اسموگ آلودگی میں لاہور دنیا میں نمبر ون
لاکھوں عوام شدید ذہنی کرب اور انسانی صحت کے مسائل سے دوچار ہیں اور حکومت عملی طور پر متحرک نہیں ہے۔
لاکھوں عوام شدید ذہنی کرب اور انسانی صحت کے مسائل سے دوچار ہیں اور حکومت عملی طور پر متحرک نہیں ہے۔ فوٹو: فائل
گزشتہ روز پاکستان کا شہرلاہور فضائی آلودگی میں، دنیا بھر میں پہلے نمبر پر رہا۔ یہ انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر اور الارمنگ صورتحال ہے،کئی ممالک میں تو ایسی صورت پیش آجائے تو ایمرجنسی نافذ کرکے اس کے تدارک کے اقدامات شروع کر دیتے ہیں، لیکن ہمارا قومی وطیرہ ہے کہ پانی سر سے اونچا ہوجانے کے بعد ہمیں ہوش آتا ہے اور ہم اپنے بچاؤکے لیے ہاتھ پیر مارنا شروع کرتے ہیں۔
ہمارے یہاں اب تک فصلوں کی باقیات کوجلانے پر پابندی کے باوجود وہ جلائی جا رہی ہیں، اینٹوں کے بھٹوں اور فضائی آلودگی کا باعث بننے والی فیکٹریوں کو بند نہیں کیا جا سکا ہے۔ پورے صوبے میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہیں۔
لاہور، گوجرانوالہ اورفیصل آباد میں نجی وسرکاری اسکولز بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ لاکھوں عوام شدید ذہنی کرب اور انسانی صحت کے مسائل سے دوچار ہیں اور حکومت عملی طور پر متحرک نہیں ہے۔چند ماہ قبل ساتویں ایشین ریجنل کنررویشن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا قدرتی ماحول کا تحفظ ہماری حکومت کی ترجیح ہے، ماحولیاتی تبدیلی کا مضمون نصاب میں شامل کر رہے ہیں، لاہورآلودہ ترین شہر بن چکا ہے۔
لیکن وزیراعظم کی فکرمندی اور تشویش پر پنجاب حکومت نے کیا اقدامات اٹھائے کسی کو کچھ نہیں پتا۔ تازہ ترین صورتحال میں پاکستانی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گْل نے امریکی خلائی ادارے ناسا کی ایک تصویر ٹویٹ کی اور ساتھ کہا کہ انڈیا میں کٹائی کے بعد کھیتوں کو آگ لگائی جا رہی ہے، جو لاہور میں اسموگ کی وجہ بن رہی ہے۔
ان کی بات درست ہونے کے باوجود ہم اس بات کوکیسے نظراندازکرسکتے ہیں کہ لاہور میں اسموگ کا باعث بننے والی بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کی وجوہات میں فیکٹریوں سے زہریلی اور آلودہ گیسوں کا اخراج ، اینٹوں کے بھٹوں سے پھیلنے والی آلودگی، بڑھتی ہوئی ٹریفک اورگاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں بھی شامل ہے۔
جواب آں غزل یہ ہے کہ اگر حکومت نے اقدامات کیے ہوتے تو اس وقت صورتحال انتہائی تشویش ناک رخ اختیار نہ کرتی کیونکہ اسموگ کی وجہ سے لوگ بڑی تعداد میں گلے، سانس، جلد اور آنکھوں کی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔
ڈاکٹرزکے مطابق ایسے موسم کے دوران دل اور سانس کے مریضوں کو اسموگ کی شدت والے علاقوں میں نہیں جانا چاہیے جب کہ موٹر سائیکل سواروں کو ماسک کا استعمال کرنا چاہیے۔ ہم ان سطورکے ذریعے حکومت سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اسموگ کے خاتمے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے۔
ہمارے یہاں اب تک فصلوں کی باقیات کوجلانے پر پابندی کے باوجود وہ جلائی جا رہی ہیں، اینٹوں کے بھٹوں اور فضائی آلودگی کا باعث بننے والی فیکٹریوں کو بند نہیں کیا جا سکا ہے۔ پورے صوبے میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہیں۔
لاہور، گوجرانوالہ اورفیصل آباد میں نجی وسرکاری اسکولز بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ لاکھوں عوام شدید ذہنی کرب اور انسانی صحت کے مسائل سے دوچار ہیں اور حکومت عملی طور پر متحرک نہیں ہے۔چند ماہ قبل ساتویں ایشین ریجنل کنررویشن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا قدرتی ماحول کا تحفظ ہماری حکومت کی ترجیح ہے، ماحولیاتی تبدیلی کا مضمون نصاب میں شامل کر رہے ہیں، لاہورآلودہ ترین شہر بن چکا ہے۔
لیکن وزیراعظم کی فکرمندی اور تشویش پر پنجاب حکومت نے کیا اقدامات اٹھائے کسی کو کچھ نہیں پتا۔ تازہ ترین صورتحال میں پاکستانی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گْل نے امریکی خلائی ادارے ناسا کی ایک تصویر ٹویٹ کی اور ساتھ کہا کہ انڈیا میں کٹائی کے بعد کھیتوں کو آگ لگائی جا رہی ہے، جو لاہور میں اسموگ کی وجہ بن رہی ہے۔
ان کی بات درست ہونے کے باوجود ہم اس بات کوکیسے نظراندازکرسکتے ہیں کہ لاہور میں اسموگ کا باعث بننے والی بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کی وجوہات میں فیکٹریوں سے زہریلی اور آلودہ گیسوں کا اخراج ، اینٹوں کے بھٹوں سے پھیلنے والی آلودگی، بڑھتی ہوئی ٹریفک اورگاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں بھی شامل ہے۔
جواب آں غزل یہ ہے کہ اگر حکومت نے اقدامات کیے ہوتے تو اس وقت صورتحال انتہائی تشویش ناک رخ اختیار نہ کرتی کیونکہ اسموگ کی وجہ سے لوگ بڑی تعداد میں گلے، سانس، جلد اور آنکھوں کی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔
ڈاکٹرزکے مطابق ایسے موسم کے دوران دل اور سانس کے مریضوں کو اسموگ کی شدت والے علاقوں میں نہیں جانا چاہیے جب کہ موٹر سائیکل سواروں کو ماسک کا استعمال کرنا چاہیے۔ ہم ان سطورکے ذریعے حکومت سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اسموگ کے خاتمے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے۔