وزیراعظم کا دورہ امریکا اثرات بتدریج سامنے آئیں گے
نواز اوباما ملاقات میں ڈرون حملوں کی بندش‘ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی اور دہشت گردی سمیت کئی امور پر بات چیت ہوئی۔
صدر اوباما نے ڈرون حملوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا البتہ اتنا ضرور کہا کہ ہماری پارٹنر شپ اقتدار اعلیٰ اور علاقائی سالمیت کے احترام کے اصول کی بنیاد پر ہے۔ فوٹو؛ اے ایف پی/فائل
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بدھ کو وائٹ ہائوس میں امریکی صدر بارک اوباما سے ملاقات کی۔ اس دورے کا حاصل یہی ملاقات تھی۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور صدر بارک اوباما کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر بارک اوباما کے ساتھ ڈرون حملوں کی بندش' ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی' توانائی کے شعبوں میں تعاون اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سمیت کئی امور پر بات چیت ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر حل کیا جانا چاہیے' پرامن افغانستان کے لیے امریکا سے مل کر کوششیں جاری رکھیں گے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اس ملاقات کو مفید قرار دیا ہے۔ صدر بارک اوباما نے پاکستان اور امریکا تعلقات کو اہم قرار دیتے ہوئے معاشی میدان میں پاکستان کے لیے نیک خواہشات اور امریکی تعاون کا یقین دلایا۔ صدر اوباما نے ڈرون حملوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا البتہ اتنا ضرور کہا کہ ہماری پارٹنر شپ اقتدار اعلیٰ اور علاقائی سالمیت کے احترام کے اصول کی بنیاد پر ہے۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور صدر بارک اوباما کے درمیان ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی' وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اپنا دورہ امریکا مکمل کر کے واشنگٹن سے لندن پہنچے اور وہاں بھی انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے دورہ امریکا کو مثبت قرار دیا' ادھر گزشتہ روز وائٹ ہائوس سے جو مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا ہے' وہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور صدر بارک اوباما کے درمیان ملاقات خاصی امید افزا رہی ہے اور آنے والے دنوں میں اس کے مثبت اثرات سامنے آئیں گے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے واضح طور پر کہا ہے کہ صدر اوباما نے کراس بارڈر موومنٹ' جماعت الدعوۃ اور ممبئی حملوں کے مبینہ ملزمان کے ٹرائل کی بات کی ہے۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے تسلیم کیا کہ ہمیں اپنا گھر سنبھالنا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہو سکا' اس کا مطلب ہے کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے صدر بارک اوباما کے بہت سے نکات سے اتفاق کیا ہے' یوں دیکھا جائے تو بظاہر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور صدر بارک اوباما کے درمیان ملاقات سے کوئی بہت بڑا اعلان یا بریک تھرو سامنے نہیں آیا لیکن یہ ملاقات اس اعتبار سے مفید اور مثبت رہی کہ دونوں رہنمائوں نے کھل کر اپنے اپنے ملک کے موقف کا اظہار کیا اور اس کے اثرات آہستہ آہستہ سامنے آتے چلے جائیں گے۔ یہ بات حقیقت ہے کہ ڈرون حملوں کے حوالے سے پاکستان کو توقعات کے مطابق کامیابی حاصل نہیں ہو سکی اور مستقبل میں یہ حملے جاری رہیں گے۔ بہر حال وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بہت سے معاملات پر روایت سے ہٹ کر بات کی ہے' انھوں نے کھل کر بتایا ہے کہ صدر اوباما نے دہشت گردی کے حوالے سے کیا کیا باتیں یا مطالبات کیے ہیں۔
اب پاکستان اس مقام پر کھڑا ہے' جہاں اسے سب سے زیادہ توجہ دہشت گردی کے خاتمے پر دینی ہو گی اور اس معاملے میں عالمی برادری کو بھی مطمئن کرنا ہو گا۔ پاکستان میں نان اسٹیٹ ایکٹرز کا جو کردار ہے' اب اسے چھپایا نہیں جا سکتا' پاکستان کی معاشی ترقی کی سمت' علاقائی تعلقات کی جہت اور اندرونی امن و امان کا تعلق اسی سے وابستہ ہے۔ جہاں تک امریکا کے ساتھ تعلقات کا معاملہ ہے تو اس حوالے سے بھی قوم کو سچ بتانا ہو گا' ہمارے حکمرانوں کی یہ پالیسی رہی ہے کہ وہ پاکستان میں امریکا کی مخالفت کرتے ہیں لیکن عملاً امریکا سے امداد کی اپیل کرتے ہیں' اب عوام کو بتایا جائے کہ امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی نوعیت کیا ہے؟ بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی جھوٹ اور دو عملی کی پالیسی ترک کرنا ہو گی۔ جن امور پر بھارت کے ساتھ تعلقات ضروری ہیں' ان پر بغیر کسی ہچکچاہٹ کے قوم کو بتانا چاہیے اور وہ انتہا پسند قوتیں جو خارجہ اور داخلہ امور میں قومی مفاد کے برعکس کام کر رہی ہیں' ان سے سختی سے نمٹا جائے۔
افغانستان کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بھی نظرثانی کی جائے' پاک افغان سرحد پر بلا روک ٹوک آمد و رفت بند ہونی چاہیے۔ افغانستان سے جو بھی آئے' وہ قانونی تقاضے پورے کر کے آئے اور جو پاکستانی ادھر جائے' وہ بھی قانونی تقاضے پورے کرے۔ پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کو فوری طور پر واپس بھیجنے کا انتظام کیا جائے' اسی طرح وہ قبائلی باشندے جو ملک کے دیگرے علاقوں میں قیام پذیر ہیں' ان کا کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ مرتب کیا جائے تا کہ حکومت کو پتہ چلے کہ قبائلی علاقے اس ملک و قوم کی ترقی میں کیا کردار ادا کر رہے ہیں اور وہاں کے باشندے ریاست سے کیا فوائد حاصل کر رہے ہیں؟ اگر آئین اجازت دے تو قبائلی علاقوں اور ملک کے دیگر علاقوں کے باشندوں کے درمیان نیا سوشل کنٹریکٹ کیا جائے تا کہ ملک کا ہر علاقہ اپنے حصہ کا ٹیکس دے، آئین اور قانون کا پابند ہو اور اجتماعی ترقی میںسے اپنا حصہ وصول کرے۔
دہشت گردی اور اسے فروغ دینے والے نظریات وطن عزیز کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ روایتی سوچ اور اقدامات کے سہارے اس عفریت پر قابو نہیں پا سکتی اور نہ ہی امریکا اور عالمی برادری کو باتوں اور وعدوں سے مطمئن کیا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ہمیں اپنا گھر سنبھالنا چاہیے تھا لیکن ہم ایسا نہیں کر سکے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں تیس سے چالیس ہزار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں' حکمرانوں کو ان کے خون کا حساب چکانا ہو گا' اگر حکومت دہشت گردی کے خلاف حقیقی معنوں میں اپنا کردار ادا کرتی ہے تو پھر قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کا جواز ہی باقی نہیں رہے گا۔ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بھی خود بخود بہتر ہو جائیں گے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے انتہائی فیصلہ کن حالات میں امریکا کا دورہ کیا ہے' اس دورے میں انھوں نے کیا حاصل کیا ہے' اس کا نتیجہ شاید فوری طور پر سامنے نہ آئے لیکن جیسے جیسے وقت گزرے گا' دورہ امریکا کے اثرات سامنے آتے چلے جائیں گے۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور صدر بارک اوباما کے درمیان ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی' وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اپنا دورہ امریکا مکمل کر کے واشنگٹن سے لندن پہنچے اور وہاں بھی انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے دورہ امریکا کو مثبت قرار دیا' ادھر گزشتہ روز وائٹ ہائوس سے جو مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا ہے' وہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور صدر بارک اوباما کے درمیان ملاقات خاصی امید افزا رہی ہے اور آنے والے دنوں میں اس کے مثبت اثرات سامنے آئیں گے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے واضح طور پر کہا ہے کہ صدر اوباما نے کراس بارڈر موومنٹ' جماعت الدعوۃ اور ممبئی حملوں کے مبینہ ملزمان کے ٹرائل کی بات کی ہے۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے تسلیم کیا کہ ہمیں اپنا گھر سنبھالنا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہو سکا' اس کا مطلب ہے کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے صدر بارک اوباما کے بہت سے نکات سے اتفاق کیا ہے' یوں دیکھا جائے تو بظاہر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور صدر بارک اوباما کے درمیان ملاقات سے کوئی بہت بڑا اعلان یا بریک تھرو سامنے نہیں آیا لیکن یہ ملاقات اس اعتبار سے مفید اور مثبت رہی کہ دونوں رہنمائوں نے کھل کر اپنے اپنے ملک کے موقف کا اظہار کیا اور اس کے اثرات آہستہ آہستہ سامنے آتے چلے جائیں گے۔ یہ بات حقیقت ہے کہ ڈرون حملوں کے حوالے سے پاکستان کو توقعات کے مطابق کامیابی حاصل نہیں ہو سکی اور مستقبل میں یہ حملے جاری رہیں گے۔ بہر حال وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بہت سے معاملات پر روایت سے ہٹ کر بات کی ہے' انھوں نے کھل کر بتایا ہے کہ صدر اوباما نے دہشت گردی کے حوالے سے کیا کیا باتیں یا مطالبات کیے ہیں۔
اب پاکستان اس مقام پر کھڑا ہے' جہاں اسے سب سے زیادہ توجہ دہشت گردی کے خاتمے پر دینی ہو گی اور اس معاملے میں عالمی برادری کو بھی مطمئن کرنا ہو گا۔ پاکستان میں نان اسٹیٹ ایکٹرز کا جو کردار ہے' اب اسے چھپایا نہیں جا سکتا' پاکستان کی معاشی ترقی کی سمت' علاقائی تعلقات کی جہت اور اندرونی امن و امان کا تعلق اسی سے وابستہ ہے۔ جہاں تک امریکا کے ساتھ تعلقات کا معاملہ ہے تو اس حوالے سے بھی قوم کو سچ بتانا ہو گا' ہمارے حکمرانوں کی یہ پالیسی رہی ہے کہ وہ پاکستان میں امریکا کی مخالفت کرتے ہیں لیکن عملاً امریکا سے امداد کی اپیل کرتے ہیں' اب عوام کو بتایا جائے کہ امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی نوعیت کیا ہے؟ بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی جھوٹ اور دو عملی کی پالیسی ترک کرنا ہو گی۔ جن امور پر بھارت کے ساتھ تعلقات ضروری ہیں' ان پر بغیر کسی ہچکچاہٹ کے قوم کو بتانا چاہیے اور وہ انتہا پسند قوتیں جو خارجہ اور داخلہ امور میں قومی مفاد کے برعکس کام کر رہی ہیں' ان سے سختی سے نمٹا جائے۔
افغانستان کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بھی نظرثانی کی جائے' پاک افغان سرحد پر بلا روک ٹوک آمد و رفت بند ہونی چاہیے۔ افغانستان سے جو بھی آئے' وہ قانونی تقاضے پورے کر کے آئے اور جو پاکستانی ادھر جائے' وہ بھی قانونی تقاضے پورے کرے۔ پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کو فوری طور پر واپس بھیجنے کا انتظام کیا جائے' اسی طرح وہ قبائلی باشندے جو ملک کے دیگرے علاقوں میں قیام پذیر ہیں' ان کا کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ مرتب کیا جائے تا کہ حکومت کو پتہ چلے کہ قبائلی علاقے اس ملک و قوم کی ترقی میں کیا کردار ادا کر رہے ہیں اور وہاں کے باشندے ریاست سے کیا فوائد حاصل کر رہے ہیں؟ اگر آئین اجازت دے تو قبائلی علاقوں اور ملک کے دیگر علاقوں کے باشندوں کے درمیان نیا سوشل کنٹریکٹ کیا جائے تا کہ ملک کا ہر علاقہ اپنے حصہ کا ٹیکس دے، آئین اور قانون کا پابند ہو اور اجتماعی ترقی میںسے اپنا حصہ وصول کرے۔
دہشت گردی اور اسے فروغ دینے والے نظریات وطن عزیز کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ روایتی سوچ اور اقدامات کے سہارے اس عفریت پر قابو نہیں پا سکتی اور نہ ہی امریکا اور عالمی برادری کو باتوں اور وعدوں سے مطمئن کیا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ہمیں اپنا گھر سنبھالنا چاہیے تھا لیکن ہم ایسا نہیں کر سکے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں تیس سے چالیس ہزار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں' حکمرانوں کو ان کے خون کا حساب چکانا ہو گا' اگر حکومت دہشت گردی کے خلاف حقیقی معنوں میں اپنا کردار ادا کرتی ہے تو پھر قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کا جواز ہی باقی نہیں رہے گا۔ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بھی خود بخود بہتر ہو جائیں گے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے انتہائی فیصلہ کن حالات میں امریکا کا دورہ کیا ہے' اس دورے میں انھوں نے کیا حاصل کیا ہے' اس کا نتیجہ شاید فوری طور پر سامنے نہ آئے لیکن جیسے جیسے وقت گزرے گا' دورہ امریکا کے اثرات سامنے آتے چلے جائیں گے۔