4 لاپتہ شہریوں کو بازیاب کرواکرعدالت میں پیش کرنیکا حکم

سلیم، ذیشان، اکبر حسین اور ظفر کو رینجرز نے گھروں سے گرفتار کیا تھا، چاروں تاحال لاپتہ ہیں

متعلقہ ایس ایچ اوزبازیابی کیلیے اقدامات کریں،سندھ ہائیکورٹ کے2رکنی بینچ کی ہدایت۔ فوٹو : فائل

سندھ ہائیکورٹ نے 4 لاپتہ شہریوں کی بازیابی کیلیے دائردرخواستوں پرمحکمہ داخلہ،ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ،سربراہ سی آئی ڈی اوردیگرکونوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔

عدالت نے شارع فیصل،بغدادی اور آرام باغ تھانہ کے ایس ایچ اوزکوہدایت کی ہے کہ ان لاپتہ افرادکو بازیاب کرکے آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کیاجائے۔جسٹس ندیم اخترکی سربراہی میں2رکنی بینچ نے درخواستوں کی سماعت کی، فیصل صدیقی نے ڈی جی رینجرز اورآئی جی سندھ سمیت دیگرکوفریق بناتے ہوئے موقف اختیارکیاکہ درخواست گزارکے عزیزسلیم الدین قریشی کورینجرز نے پاکستان چوک کے نزدیک اس کے گھر سے 11 اکتوبر کو حراست لیاتھاوہ تاحال واپس نہیں آیا،محمد املاک کی جانب سے دائردرخواست میں کہاگیاہے کہ آرام باغ تھانے کی حدود میں واقع امینہ مینشن کے رہائشی ہیں،رینجرز نے11اکتوبر2013کو ان کے گھر پر چھاپہ مارااور درخواست گزار کے بیٹے ذیشان کوگرفتار کرکے لے گئے جوتاحال لاپتہ ہے۔




مسمات شائستہ تبسم نے اپنی درخواست میں کہاکہ رینجرز نے درخواست گزارکے بھائی محمداکبر حسین کو 11 اکتوبر 2013 کو بلاک 15گلستان جوہرمیں واقع اس کے گھر سے گرفتارکیا اور کسی عدالت میں پیش نہیں کیا۔اسی طرح محمد آصف نے آئینی درخواست میں کہاہے کہ اس کے بھائی محمد ظفر کورینجرز نے11اکتوبرکورابعہ سٹی گلستان جوہر سے گرفتار کیا تھامگر اس حوالے سے پولیس بھی تعاون نہیں کررہی اور یہ بھی نہیں بتایا جارہاکہ محمد ظفر کہاں ہے۔عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعدمدعا علیہان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب داخل کرنے کی ہدایت کی اور متعلقہ ایس ایچ اوز کو حکم دیاکہ مذکورہ افراد کی بازیابی کیلئے اقدامات کریں اورآئندہ سماعت پرانہیں پیش کیا جائے۔
Load Next Story