عالمی بینک کی طرف سے بجٹ امداد کی بحالی

حکومت اور آئی ایم ایف ایک دوسرے کی ضرورت یک جان دوقالب بن چکے ہیں۔

حکومت اور آئی ایم ایف ایک دوسرے کی ضرورت یک جان دوقالب بن چکے ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

عالمی بینک نے چار برس بعد پاکستان کی بجٹ امداد بحال کرتے ہوئے اگلے برس مارچ تک 500 ملین ڈالرکا قرضہ منظور کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ موجودہ حکومت پاکستانی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے، اس کے مثبت اثرات یقینا مرتب ہونگے۔ اس حوالے سے وزیر اعظم اور ان کی ٹیم کافی پر امید ہے۔

اس خبرکے پس منظر میں جائیں تو وہ کچھ یوں ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک نے پاکستان کی معاشی حالت بگڑنے پر2017میں بجٹ امداد بندکر دی تھی کیونکہ عالمی بینک نے بجٹ امدادکو روپیہ گرانے سے مشروط کیا تھا، لیکن سابق حکومت نے اس ہدایت پر عمل نہیں کیا تھا، جس کی وجہ سے یہ امداد روک دی گئی تھی۔گوکہ موجودہ حکومت آئی ایم ایف کی شرائط پر پوری طرح عمل درآمدکر رہی ہے۔ ٹیکس نیٹ کو پھیلایا جا رہا ہے۔


حکومت نے آتے ساتھ ہی روپے کی قدر ڈالرکے مقابلے میں گرا بھی دی تھی اور آئی ایم ایف کے حاضر سروس افسران کو حکومتی اداروں میں نمایاں پوسٹوں پر تعینات بھی کر دیا۔ تازہ ترین صورتحال تو یہ بنتی ہے کہ یہ امداد پانے کے لیے زرمبادلہ کے ذخائر ڈھائی ماہ کے درآمدی بل کے مطابق ہونا لازمی تھے۔گو پاکستان اس شرط پر پورا نہیں اترتا مگرچونکہ وہ آئی ایم ایف پروگرام پردستخط کرچکا ہے، سو عالمی بینک کی طرف سے بھی یہ شرط نرم کیے جان کا واضح امکان موجود ہے۔

بادی النظر میں دیکھا جائے تو حکومت اور آئی ایم ایف ایک دوسرے کی ضرورت یک جان دوقالب بن چکے ہیں، لیکن بین السطور تو ملک میں مہنگائی کا جو سونامی آیا ہوا ہے اس میں مڈل وغریب کلاس کے افراد خس وخاشاک کی طرح بہتے جا رہے ہیں، ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ روزمرہ کی اشیائے خورونوش تک خریدنے کی سکت عام آدمی میں نہیں رہی۔ اس کے لیے تو یہ سب کچھ الفاظ کے گورگھ دھندے کے سوا کچھ نہیں۔

دوسری جانب15نومبرکو ختم ہونے والے ہفتے میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر45 ملین ڈالرسے بڑھ کر 8ارب 44کروڑ ڈالرہوگئے،جس میں حکومتی ڈیبیٹ سیکیورٹیزمیں غیرملکی سرمایہ کاروں کی 450 ملین ڈالرکی سرمایہ کاری بھی شامل ہے جو پاکستان میں بہت پر خطر سمجھا جاتاہے۔ہم تو صرف امید ہی کرسکتے ہیں کہ ملکی معیشت جلد ہی گرداب سے نکل آئے اوردرست سمت میں اپنا سفر جاری رکھ سکے۔
Load Next Story