آئی جی جیل کے عہدے پر تعیناتی کے قانون کیخلاف درخواست پر نوٹس
ہائیکورٹ کا لاپتہ افرادکےمعاملےپربارایسوسی ایشنوںکیجانب سےکردارادانہ کرنے پراظہارافسوس،کراچی باراوردیگر کو نوٹس جاری۔
ہائیکورٹ کا لاپتہ افرادکے معاملے پربارایسوسی ایشنوںکیجانب سے کردارادا نہ کرنے پراظہارافسوس، کراچی باراوردیگر کو نوٹس جاری۔ فوٹو: ایکسپریس
سندھ ہائیکورٹ نے آرمڈ فورسز اور ڈی ایم جی گروپ کے افسران کو آئی جی جیل خانہ جات کے عہدے کیلیے اہل قرار دینے کے قانون کے خلاف درخواست پر حکومت سندھ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ، جسٹس شاہد انور باجوہ کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے جمعہ کو آئی جی جیل خانہ جات سندھ عبدالمجید صدیقی کی جانب سے دائرکردہ درخواست کی سماعت کی۔
درخواست میں محکمہ داخلہ کو فریق بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ درخواست گزار پبلک سروس کمیشن کے ذریعے 21دسمبر1986میں سپرنٹنڈنٹ جیل( بی ایس18) تعینات ہوئے،صوبائی سلیکشن بورڈ کی سفارش پر 2 اپریل2010 کو ڈی آئی جی کے عہدے پر ترقی ہوئی دیگر محکموں اور اداروں سے افسران کو جیل خانہ جات میں تعینات کیا جاتا رہا جس سے درخواست گزارکی سینیارٹی بھی متاثر ہوئی،آئی جی جیل خانہ جات کے عہدے کیلیے17سال کی سروس لازمی قراردی گئی جبکہ درخواست گزار کی ملازمت کو25سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا۔
30جنوری1999کو صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے ذریعے پاکستان جیل رولز کی دفعات890اور935میں ترمیم کی گئی جس کے تحت آرمڈ فورسز اور ڈی ایم جی گروپ کے افسران کو بھی آئی جی جیل خانہ جات کے عہدے کیلیے اہل قرار دیا گیا ، پریزن ایکٹ کی دفعہ 59کے تحت صوبائی حکومت رولز میں ترمیم توکرسکتی ہے مگر صدرمملکت/ وفاقی حکومت سے ترمیم کی منظوری حاصل کرنا ضروری ہے مگر مذکورہ ترمیم کی تاحال منظوری حاصل نہیں کی گئی،اس لیے مذکورہ ترمیم کو خلاف ضا بطہ قراردیا جائے۔
علاوہ ازیں چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے لاپتہ افراد کے معاملے پر بار ایسوسی ایشنوںکی جانب سے کردار ادا نہ کرنے پر افسوس کا ا ظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وکلا تنظیمیں عمومی طور پر یہ موقف اختیارکرتی ہیں کہ وہ انسانی حقوق سے متعلق مقدمات میں فری لیگل ایڈ فراہم کرتی ہیں ، اس ضمن میں انھوں نے ایک سابق جج کی سربراہی میں قیدیوں کو قانونی امداد دینے والی تنظیم کے دفترکے قیام کے خلاف اعتراض و احتجاج کیا اور اس وقت یقین دہانی بھی کرائی تھی کہ وہ قیدیوں کو مفت قانونی امداد فراہم کریں گے ، فاضل بینچ نے یہ آبزرویشن قاری محمد عمر کی گمشدگی کے خلاف شیریں بہادر کی آئینی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جاری کی۔
چیف جسٹس مشیرعالم اورجسٹس فاروق شاہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کہا ہے کہ سندھ ہائیکورٹ نے لاپتہ شہریوں کے مقدمات میں معاونت کیلیے متعدد بار سندھ ہائیکورٹ اورکراچی بار ایسوسی ایشنز کو معاونت کیلیے نوٹس جاری کیے لیکن ابھی تک کوئی مثبت جواب نہیں آیا ،ان کے اس طرز عمل سے شہری مفت قانونی امداد کی سہولت سے محروم ہوگئے ، فاضل بینچ نے سندھ بارکونسل ، سندھ ہائیکورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشنزکو 13ستمبر کیلیے ایک بار پھر نوٹس جاری کردیے۔
درخواست میں محکمہ داخلہ کو فریق بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ درخواست گزار پبلک سروس کمیشن کے ذریعے 21دسمبر1986میں سپرنٹنڈنٹ جیل( بی ایس18) تعینات ہوئے،صوبائی سلیکشن بورڈ کی سفارش پر 2 اپریل2010 کو ڈی آئی جی کے عہدے پر ترقی ہوئی دیگر محکموں اور اداروں سے افسران کو جیل خانہ جات میں تعینات کیا جاتا رہا جس سے درخواست گزارکی سینیارٹی بھی متاثر ہوئی،آئی جی جیل خانہ جات کے عہدے کیلیے17سال کی سروس لازمی قراردی گئی جبکہ درخواست گزار کی ملازمت کو25سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا۔
30جنوری1999کو صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے ذریعے پاکستان جیل رولز کی دفعات890اور935میں ترمیم کی گئی جس کے تحت آرمڈ فورسز اور ڈی ایم جی گروپ کے افسران کو بھی آئی جی جیل خانہ جات کے عہدے کیلیے اہل قرار دیا گیا ، پریزن ایکٹ کی دفعہ 59کے تحت صوبائی حکومت رولز میں ترمیم توکرسکتی ہے مگر صدرمملکت/ وفاقی حکومت سے ترمیم کی منظوری حاصل کرنا ضروری ہے مگر مذکورہ ترمیم کی تاحال منظوری حاصل نہیں کی گئی،اس لیے مذکورہ ترمیم کو خلاف ضا بطہ قراردیا جائے۔
علاوہ ازیں چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے لاپتہ افراد کے معاملے پر بار ایسوسی ایشنوںکی جانب سے کردار ادا نہ کرنے پر افسوس کا ا ظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وکلا تنظیمیں عمومی طور پر یہ موقف اختیارکرتی ہیں کہ وہ انسانی حقوق سے متعلق مقدمات میں فری لیگل ایڈ فراہم کرتی ہیں ، اس ضمن میں انھوں نے ایک سابق جج کی سربراہی میں قیدیوں کو قانونی امداد دینے والی تنظیم کے دفترکے قیام کے خلاف اعتراض و احتجاج کیا اور اس وقت یقین دہانی بھی کرائی تھی کہ وہ قیدیوں کو مفت قانونی امداد فراہم کریں گے ، فاضل بینچ نے یہ آبزرویشن قاری محمد عمر کی گمشدگی کے خلاف شیریں بہادر کی آئینی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جاری کی۔
چیف جسٹس مشیرعالم اورجسٹس فاروق شاہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کہا ہے کہ سندھ ہائیکورٹ نے لاپتہ شہریوں کے مقدمات میں معاونت کیلیے متعدد بار سندھ ہائیکورٹ اورکراچی بار ایسوسی ایشنز کو معاونت کیلیے نوٹس جاری کیے لیکن ابھی تک کوئی مثبت جواب نہیں آیا ،ان کے اس طرز عمل سے شہری مفت قانونی امداد کی سہولت سے محروم ہوگئے ، فاضل بینچ نے سندھ بارکونسل ، سندھ ہائیکورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشنزکو 13ستمبر کیلیے ایک بار پھر نوٹس جاری کردیے۔