64 سال میں پاکستان نے امریکا سے جتنا پایا اس سے زیادہ گنوایا
امریکاسے68ارب ڈالرامدادملی،پاکستان کا100ارب ڈالرسے زائدکانقصان ہوا
لیاقت علی خان نے اڈے دینے سے انکارکیا،ایوب خان نے دیدیے،افغان جنگ بھی لڑی فائل فوٹو
پاکستان کودی جانے والے امریکی امداد کا پول کھل گیا، قیام پاکستان سے 2012تک 64سالوں میں امریکانے پاکستان کو 68ارب ڈالر امداد دی لیکن اس ایک ارب ڈالرفی سال امدادکے باعث پاکستان کو پوری دنیا میں بدنام کیاگیا۔ امریکی حکام جس ملک کا دورہ کرتے تھے وہاں پر پاکستان کی امدادکا نام لیاجاتا تھا۔
گزشتہ 64 سال میں پاکستان نے جتنا پایا اس سے کہیں زیادہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کھوچکا ہے۔ پاکستان کوآزادی کے بعد سے اب تک ملنے والی امریکی امداد کے حوالے سے ایک رپورٹ کے مطابق 1948سے 2012تک 64 سال میں امریکا 68ارب ڈالرسے زائد کی امدادپاکستان کو دے چکا ہے۔ اس رقم میں سے 42ارب ڈالرپاکستان کو معاشی امداد کی صورت میں ملے جبکہ بقایا 26ارب ڈالر گئے فوجی امداد کی مد میںدیے گئے۔ پاکستان کو 1948میں پہلی بار 7 لاکھ 70 ہزار ڈالر کی رقم معاشی امداد کی صورت میں ملی۔
اس امداد کے ساتھ امریکانے سویت یونین کی جاسوسی کے لیے پاکستان کے ہوائی اڈے استعمال کرنے کی فرمائش بھی کی مگرشہید لیاقت علی خان نے جووزارت عظمیٰ کے منصب پر فائزتھے، انکار کردیا۔ اس پرامریکاناراض ہوگیا۔ 1951 میں لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد امداد کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوا۔ 1964تک اس میںاتنا اضافہ ہواکہ اس سال پاکستان کو معاشی اور فوجی امداد کی مد میں تقریباً ڈھائی ارب ڈالرملے۔ یہ جنرل ایوب خان کادور تھاجب امریکاکو سوویت یونین کی جاسوسی کے لیے فوجی اڈے بھی مہیا کیے گئے۔
1965کی جنگ کے بعدامداد میں کمی آنا شروع ہوگئی۔ 1971یعنی سقوط ڈھاکاتک اتنی کمی آئی کہ اس ایک سال میں پاکستان کے لیے امریکی امدادکا حجم صرف 47کروڑ ڈالررہا۔ 1974میں امریکانے پاکستان کے جوہری پروگرام کوبنیاد بنا کرپابندیاں لگادیں اور 1979میں قانون پاس کرکے امداد کا دروازہ کافی حد تک بند کردیا۔ دسمبر 1979میں سوویت فوجوں کی افغانستان پرچڑھائی نے پاکستان کی اہمیت کودوبارہ اجاگر کردیا۔ 1982میں امریکانے معاشی وفوجی امداد دینے کا سلسلہ پھر شروع کردیا۔
1983سے 1988 تک یہ سلسلہ اتنا بڑھا کہ پاکستان کوسالانہ ایک ارب ڈالرتک امدادملی۔ اس عرصے میں ڈالروں کی بارش تو ہوئی مگر ہیروئن، کلاشنکوف اورشدت پسندی کاکلچر بھی ملک میں جڑپکڑ گیا۔ سوویت فوجوں کے انخلاکے بعد امریکانے اس خطے سے منہ موڑ لیا۔ اکتوبر1990 میں پریسلرترامیم کے تحت پاکستان پرایک بارپھر پابندیاں لگادی گئیں۔ نائن الیون کے ہولناک واقعے کے بعدامریکا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کاآغاز کیاتو اسے ایک بارپھر پاکستان کی یادآئی۔
معاشی اورفوجی پابندیوں کا خاتمہ ہوااور امدادکا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا۔ 2002سے 2012تک امریکاپاکستان کوتقریباً 25ارب ڈالرسے زائدکی امداد دے چکاہے۔ اس میں سے 17ارب ڈالرفوجی اور 8ارب ڈالرسے زائدامداد معاشی مدمیں دی گئی۔اس سب کے باوجوداگر پاکستان کے نقصانات کودیکھا جائے تودہشت گردی کی جنگ میں امریکا کااتحادی بننے سے پاکستان کو 100ارب ڈالرسے زائد کا نقصان ہوچکا ہے۔ یعنی گزشتہ 64سال میں پاکستان نے جتناپایا اس سے کہیں زیادہ کھوچکا ہے۔
گزشتہ 64 سال میں پاکستان نے جتنا پایا اس سے کہیں زیادہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کھوچکا ہے۔ پاکستان کوآزادی کے بعد سے اب تک ملنے والی امریکی امداد کے حوالے سے ایک رپورٹ کے مطابق 1948سے 2012تک 64 سال میں امریکا 68ارب ڈالرسے زائد کی امدادپاکستان کو دے چکا ہے۔ اس رقم میں سے 42ارب ڈالرپاکستان کو معاشی امداد کی صورت میں ملے جبکہ بقایا 26ارب ڈالر گئے فوجی امداد کی مد میںدیے گئے۔ پاکستان کو 1948میں پہلی بار 7 لاکھ 70 ہزار ڈالر کی رقم معاشی امداد کی صورت میں ملی۔
اس امداد کے ساتھ امریکانے سویت یونین کی جاسوسی کے لیے پاکستان کے ہوائی اڈے استعمال کرنے کی فرمائش بھی کی مگرشہید لیاقت علی خان نے جووزارت عظمیٰ کے منصب پر فائزتھے، انکار کردیا۔ اس پرامریکاناراض ہوگیا۔ 1951 میں لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد امداد کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوا۔ 1964تک اس میںاتنا اضافہ ہواکہ اس سال پاکستان کو معاشی اور فوجی امداد کی مد میں تقریباً ڈھائی ارب ڈالرملے۔ یہ جنرل ایوب خان کادور تھاجب امریکاکو سوویت یونین کی جاسوسی کے لیے فوجی اڈے بھی مہیا کیے گئے۔
1965کی جنگ کے بعدامداد میں کمی آنا شروع ہوگئی۔ 1971یعنی سقوط ڈھاکاتک اتنی کمی آئی کہ اس ایک سال میں پاکستان کے لیے امریکی امدادکا حجم صرف 47کروڑ ڈالررہا۔ 1974میں امریکانے پاکستان کے جوہری پروگرام کوبنیاد بنا کرپابندیاں لگادیں اور 1979میں قانون پاس کرکے امداد کا دروازہ کافی حد تک بند کردیا۔ دسمبر 1979میں سوویت فوجوں کی افغانستان پرچڑھائی نے پاکستان کی اہمیت کودوبارہ اجاگر کردیا۔ 1982میں امریکانے معاشی وفوجی امداد دینے کا سلسلہ پھر شروع کردیا۔
1983سے 1988 تک یہ سلسلہ اتنا بڑھا کہ پاکستان کوسالانہ ایک ارب ڈالرتک امدادملی۔ اس عرصے میں ڈالروں کی بارش تو ہوئی مگر ہیروئن، کلاشنکوف اورشدت پسندی کاکلچر بھی ملک میں جڑپکڑ گیا۔ سوویت فوجوں کے انخلاکے بعد امریکانے اس خطے سے منہ موڑ لیا۔ اکتوبر1990 میں پریسلرترامیم کے تحت پاکستان پرایک بارپھر پابندیاں لگادی گئیں۔ نائن الیون کے ہولناک واقعے کے بعدامریکا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کاآغاز کیاتو اسے ایک بارپھر پاکستان کی یادآئی۔
معاشی اورفوجی پابندیوں کا خاتمہ ہوااور امدادکا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا۔ 2002سے 2012تک امریکاپاکستان کوتقریباً 25ارب ڈالرسے زائدکی امداد دے چکاہے۔ اس میں سے 17ارب ڈالرفوجی اور 8ارب ڈالرسے زائدامداد معاشی مدمیں دی گئی۔اس سب کے باوجوداگر پاکستان کے نقصانات کودیکھا جائے تودہشت گردی کی جنگ میں امریکا کااتحادی بننے سے پاکستان کو 100ارب ڈالرسے زائد کا نقصان ہوچکا ہے۔ یعنی گزشتہ 64سال میں پاکستان نے جتناپایا اس سے کہیں زیادہ کھوچکا ہے۔