گھر پر حملے اور دھمکیوں کیخلاف ہاری خاتون کا احتجاج
با اثر افراد پر بھائی کو جبری مشقت کے لیے ساتھ لے جانیکا الزام، فوری بازیابی کا مطالبہ۔
حيدرآباد: جيكب آباد كي رہائشي مسمات ثمينہ اپنے والد كے ہمراہ حيدرآباد پريس كلب كے سامنے اپنے شوہر كے خلاف مظاہرہ كر رہي ہے فوٹو: شاہد علی / ایکسپریس
حیدرآباد پریس کلب کے سامنے ہفتہ کے روز بھی ظلم و زیادتی کا شکار افراد نے بااثر افراد کیخلاف اور انصاف کے حصول کیلیے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا۔ ہریجن کالونی ٹنڈو جان محمد کی رہائشی خاتون ہرچند میگھواڑ نے گھر پر حملے اور بھائی کو جبری مشقت کیلیے زبردستی لے جانے کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے الزام عاید کیا کہ 2 ماہ قبل عبدالسلام نامی بااثر زمیندار نے اپنے بیٹے اور دیگر ساتھیوںکے ہمراہ ان کے گھر پر حملہ کردیا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں جبکہ ان کے بھائی پپو کو یہ کہہ کر زبردستی ہمراہ لے گئے کہ جب تک یہ زندہ ہے ہمارے پاس کمائے گا، انھوں نے مطالبہ کیا کہ مذکورہ ملزمان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے بھائی کو بازیاب کرایا جائے۔
جیکب آباد کی رہائشی ثمینہ نے اپنے والد کے ہمراہ شوہر کے خلاف احتجاج کیا اور بتایاکہ اس کی 4 سال قبل شاہد سے شادی ہوئی جس سے ان کی 3 سال کی بچی ہے تاہم شادی کے بعد سے شوہر اسے تشدد کانشانہ بنارہا ہے جس پر اس نے سول کورٹ میں خلع کی درخواست دائرکی جوکہ ابھی زیر سماعت ہے لیکن شوہر مسلسل دھمکیاں دے رہا ہے، انھوں نے مطالبہ کیا کہ اسے تحفظ فراہم کیا جائے۔
ٹنڈو لاشاری کے علاقے میں رہائش پذیر علی نواز نے اپنی اہلیہ زینب کے ہمراہ قبضہ مافیا کے خلاف احتجاج کیا، اس کا کہنا تھاکہ اس کے علاقے میں قبضہ گروپ سرگرم ہے جوکہ لوگوں کے پلاٹوں اور مکانات پر قبضے کرکے انہیں فروخت کرتا ہے، روکنے پروہ اس کے دشمن بن گئے اور دباؤ ڈال رہے ہیں کہ تم بھی ہمارے ساتھ شامل ہو جاؤ بصورت دیگر تمہارا حشر اچھا نہیں ہوگا۔ اس نے مطالبہ کیا کہ قبضہ گروپ کے خلاف کارروائی اور اسے تحفظ فراہم کیا جائے۔
جیکب آباد کی رہائشی ثمینہ نے اپنے والد کے ہمراہ شوہر کے خلاف احتجاج کیا اور بتایاکہ اس کی 4 سال قبل شاہد سے شادی ہوئی جس سے ان کی 3 سال کی بچی ہے تاہم شادی کے بعد سے شوہر اسے تشدد کانشانہ بنارہا ہے جس پر اس نے سول کورٹ میں خلع کی درخواست دائرکی جوکہ ابھی زیر سماعت ہے لیکن شوہر مسلسل دھمکیاں دے رہا ہے، انھوں نے مطالبہ کیا کہ اسے تحفظ فراہم کیا جائے۔
ٹنڈو لاشاری کے علاقے میں رہائش پذیر علی نواز نے اپنی اہلیہ زینب کے ہمراہ قبضہ مافیا کے خلاف احتجاج کیا، اس کا کہنا تھاکہ اس کے علاقے میں قبضہ گروپ سرگرم ہے جوکہ لوگوں کے پلاٹوں اور مکانات پر قبضے کرکے انہیں فروخت کرتا ہے، روکنے پروہ اس کے دشمن بن گئے اور دباؤ ڈال رہے ہیں کہ تم بھی ہمارے ساتھ شامل ہو جاؤ بصورت دیگر تمہارا حشر اچھا نہیں ہوگا۔ اس نے مطالبہ کیا کہ قبضہ گروپ کے خلاف کارروائی اور اسے تحفظ فراہم کیا جائے۔