اسرائیل کی ناجائز بستیاں

اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے فلسطینی اراضی پر اسرائیل کے ناجائز قبضہ کے خلاف پالیسی کی آواز ضرور بلند کی ہے۔

اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے فلسطینی اراضی پر اسرائیل کے ناجائز قبضہ کے خلاف پالیسی کی آواز ضرور بلند کی ہے۔ فوٹو : فائل

لاہور:
مشرق وسطیٰ کے عین قلب میں کسی زہر بجھے خنجر کی طرح گڑھی ہوئی ناجائز صیہونی ریاست اسرائیل کی سرپرستی میں امریکا نے تمام حدیں عبور کر لی ہیں۔ اس بات میںکوئی تضاد نہیں کہ امریکا کی ہر حکومت وہ قدامت پرست نیو کون کی ہے یا جدت پسند ڈیموکریٹس کی ہر دو حکومتیں اسرائیل کی ہر ناجائز حکومت کی دل و جان سے حمایت کرتی ہیں۔

خواہ یہ معاملہ فلسطین کے علاقوں پر غاصبانہ قبضہ کرنے اور ان علاقوں پر یہودی بستیاں قائم کرنے کا معاملہ ہو یا شام میں واقع گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کرنے کا معاملہ ہو یا یروشلم (القدس) کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کا معاملہ جس میں لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کے دینی جذبات سے کھیلا جائے۔

اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ جس قدر بے انصافی بھی کرے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کی طرف سے اسرائیل کو آزادی ہے اور امریکا اس حوالے سے دنیا بھر کے اعتراضات کو پائے حقارت سے ٹھکرا دیتا ہے اور اسرائیل کی حمایت جاری رکھتا ہے۔ مسٹر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے عربوں کی دل آزاری کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں کی اور اسرائیل کے تمام غیرقانونی اور غیراخلاقی ہتھکنڈوں کو بطور خاص شرف قبولیت عطا کیا ہے۔


امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ امریکا کے لیے اسرائیل کا ہر عمل خواہ وہ قانونی ہے یا غیرقانونی امریکا کے لیے قابل قبول ہے اور ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ امریکا اسرائیل اور فلسطین میں قیام امن کے لیے ہر سہولت دینے کو تیار ہے اب صورت حال یہ ہے کہ اسرائیل دھڑا دھڑ فلسطینی زمینوں پر قبضہ کرتا چلا جا رہا ہے جسے امریکا قانونی قرار دیتا ہے۔

اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے فلسطینی اراضی پر اسرائیل کے ناجائز قبضہ کے خلاف پالیسی کی آواز ضرور بلند کی ہے مگر کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جس سے اس مارا ماری کو روکا جا سکے۔ اسرائیل فلسطینیوں کا خون بھی بے دریغ بہا رہا ہے۔ اسرائیل کی دائیں بازو کی حکومت بھی ہر وہ اقدام کر رہی ہے۔

جس سے دو ریاستی نظریے کو ناکام بنایا جا سکے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ فلسطین اور اسرائیل میں مصالحت کرانے کی ذمے داری امریکا کو دی گئی ہے یا اس نے از خود یہ حاصل کر لی ہے لیکن اس حیثیت کا امریکا جس قدر ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے اور جس قدر ناجائز فائدہ اسرائیل کو دے رہا ہے اس کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ اسرائیلی فلسطینی بستیوں پر قبضہ کرتا چلا جا رہا ہے اور اس تمام تر ناجائز قبضے کو قانونی حیثیت کا درجہ دیا جاتا ہے۔

اسی صورت میں فلسطینی کدھر جائیں۔ اسرائیل فلسطینیوں پرگاہے بگاہے طیاروں کے ذریعے بمباری بھی کرتا ہے اور جواب میں فلسطینی نوجوان لڑکے اینٹوں اور پتھروں سے توپوں کی بمباری اور ہوائی فائرنگ کا مقابلہ کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں جس کا مقدر ہی ناکامی ہے۔
Load Next Story