طالبان سے غیرمشروط مذاکرات نہ کیے جائیںثروت قادری
مذاکرات کی آڑمیں مخصوص مکتبہ فکرملک بھر میں کلاشنکوف کلچرپروان چڑھارہاہے
قاتلوں کو حکومت معافی نہیں دے سکتی،سنی تحریک نے وزیراعظم کوسفارشات بھیج دیں فوٹو: فائل
سنی تحریک کے سربراہ ثروت اعجاز قادری نے سنی تحریک علما بورڈ کی طرف سے پیش کردہ سفارشات وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف کو بھجو ادی ہیں۔
ان سفارشات میں کہا گیا ہے کہ بندوق کی نوک پر مسلط کیے جانے والی شرائط کو تسلیم نہیں کیا جائے گا،ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سر حدوںکا تحفظ ہر قیمت پر کریں گے،غیر ملکی ایجنٹوں اورآئین پا کستان کے بھگوڑوں سے غیر مشروط مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،غیر ملکی آقاؤں کا ایجنڈا کسی کو تھوپنے کی اجازت نہیں دیں گے،مذاکرات کی آڑ میں ایک مخصوص مکتبہ فکر کلاشنکوف کلچر کو پروان چڑھارہا ہے،غیر ملکی سرمایہ کار پا کستان میں خود ساختہ اسلام اور ذاتی خواہشات کو شریعت کا نام دے کر مسلمانوں کو گمراہ کررہے ہیں۔
ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ حکومت ون وے ٹریفک چلانے سے پرہیز کرے،طالبان کیساتھ ہونے والے مذاکرات میں تمام متاثرین کو بھی شامل کرنا ہو گا،ہزاروں پا کستانیوں، سیکیورٹی اداروں کا قتل عام کرنے والوں کو حکومتی ذاتی خوہشات پر معافی نہیں دی جاسکتی،حکومت نے دہشت گردوں سے مذاکرات کے بارے میںبلائی گی کانفرنس میں اہلسنّت کوشامل نہ کر کے کئی شک و شبہات کو جنم دیا ہے،بعض نام نہاد دین کے ٹھیکیداراور بعض مدارس کے مہتمم حضرات دہشت گردوں کے ہمدرد بن کر حکومت کو ڈرانے اور دھمکانے میں مصروف ہیں۔
ان سفارشات میں کہا گیا ہے کہ بندوق کی نوک پر مسلط کیے جانے والی شرائط کو تسلیم نہیں کیا جائے گا،ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سر حدوںکا تحفظ ہر قیمت پر کریں گے،غیر ملکی ایجنٹوں اورآئین پا کستان کے بھگوڑوں سے غیر مشروط مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،غیر ملکی آقاؤں کا ایجنڈا کسی کو تھوپنے کی اجازت نہیں دیں گے،مذاکرات کی آڑ میں ایک مخصوص مکتبہ فکر کلاشنکوف کلچر کو پروان چڑھارہا ہے،غیر ملکی سرمایہ کار پا کستان میں خود ساختہ اسلام اور ذاتی خواہشات کو شریعت کا نام دے کر مسلمانوں کو گمراہ کررہے ہیں۔
ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ حکومت ون وے ٹریفک چلانے سے پرہیز کرے،طالبان کیساتھ ہونے والے مذاکرات میں تمام متاثرین کو بھی شامل کرنا ہو گا،ہزاروں پا کستانیوں، سیکیورٹی اداروں کا قتل عام کرنے والوں کو حکومتی ذاتی خوہشات پر معافی نہیں دی جاسکتی،حکومت نے دہشت گردوں سے مذاکرات کے بارے میںبلائی گی کانفرنس میں اہلسنّت کوشامل نہ کر کے کئی شک و شبہات کو جنم دیا ہے،بعض نام نہاد دین کے ٹھیکیداراور بعض مدارس کے مہتمم حضرات دہشت گردوں کے ہمدرد بن کر حکومت کو ڈرانے اور دھمکانے میں مصروف ہیں۔