پولیو کے خاتمہ کے لیے مالی پیش رفت

بل گیٹس نے پاکستانی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے وہ 1.08ارب ڈالر دیں گے۔

بل گیٹس نے پاکستانی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے وہ 1.08ارب ڈالر دیں گے۔فوٹو: فائل

یہ خبر انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ عالمی ادارے پاکستان سے پولیوکے خاتمے کے لیے2.06 ارب ڈالر فراہم کریں گے۔

یہ ایک مثبت پیش رفت ہے، پولیوکے خاتمے کی جانب۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت نے ابوظہبی میں بل گیٹس فاؤنڈیشن کے سربراہ سے ملاقات کی۔ بل گیٹس نے پاکستانی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے وہ 1.08ارب ڈالر دیں گے۔ ظفرمرزا نے ناروے کے نائب وزیر اکسل جیکوسن، ڈائریکٹر سی ڈی سی رابرٹ ریڈ فیلڈ، صدر بل گیٹس اینڈ ملنڈا فاؤنڈیشن کرس ایلس سے بھی ملاقات کی۔


پاکستان پولیوکے خلاف ایک طویل عرصے سے جنگ لڑ رہا ہے تمام کوششوں کے باوجود اس مرض کے مکمل خاتمے کے حوالے سے کامیابی نہیں ملی ہے۔ پاکستان میں سن 2015ء میں پولیوکے 54 کیسز سامنے آئے تھے، تاہم اس کے بعد کے برسوں میں یہ بالترتیب بیس، آٹھ اور بارہ رپورٹ ہوئے۔ رواں برس پاکستان میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اس سے قبل ستمبر کے مہینے میں پاکستان میں پولیوکے مزید دوکیسز سامنے آئے، رواں برس پاکستان میں پولیو کے وائرس سے متاثرہ بچوں کی تعداد ستمبر میں 64 ہو چکی تھی، جو اس بیماری میں اضافے کی واضح نشان دہی کر رہی ہے۔ ہمارے سسٹم کی خرابی ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان رابطوں کے فقدان کی وجہ سے پولیو پروگرام تباہی کا شکار ہو گیا ہے۔

دنیا کے دیگر خطوں میں یہ بیماری مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، تاہم پاکستان اب بھی پولیوکا خاتمہ کرنے میں ناکام نظرآتا ہے۔ حکومت کو فوری طور پر پولیو پروگرام کا جائزہ لے کر اس میں موجود خامیوں کو دور کرنا چاہیے تا کہ عالمی طور پر ملنے والی امداد سے نہ صرف ملک سے پولیوکا خاتمہ ہو بلکہ ان فنڈزکا درست استعمال بھی کیا جا سکے۔
Load Next Story