عمران کی صدر ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو
امریکی صدر نے پاکستان کی سہولت کاری پر وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا۔
امریکی صدر نے پاکستان کی سہولت کاری پر وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا۔فوٹو: فائل
وزیر اعظم عمران خان نے جمعرات کو امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹیلی فون کیا۔ ترجمان وزیر اعظم آفس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات اور خطے کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعظم نے افغانستان میں مغوی یرغمالیوں کی بازیابی کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے اس پر خوشی کا اظہار کیا کہ مغربی یرغمالی محفوظ اور آزاد ہیں۔
امریکی صدر نے پاکستان کی سہولت کاری پر وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اظہارکیا کہ پاکستان افغانستان میں استحکام کے لیے امن عمل اور مصالحتی کوششیں جاری رکھے گا۔ دونوں رہنماؤں نے مشترکہ مقاصدکے حصول کے لیے مل کرکام جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدرکو مقبوضہ کشمیرکی صورتحال سے آگاہ کیا اور انھیں بتایا کہ80 لاکھ لوگ بدستور بھارتی فوج کے محاصرے میں ہیں۔
انھوں نے ثالثی کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششوں کو بھی سراہا۔ انھوں نے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیرکے پرامن حل کے لیے سہولت کاری کی اپنی کوششیں کو جاری رکھیں،اپنی نیویارک ملاقات کو یادکرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعاون کے لیے کثیرجہتی کوششیں اور باہمی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم عمران خان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مسئلہ کشمیر کے پر امن حل اورافغانستان میں یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے جن جذبات وخیالات کا اظہارکیا ہے وہ خوش آیند یاد آوری ہے، امریکا کو افغانستان کی صورتحال اور مسئلہ کشمیرکی اندوہناک داخلی حالات سے آگاہ کرنا، اس لیے بھی ناگزیر ہے کہ امریکا کے لیے خطے کی صورتحال کسی ٹیسٹ کیس سے کسی طورکم نہیں، کشمیر اس لیے بھی ان کے ذہن،اسٹرٹیجی اور آیندہ کے لائحہ عمل میں رہنا چاہیے کہ کشمیریوں کو بھارت نے ایک جیل خانہ بنا دیا ہے اور عالمی ضمیر نے کشمیریوں کو فراموش کر دیا ہے۔
میڈیا اور سفارت کارانہ کوششوں کی وجہ سے کشمیر دنیا کے لیے ایک فلیش پوائنٹ تو بن چکا ہے مگر عالمی برادری سے کشمیریوں کو جو توقعات تھیں وہ پوری نہ ہوسکیں، صدر ٹرمپ نے ثالثی کی کوشش کا حوالہ کئی بار دیا اور عمران کو اس بات کا یقین بھی دلایا کہ وہ شدید خواہش رکھتے ہیں کہ کشمیرکے مسئلہ پر انھیں ثالثی کا موقع مل جائے۔
لیکن اس بریک تھروکے لیے نریندر مودی سے جس سطح پرکثیرجہتی کوششوں اورہنگامی طور پر انسانی ضمیرکو درمیان میں لاکر کشمیریوں کا محاصرہ توڑنا ضروری تھا وہ کام کسی عالمی اشتراک عمل اور خطے کی متحرک قوتوں کے تعاون اور حمایت سے قاصر رہیں، لیکن پاکستان نے اپنی کمٹمنٹ اورکشمیریوں کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھا ہے اور عالمی قوتوں کو باورکرایا کہ کشمیر موجودہ صدی کا اولین دہکتا ہوا مسئلہ ہے، جسے پر امن طریقے اور موثر سفارت کاری اور فیصلہ کن ڈائیلاگ سے حل کیا جانا چاہیے۔
کشمیری رہنما علی گیلانی نے اپنے ایک حالیہ خط میں جو عمران خان کے نام لکھا گیا انھوں انسانی حقوق، قانونی اور تاریخی سیاسی جدوجہدکی حمایت کے لیے پاکستان کی انتھک سفارتی، انسانی، سیاسی اور اخلاقی کوششوں کی تعریف کی اورکچھ اہم اقدامات کے لیے پاکستان سے توقعات بھی وابستہ کی ہیں، یہ حقیقت ہے کہ بھارت کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کی غیر انسانی روش پر گامزن ہے، اس نے جموں وکشمیر کی وادی کی جبری تقسیم کرنے کے بعد اب تزویراتی طور پر کشمیری سیاسی جدوجہد کو بھی کمزورکرنے کے لیے ظالمانہ اقدامات پر عمل کرنا شروع کردیا ہے، وہ لداخ میں میں چین کے اضطراب کا باعث بنا ہے۔
وہ کشمیر میں کشمیریوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لیے وحشیانہ پلاننگ پر کمربستہ ہے، مودی کو غلط فہمی ہوگئی ہے کہ عالمی قوتیں انھیں اس تزویراتی بے راہ روی سے روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکیں گی اور وہ بی جے پی کے ہندو توا منصوبہ کا کشمیر پر اطلاق کرانے کے لیے نہ صرف بے چین ہے بلکہ اپنے نام نہاد آئینی اقدامات کی آڑ میں وہ عالمی امن کے لیے خطرہ بنتا جارہا ہے۔
اس حوالہ سے وزیر اعظم عمران خان کا صدر ٹرمپ کو یاد دہانی کرانا وقت کی اولین ضرورت ہے، صدر ٹرمپ کو افغانستان کی دلدل سے نکلنے کے لیے پاکستان کی ضرورت رہے گی، یرغمالیوںکی بازیابی جہاں ٹرمپ کے لیے باعث طمانیت پیش رفت رہی ہے وہاں امریکا طالبان سے مذاکرات کے دوبارہ شروع کرنے پر عمران خان سے رجوع کرنے کا سوچ سکتا ہے۔ لیکن پاکستان افغان اورکشمیر مسئلہ پر ٹرمپ کودرپیش معاملات کو بھی پیش نظر رکھے،اس وقت صدرٹرمپ کو مواخذہ کا سامنا ہے۔
امریکی میڈیا اس بات کا عندیہ دے رہا ہے کہ وہ مواخذہ کا سامنا کرنے کے لیے بھی حقائق کا انکشاف بھی کرسکتے ہیں، کوشش ہورہی ہے کہ ریپبلکن رہنماؤں اور وائٹ ہاؤس کے مابین مواخذہ کو دو ہفتوں تک محدود کرنے کی تجویز منظورہوجائے، مواخذہ میں پیش ہونے والے گواہوں کا کہنا ہے کہ یوکرائن کے معاملہ میں روس کو اپنے ایجنڈے کو بڑھاوا دینے کا موقع مل گیا ہے،گواہوں کے مطابق امریکی عوام تقسیم ہوتے نظر آتے ہیں۔ لہذا صائب وقت ہے کہ وزیراعظم صدر ٹرمپ کوکشمیر اور افغانستان کی پیچیدہ صورتحال سے آگاہ کرنے کے لیے اپنے پیج پر رکھنے کی موثرکوشش کریں اور دو طرفہ رابطے کو فعال رکھیں۔
امریکی صدر نے پاکستان کی سہولت کاری پر وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اظہارکیا کہ پاکستان افغانستان میں استحکام کے لیے امن عمل اور مصالحتی کوششیں جاری رکھے گا۔ دونوں رہنماؤں نے مشترکہ مقاصدکے حصول کے لیے مل کرکام جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدرکو مقبوضہ کشمیرکی صورتحال سے آگاہ کیا اور انھیں بتایا کہ80 لاکھ لوگ بدستور بھارتی فوج کے محاصرے میں ہیں۔
انھوں نے ثالثی کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششوں کو بھی سراہا۔ انھوں نے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیرکے پرامن حل کے لیے سہولت کاری کی اپنی کوششیں کو جاری رکھیں،اپنی نیویارک ملاقات کو یادکرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعاون کے لیے کثیرجہتی کوششیں اور باہمی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم عمران خان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مسئلہ کشمیر کے پر امن حل اورافغانستان میں یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے جن جذبات وخیالات کا اظہارکیا ہے وہ خوش آیند یاد آوری ہے، امریکا کو افغانستان کی صورتحال اور مسئلہ کشمیرکی اندوہناک داخلی حالات سے آگاہ کرنا، اس لیے بھی ناگزیر ہے کہ امریکا کے لیے خطے کی صورتحال کسی ٹیسٹ کیس سے کسی طورکم نہیں، کشمیر اس لیے بھی ان کے ذہن،اسٹرٹیجی اور آیندہ کے لائحہ عمل میں رہنا چاہیے کہ کشمیریوں کو بھارت نے ایک جیل خانہ بنا دیا ہے اور عالمی ضمیر نے کشمیریوں کو فراموش کر دیا ہے۔
میڈیا اور سفارت کارانہ کوششوں کی وجہ سے کشمیر دنیا کے لیے ایک فلیش پوائنٹ تو بن چکا ہے مگر عالمی برادری سے کشمیریوں کو جو توقعات تھیں وہ پوری نہ ہوسکیں، صدر ٹرمپ نے ثالثی کی کوشش کا حوالہ کئی بار دیا اور عمران کو اس بات کا یقین بھی دلایا کہ وہ شدید خواہش رکھتے ہیں کہ کشمیرکے مسئلہ پر انھیں ثالثی کا موقع مل جائے۔
لیکن اس بریک تھروکے لیے نریندر مودی سے جس سطح پرکثیرجہتی کوششوں اورہنگامی طور پر انسانی ضمیرکو درمیان میں لاکر کشمیریوں کا محاصرہ توڑنا ضروری تھا وہ کام کسی عالمی اشتراک عمل اور خطے کی متحرک قوتوں کے تعاون اور حمایت سے قاصر رہیں، لیکن پاکستان نے اپنی کمٹمنٹ اورکشمیریوں کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھا ہے اور عالمی قوتوں کو باورکرایا کہ کشمیر موجودہ صدی کا اولین دہکتا ہوا مسئلہ ہے، جسے پر امن طریقے اور موثر سفارت کاری اور فیصلہ کن ڈائیلاگ سے حل کیا جانا چاہیے۔
کشمیری رہنما علی گیلانی نے اپنے ایک حالیہ خط میں جو عمران خان کے نام لکھا گیا انھوں انسانی حقوق، قانونی اور تاریخی سیاسی جدوجہدکی حمایت کے لیے پاکستان کی انتھک سفارتی، انسانی، سیاسی اور اخلاقی کوششوں کی تعریف کی اورکچھ اہم اقدامات کے لیے پاکستان سے توقعات بھی وابستہ کی ہیں، یہ حقیقت ہے کہ بھارت کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کی غیر انسانی روش پر گامزن ہے، اس نے جموں وکشمیر کی وادی کی جبری تقسیم کرنے کے بعد اب تزویراتی طور پر کشمیری سیاسی جدوجہد کو بھی کمزورکرنے کے لیے ظالمانہ اقدامات پر عمل کرنا شروع کردیا ہے، وہ لداخ میں میں چین کے اضطراب کا باعث بنا ہے۔
وہ کشمیر میں کشمیریوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لیے وحشیانہ پلاننگ پر کمربستہ ہے، مودی کو غلط فہمی ہوگئی ہے کہ عالمی قوتیں انھیں اس تزویراتی بے راہ روی سے روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکیں گی اور وہ بی جے پی کے ہندو توا منصوبہ کا کشمیر پر اطلاق کرانے کے لیے نہ صرف بے چین ہے بلکہ اپنے نام نہاد آئینی اقدامات کی آڑ میں وہ عالمی امن کے لیے خطرہ بنتا جارہا ہے۔
اس حوالہ سے وزیر اعظم عمران خان کا صدر ٹرمپ کو یاد دہانی کرانا وقت کی اولین ضرورت ہے، صدر ٹرمپ کو افغانستان کی دلدل سے نکلنے کے لیے پاکستان کی ضرورت رہے گی، یرغمالیوںکی بازیابی جہاں ٹرمپ کے لیے باعث طمانیت پیش رفت رہی ہے وہاں امریکا طالبان سے مذاکرات کے دوبارہ شروع کرنے پر عمران خان سے رجوع کرنے کا سوچ سکتا ہے۔ لیکن پاکستان افغان اورکشمیر مسئلہ پر ٹرمپ کودرپیش معاملات کو بھی پیش نظر رکھے،اس وقت صدرٹرمپ کو مواخذہ کا سامنا ہے۔
امریکی میڈیا اس بات کا عندیہ دے رہا ہے کہ وہ مواخذہ کا سامنا کرنے کے لیے بھی حقائق کا انکشاف بھی کرسکتے ہیں، کوشش ہورہی ہے کہ ریپبلکن رہنماؤں اور وائٹ ہاؤس کے مابین مواخذہ کو دو ہفتوں تک محدود کرنے کی تجویز منظورہوجائے، مواخذہ میں پیش ہونے والے گواہوں کا کہنا ہے کہ یوکرائن کے معاملہ میں روس کو اپنے ایجنڈے کو بڑھاوا دینے کا موقع مل گیا ہے،گواہوں کے مطابق امریکی عوام تقسیم ہوتے نظر آتے ہیں۔ لہذا صائب وقت ہے کہ وزیراعظم صدر ٹرمپ کوکشمیر اور افغانستان کی پیچیدہ صورتحال سے آگاہ کرنے کے لیے اپنے پیج پر رکھنے کی موثرکوشش کریں اور دو طرفہ رابطے کو فعال رکھیں۔