے حوالے کیاگیا تھا تاہم جناح اسپتال کے ملازمین نے صوبائی حکومت میں جانے کیخلاف متعلقہ عدالت سے حکم امتناعی حاصل کررکھا ہے جس کا مقدمہ زیر سماعت ہے، موجودہ صورتحال میں تینوں اسپتالوں کی انتظامیہ کسی کو جواب دہ نہیں اور ان تینوں اسپتالوں کے مسائل بھی اپنی جگہ بدستور قائم ہیں لیکن ملازمین اور ڈاکٹروں کے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے، ان اسپتالوں کے بیشتر یونٹوں کے سربراہوں کے ریٹائرمنٹ کے بعد بیشتر یونٹوں میں کسی سینئرپروفیسرزکی تعیناتیاں نہیں کی جاسکیں جبکہ دیگر ملازمین کے ریٹائرڈ ہونے کے بعدان اسامیوں پر کسی کوبھرتی نہیں کیاجاسکا۔