شان مسعود کرکٹ وتعلیم میں توازن قائم کرنے میں کامیاب

ٹیسٹ اوپنر کا لندن کی یونیورسٹی سے ڈگری پروگرام جاری ہے۔

قومی ٹیم میں جگہ پکی رکھنے کے لیے مستقل پرفارمنس کی ضرورت ہوگی، بیٹسمین۔ فوٹو: فائل

نئے پاکستانی ٹیسٹ اوپنر شان مسعود نے کرکٹ اور تعلیم میں توازن قائم کررکھا ہے، ابوظبی میںڈیبیو پر ففٹی بنانے والے شان مسعود کو ماضی کے عظیم بیٹسمین ظہیرعباس کی سپورٹ حاصل ہے۔

انھوں نے ثابت کیاکہ وہ مستقبل کا بہترین بیٹسمین بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، شان پاکستان انڈر19ٹیم کے نائب کپتان بھی رہے ہیں، وہ 'اے ' سائیڈ کی بھی نمائندگی کرچکے، خلیجی اخبار کو انٹرویو میں انھوں نے ٹیسٹ کرکٹ تک کے سفر کی کہانی بیان کی ، انھوں نے کہاکہ بین الاقوامی کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کسی اعزاز سے کم نہیں، یہ ہمیشہ ہر کرکٹر کا خواب ہوتا ہے، میں یہ موقع پانے میں کامیاب ہوگیا لیکن اصل آزمائش اب شروع ہوئی،یہ مجھ پر منحصر ہے کہ اس موقع سے کس طرح استفادہ کرتا ہوں، ٹیم میں جگہ پکی رکھنے کیلیے مستقل پرفارمنس کی ضرورت ہے، شان تعلیم اور کھیل کو یکساں اہمیت دینے کے حامی ہیں، انھوں نے کہاکہ میں نے کراچی میں سابق ٹیسٹ بولر سکندر بخت کی اکیڈمی میں شمولیت اختیار کی، میرا بنیادی مقصد خود کو فٹ اور متحرک رکھنا تھا۔




کھیل میں میری دلچسپی کو دیکھتے ہوئے والدین نے میری حوصلہ افزائی کی، میں نے یوبی ایل اکیڈمی کو جوائن کیا جسے سابق انٹرنیشنل کرکٹر منصور اختر سنبھالے ہوئے تھے، میں نے انڈر15میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز پایا اور عاقب جاوید کی زیرنگرانی 2003 میں یواے ای کا دورہ بھی کیا، اس لیول پر میرے کوچز محسن شیخ، منصور رانا اوراعجاز احمد رہے، مجھے اسکول چھوڑنا پڑا لیکن میں نے بعدازاں اپنا ' او ' اور ' اے ' لیول پرائیویٹ طورپر پاس کیا، کرکٹ کے ساتھ تعلیم جاری رکھنا شان کیلیے کسی چیلنج سے کم نہیں تھا لیکن انھوں نے اس کا سامنا عمدگی سے کیا اور اب وہ لندن میں لو برو یونیورسٹی سے ڈگری کی تعلیم لے رہے ہیں، گریجویشن کورس میں وہ 2 برس مکمل کرچکے جبکہ ابھی مزید2برس انھیں ڈگری پانے میں درکار ہیں، یونیورسٹی نے انھیں کرکٹ کھیلنے کی اجازت دیتے ہوئے لیکچرز اور سیمینارز میں آن لائن شریک کررکھا ہے۔

انھوں نے کہاکہ کھیل کے ساتھ تعلیم کا حصول میرے لیے چیلنج تھا اور میں نے اسے قبول کیا، پاکستان میں اچھے اسکول میں پڑھنا اور کرکٹ کھیلنا بہت مشکل ہے، میں اس تاثر کو بدلنا چاہتا تھا کہ پاکستان کی نمائندگی کرنے والے اکثر پلیئرز کا پس منظر مضبوط نہیں ہوتا، انھوں نے مزید کہا کہ میں اپنے ملکی لوگوں کو یہ بھی باور کرانا چاہتا ہوں کہ کرکٹ اور تعلیم ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں، مجھے امید ہے کہ مستقبل میں اعلی تعلیم یافتہ گھرانوں سے بھی کرکٹرز ملکی ٹیم میں آئیںگے جس سے دیگر پلیئرز میں بھی تعلیم کی اہمیت بڑھے گی،تعلیم آپ کو بے شمار تعمیری راستے دکھاتی ہے۔ شان ڈومیسٹک کرکٹ میں حبیب بینک کی نمائندگی کرتے ہیں جس کے کپتان یونس خان ہیں۔
Load Next Story