غیر قانونی حراستی مراکز بڑا مسئلہ بن گئے آئی ایس آئی پر گرفت کیلیے کوئی قانون سازی کو تیار نہیں پشاور ?
عوام میں ایجنسیوں کیخلاف مایوسی بڑھ رہی ہے،روزانہ لوگوں کواٹھایا جاتا ہے،حکومتیں صرف تماشہ کرتی ہیں،جسٹس دوست محمد
وفاق نے سپریم کورٹ اور پشاور ہائیکورٹ کی گائیڈلائن کی روشنی میں فیڈرل ٹاسک فورس برائے لاپتہ افراد تشکیل دی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل۔ فوٹو: فائل
پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس دوست محمد خان نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ ہو یا وفاقی حکومت کوئی بھی آئی ایس آئی کوآئین و قانون کی گرفت میں لانے کیلیے قانون سازی پرتیارنہیں۔
سویلین گورنمنٹ کوآئی ایس آئی اپنے ماتحت کرنی چاہیے یہ لوگ روزانہ کی بنیاد پرلوگوں کواٹھاتے ہیں اور حکومتیں صرف تماشہ کرتی ہیں،اس نظام کو چلنا ہے اور یہ اس وقت ہو گا جب یہ ادارے آئین وقانون کی پاسداری کریں گے، سی آئی اے بھی ایک مضبوط ادارہ ہے مگرجب کانگریس انھیں بلاتی ہے تو وہ سر کے بل دوڑے چلے آتے ہیں، یہ اتنے طاقتور ہوچکے ہیں کہ ہرجگہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے ہرقسم کا اقدام روک دیتے ہیں، سارا ملبہ جوڈیشری پرآ جاتا ہے اگر ان کی یہی روش رہی تو ان کا بیرکوں میں واپس جانا ٹھیک رہے گا کیونکہ لوگوں کی مشکلات کسی صورت کم ہوتی نظرنہیں آرہی ہیں، غیر قانونی حراستی مراکز ہمارے لیے بڑامسئلہ بن گئے ہیں۔
جسٹس دوست محمد نے کہا کہ ملک میں ایجنسیوں کے خلاف عوام میں مایوسی بڑھ رہی ہے، عوام کے تعاون کے بغیرکسی ملک کی فوج بھی جنگ میں کامیاب نہیں ہوسکتی، فاضل چیف جسٹس نے یہ ریمارکس گزشتہ روز لاپتہ افراد کے بارے میں 282 درخواستوں کی سماعت کے دوران دیے، 2 رکنی بینچ چیف جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس اسداللہ خان چمکنی پر مشتمل تھا ،درخواستوں کی سماعت شروع ہوئی تو اس دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل عتیق شاہ نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ اور پشاور ہائیکورٹ کی گائیڈ لائن کی روشنی میں فیڈرل ٹاسک فورس برائے لاپتہ افراد تشکیل دی ہے جس کے چیئرمین ایڈیشنل سیکریٹری ون وزارت داخلہ ہیں جبکہ اس میں چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز، آئی جی پیز، سیکریٹریز ہوم، ایڈیشنل آئی جیز، وزارت دفاع، کمشنر اسلام آباد اورایک نمائندہ اٹارنی جنرل کی جانب سے ہے تاکہ ایک ایسا طریق کار وضع کیا جائے جس میں باہمی مشاورت کے ساتھ تمام لاپتہ افراد کی بحفاظت بازیابی اورگھروں کو واپسی یقینی ہو۔
انھوں نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت ہائیکورٹ کے احکام پرلاپتہ افراد کے کیسز میں من وعن عمل کی خواہاں ہے اور یہ ٹاسک فورس اس سلسلے کی ایک کڑی ہے، انھوں نے عدالت کوبتایا کہ اس ضمن میں بنائی گئی سب کمیٹیوں نے اپنی ابتدائی سفارشات تیارکرلی ہیں جو ٹاسک فورس کے سامنے رکھنے کے ساتھ ساتھ عدالت کو بھی فراہم کی جائیں گی، یہ ایک گھمبیر مسئلہ ہے جس کا حل ناگزیرہے اور ہم بھی چاہتے ہیں کہ یہ حل ہوجائے، چیف جسٹس نے کہاکہ جب تک موثرقانون سازی نہ ہو اس ٹاسک فورس کی تشکیل کے ثمرات ہمیں نظر نہیں آرہے ہیں کیونکہ یہ ایجنسیوں والے اس میں بھی اپنا اثر و رسوخ چلائیں گے جس پر عتیق شاہ نے عدالت کو یقین دلاتے ہوئے کہاکہ اگر انہیں کچھ مہلت دی جائے تو اس کے نتائج اچھے انداز میں نظرآنا شروع ہو جائیں گے۔
چیف جسٹس نے اس دوران کہا کہ عدالت نے متعدد بارغیرقانونی حراستی مراکز کی بندش کا حکم دیا تھا مگراب بھی وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں میں یہ مراکز موجود ہیں جہاں پر ان لاپتہ افراد کو رکھاگیا ہے، لوگوں کی چیخیں عدالتوں میں مزید نہیں سن سکتے ایک قوت خواہ کتنی مضبوط کیوں نہ ہو قانون سے بالاتر نہیں اور اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے ورنہ جو احکام آئین و قانون توڑنے کے بعد ہم جاری کریں گے وہ سخت ہونگے، عدالت نے اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل آف پاکستان کی استدعا منظورکرتے ہوئے انھیں 4ہفتوں کی مہلت دے دی اور سماعت 27 نومبر تک ملتوی کر دی تاہم قراردیا کہ یہ ٹاسک فورس سمیت دیگراداروں کے لیے آخری موقع ہے اور اس کے بعد کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی کیونکہ لاپتہ ا فراد کے لواحقین کاغم روز بروز بڑھتا جا رہا ہے آئین پاکستان کے تحت ہم شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق کے تحفظ کے ذمے دارہیں۔
سویلین گورنمنٹ کوآئی ایس آئی اپنے ماتحت کرنی چاہیے یہ لوگ روزانہ کی بنیاد پرلوگوں کواٹھاتے ہیں اور حکومتیں صرف تماشہ کرتی ہیں،اس نظام کو چلنا ہے اور یہ اس وقت ہو گا جب یہ ادارے آئین وقانون کی پاسداری کریں گے، سی آئی اے بھی ایک مضبوط ادارہ ہے مگرجب کانگریس انھیں بلاتی ہے تو وہ سر کے بل دوڑے چلے آتے ہیں، یہ اتنے طاقتور ہوچکے ہیں کہ ہرجگہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے ہرقسم کا اقدام روک دیتے ہیں، سارا ملبہ جوڈیشری پرآ جاتا ہے اگر ان کی یہی روش رہی تو ان کا بیرکوں میں واپس جانا ٹھیک رہے گا کیونکہ لوگوں کی مشکلات کسی صورت کم ہوتی نظرنہیں آرہی ہیں، غیر قانونی حراستی مراکز ہمارے لیے بڑامسئلہ بن گئے ہیں۔
جسٹس دوست محمد نے کہا کہ ملک میں ایجنسیوں کے خلاف عوام میں مایوسی بڑھ رہی ہے، عوام کے تعاون کے بغیرکسی ملک کی فوج بھی جنگ میں کامیاب نہیں ہوسکتی، فاضل چیف جسٹس نے یہ ریمارکس گزشتہ روز لاپتہ افراد کے بارے میں 282 درخواستوں کی سماعت کے دوران دیے، 2 رکنی بینچ چیف جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس اسداللہ خان چمکنی پر مشتمل تھا ،درخواستوں کی سماعت شروع ہوئی تو اس دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل عتیق شاہ نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ اور پشاور ہائیکورٹ کی گائیڈ لائن کی روشنی میں فیڈرل ٹاسک فورس برائے لاپتہ افراد تشکیل دی ہے جس کے چیئرمین ایڈیشنل سیکریٹری ون وزارت داخلہ ہیں جبکہ اس میں چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز، آئی جی پیز، سیکریٹریز ہوم، ایڈیشنل آئی جیز، وزارت دفاع، کمشنر اسلام آباد اورایک نمائندہ اٹارنی جنرل کی جانب سے ہے تاکہ ایک ایسا طریق کار وضع کیا جائے جس میں باہمی مشاورت کے ساتھ تمام لاپتہ افراد کی بحفاظت بازیابی اورگھروں کو واپسی یقینی ہو۔
انھوں نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت ہائیکورٹ کے احکام پرلاپتہ افراد کے کیسز میں من وعن عمل کی خواہاں ہے اور یہ ٹاسک فورس اس سلسلے کی ایک کڑی ہے، انھوں نے عدالت کوبتایا کہ اس ضمن میں بنائی گئی سب کمیٹیوں نے اپنی ابتدائی سفارشات تیارکرلی ہیں جو ٹاسک فورس کے سامنے رکھنے کے ساتھ ساتھ عدالت کو بھی فراہم کی جائیں گی، یہ ایک گھمبیر مسئلہ ہے جس کا حل ناگزیرہے اور ہم بھی چاہتے ہیں کہ یہ حل ہوجائے، چیف جسٹس نے کہاکہ جب تک موثرقانون سازی نہ ہو اس ٹاسک فورس کی تشکیل کے ثمرات ہمیں نظر نہیں آرہے ہیں کیونکہ یہ ایجنسیوں والے اس میں بھی اپنا اثر و رسوخ چلائیں گے جس پر عتیق شاہ نے عدالت کو یقین دلاتے ہوئے کہاکہ اگر انہیں کچھ مہلت دی جائے تو اس کے نتائج اچھے انداز میں نظرآنا شروع ہو جائیں گے۔
چیف جسٹس نے اس دوران کہا کہ عدالت نے متعدد بارغیرقانونی حراستی مراکز کی بندش کا حکم دیا تھا مگراب بھی وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں میں یہ مراکز موجود ہیں جہاں پر ان لاپتہ افراد کو رکھاگیا ہے، لوگوں کی چیخیں عدالتوں میں مزید نہیں سن سکتے ایک قوت خواہ کتنی مضبوط کیوں نہ ہو قانون سے بالاتر نہیں اور اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے ورنہ جو احکام آئین و قانون توڑنے کے بعد ہم جاری کریں گے وہ سخت ہونگے، عدالت نے اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل آف پاکستان کی استدعا منظورکرتے ہوئے انھیں 4ہفتوں کی مہلت دے دی اور سماعت 27 نومبر تک ملتوی کر دی تاہم قراردیا کہ یہ ٹاسک فورس سمیت دیگراداروں کے لیے آخری موقع ہے اور اس کے بعد کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی کیونکہ لاپتہ ا فراد کے لواحقین کاغم روز بروز بڑھتا جا رہا ہے آئین پاکستان کے تحت ہم شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق کے تحفظ کے ذمے دارہیں۔