تحیر خیز سیاسی منظر نامہ

ملکی سیاسی صورتحال تندوتیز سیاسی بیانات کی زد میں ہے۔ حکومت باؤنسر کے موڈ میں ہے، قیاس آرائیوں کا بازارگرم ہے۔

ملکی سیاسی صورتحال تندوتیز سیاسی بیانات کی زد میں ہے۔ حکومت باؤنسر کے موڈ میں ہے، قیاس آرائیوں کا بازارگرم ہے۔ فوٹو: انٹرنیٹ

وزیر اعظم عمران خان نے حکومتی قانونی ٹیم کو نواز شریف سے متعلق لاہورہائیکورٹ کے فیصلہ کا تفصیلی جائزہ لے کر رپورٹ کابینہ میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے، وفاقی کابینہ کا اجلاس آج منگل کو وزیراعظم کی زیر صدارت ہوگا، اور اس ضمن میں 7 نکاتی ایجنڈا جاری کردیا گیا، ذرایع کے مطابق کابینہ میں ملکی سیاسی ومعاشی صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا، وزیراعظم کورکمیٹی کے فیصلوں پر کابینہ کو بھی اعتماد میں لیں گے،کابینہ قانونی ٹیم کی رپورٹ کا جائزہ لے کر آیندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔

دریں اثناء اٹارنی جنرل آف پاکستان انورمنصور خان اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ حکومت کی جیت ہے، شریف برادران نے خود کوعدالت کے پاس گروی رکھوا دیا ہے، عدالت نے اپنے فیصلے میں کابینہ کے فیصلے کی تائید کی ہے جب کہ انڈیمنٹی کے معاملے کو معطل کرتے ہوئے نوازشریف اور شہباز شریف دونوں سے انڈرٹیکنگ لی ہے اگر یہ واپس نہیں آتے تو یہ حکومت کے ساتھ ساتھ اب عدالت کے بھی مجرم ہوںگے، انڈیمنٹی پر عملدرآمدکے لیے ہمیں پھر عدالت میں جانا پڑتا تاہم انڈرٹیکنگ سے معاملہ مزید آسان ہوگیا ہے، چار ہفتوںکے بعد اگر ڈاکٹرز ان کا مزید علاج تجویزکرتے ہیں تو اس کے لیے دوبارہ عدالت سے اجازت لینا ہوگی۔

لاہورہائیکورٹ کے عبوری آرڈرمیں حکومت کی شرائط کو برقرار رکھاگیا ہے، اس آرڈرمیں جو اجازت دی گئی ہے وہ کابینہ پہلے ہی دے چکی ہے' اس عبوری آرڈرکو چیلنج کیا جا سکتا ہے تاہم اس کا فیصلہ کابینہ کرے گی۔وہ اتوارکو پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔

حکومتی ٹیم کے مطابق عدالتی شرائط حکومت سے بھی سخت ہیں، نواز شریف جس ملک میںجائیںگے وہاں بتائیں گے کہ کن شرائط پر آئے ہیں، واپس نہ آئے تو عدالتی مجرم ہونگے، عدالت نے پانچ شرائط رکھی ہیں، قانون کے تحت سزا یافتہ مجرم کو ای سی ایل سے نہیں نکالا جاسکتا۔ شہزاداکبر نے کہاکہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ کابینہ کے سامنے آئی، ذیلی کمیٹی نے نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے حوالے سے اپنا فیصلہ کابینہ کے سامنے رکھا جس کے چار بنیادی نکات تھے۔

ای سی ایل 1981کے قانون اور 2010کے رولزکے مطابق سزا یافتہ مجرم کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا جا سکتا ۔ نواز شریف کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے انسانی بنیادوں پر ایک مرتبہ بیرون ملک جانے کی اجازت کی تجویز دی گئی جب کہ اس کے لیے چار ہفتوںکی مخصوص مدت کی شرط بھی عائدکی گئی۔ اس کے علاوہ صحتیاب ہوتے ہی پاکستان واپس آ کر جیل میں جا کر اپنی سزاکاٹنے کی شرط بھی عائدکی گئی تھی۔ ان اقدامات کا مقصد نواز شریف کی علاج کے بعد وطن واپسی کو یقینی بنانا تھا۔

میڈیا کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف علاج کے لیے ایک ابر آلود سیاسی ماحول میں ایئر ایمبولینس پر لندن روانہ ہونگے، سابق وزیر اعظم کو علامہ اقبال ایئرپورٹ سے متصل حج لاؤنج منتقل کیاجائیگا، انھیں سٹیرائیڈز دینے کا عمل جاری ہے، ادھر ملکی سیاسی صورتحال تندوتیز سیاسی بیانات کی زد میں ہے۔


قیاس آرائیوں کا بازارگرم ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اب امپائرکی انگلی نہیں عوام کی مرضی چلے گی، سلیکٹڈکا کھیل ختم ہوگیا، انھوں نے کہا کہ جیالوں کا کام عوام کا معیار زندگی بلند کرنا ہے، ادھر پی ایم ایل ن کے مرکزی سیکریٹری جنرل احسن اقبال کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت عمران کے بغض کی شکست ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دعوی کیا ہے کہ اگے سال اسمبلیاں تحلیل ہوجائینگی، عمران وزیر اعظم نہیں رہیں گے، 2020 نئے نظام کا سال ہوگا، ق لیگ کی حکومتی اتحادی ہونے کی پرانی پوزیشن اب برقرار نہیں رہی، پرویز الہی قائل ہوکر گئے تھے۔

واضح رہے سیاسی حلقوں نے آزادی مارچ کے دوران چوہدری برادران کے مولانا سے پے در پے ملاقاتوں کو نئے سیاسی امکانات کا پیش خیمہ قرار دیا تھا، چوہدری برادران کی ملاقاتیں حکومتی کمیٹی سے ماورا رابطوں کا ایک اعلامیہ ثابت ہوئیں، حکومتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ اصل طاقت اور مینڈیٹ حکومتی کمیٹی کے پاس ہے، سیاسی ذرایع کا کہنا تھا کہ آزادی مارچ کے اچانک ختم ہونے کا اعلان ملکی سیاست میں ایک سوالیہ نشان بنا اور لوگ چہ مگوئیاں کرنے لگے کہ ایسی کونسی سچوئیشن پیدا ہوگئی تھی کہ مولانا صاحب آزادی مارچ ملتوی کرکے پی پلان کی طرف چلے گئے، باورکیا جاتا ہے کہ پرویز الٰہی کے حالیہ مصالحتی اور مفاہمتی بیانات نے راہ ہموارکرلی تھی۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی کا کہنا ہے کہ کوئی سازشی تھیوری نہیں چلے گی، حکومت کے اتحادی ہیں، اور رہیں گے، انھوں نے کہا کہ دھرنوں کے دوران ٹکراؤ روکنے کے لیے کردارادا کیا، امن وامان قائم رکھنے کا کریڈٹ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر داخلہ اعجاز شاہ کو جاتا ہے، انھوں نے لیگی ارکان کے استعفیٰ واپس لینے کے لیے بھی کردار ادا کرنے کا عندیہ دیا۔

واضح رہے چوہدری برادران نے آزادی مارچ کے دوران جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے پے دیر پے تین ملاقاتیں کرکے سیاسی ہلچل مچا دی تھی، انھیں حکومتی ٹیم سے ماورا کردار ادا کرنے کا جو خوبصورت ٹاسک دیا گیا تھا اسی کا نتیجہ تھا کہ آزادی مارچ اچانک دی اینڈ پر پہنچ اور مولانا صاحب پلان بی کی طرف نکل گئے، اس کے بعد ہی سیاسی چہ مگوئیاں شروع ہوچکی تھیں اور سیاسی طیور نے نئی خبروں ،افواہوں، انکشافات اور امکانات کے شور سے میدان گرم کردیا۔ ایک انگریزی معاصر نے اپنے چینل کی رپورٹ میں صوبائی وزیر منظور وسان سے سیاسی تبدیلی کی بابت سوالات کیے، ادھر شیخ رشید نے بھی ملک میں بیروزگاری، مہنگائی ، اور بیڈ گورننس کا اعتراف کیا۔

تاہم انھوں نے کہا کہ نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کی اجازت کا عدالتی حکم نہ حکومتی کی ہار ہے اور نہ ن لیگ کی جیت ۔ اسی اثنا میں وفاقی وزیر معاشی امور حماد اظہر نے کہا کہ نوازشریف کی سزا ختم نہیں ہوئی ، صرف علاج کی اجازت ملی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ق لیگ حکومت کے ساتھ ہے، ملک کی ترقی وخوشحالی کا مشن جاری ہے، جے یو آئی کے مرکزی سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ حکومت کے اتحادیوں میں دراڑیں پڑنے والی ہیں،آصف علی زرداری کو بھی ریلیف ملنے کا امکان ہے۔

مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگ زیب کا کہنا ہے کہ وزراء عدالتی فیصلے کی من مانی تشریح سے توہین عدالت کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے ایک اہم پیش رفت کے طور پر نواز شریف کے لیے ہمدردی پر تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا اور ان کے بقول دشمنی کی سیاست کی مخالفت پر چوہدری برادران، ایم کیو ایم اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے اظہار تہنیت کیا، شہبازکا کہنا تھا کہ نواز شریف کی پاکستان میں عدم موجودگی پر ان کا مشن جاری رہے گا ، انھوں نے جاتی امرا میں نواز شریف کی عیادت اور طبیعت دریافت کی اور ان کے بیرون ملک روانگی کے معاملات کو حتمی شکل دی۔

حقیقت یہ ہے کہ ملکی سیاسی صورتحال تندوتیز سیاسی بیانات کی زد میں ہے۔ حکومت باؤنسر کے موڈ میں ہے، قیاس آرائیوں کا بازارگرم ہے۔ امکانات ، توقعات ، حادثات اورخدشات سے فضا بوجھل ہوئی جاتی ہے۔ سیاسی سیاق وسباق '' کوئی مرے کوئی ملہارگائے'' سے مرصع ہے۔ الزام تراشی کا سلسلہ جاری ہے، حکومت انسانی ہمدردی اور درگزر کے ایک اہم موڑ پر ہے، ن لیگ سمیت اپوزیشن سیاسی بریک تھروکی طرف جانے کو بے تاب ہے ، آنے والا وقت سیاسی صورتحال کے لیے فلیش پوائنٹ کا ایک تحیر خیز اشاریہ ہوسکتا ہے۔
Load Next Story