پولیس کے ہاتھوں شہریوں کو اغوا کر کے تاوان لینے کے واقعات بڑھ گئے

سرسید ٹاؤن سے مغوی شہری کو بازیاب کر کے سی ٹی ڈی سول لائن کے افسر کو 10 لاکھ روپے مانگنے پر گرفتار کر لیا گیا

ایس ایس پی ایسٹ کے معتمد خاص معطل عمران گجر کی مغوی شہریوں سے تاوان وصولی کا واقعہ منظر عام پر آ گیا ۔ فوٹو : فائل

پولیس کے ہاتھوں شہریوں کو اغوا اور تاوان لینے کے واقعات بڑھ گئے۔

نارتھ کراچی سیکٹر الیون بی سے شہباز نامی شخص کے اغوا کا مقدمہ مغوی کے والد شوکت اقبال کی مدعیت میں درج کیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ ان کے بیٹا شہباز اپنے دوست کے ہمراہ سروس روڈ سیکٹر الیون بی میں واقع ہوٹل پر کسی سے ملنے گیا تھا کہ اس دوران پہلے سے موجود سادہ لباس پولیس اہلکار جو کہ پولیس موبائل میں سوار تھے بیٹے کو اغوا کر کے لے گئے جس کی اطلاع اس کے دوست نے ہمیں دی بعدازاں میرے داماد نے تھانے میں جا کر واقعے سے پولیس کو آگاہ کیا بعدازاں پولیس کو اطلاع ملی کہ مغوی شہباز کی رہائی کے عوض 10 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ سامنے آیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جب تحقیقات کی گئی تو انکشاف ہوا کہ تاوان طلب کرنے والا سی ٹی ڈی سول لائن کا پولیس افسر ہے جس پر ڈی آئی جی ویسٹ نے کراچی پولیس چیف کو تمام صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے چھاپے کی اجازت طلب کی اور بعدازاں ڈی آئی جی ویسٹ ڈاکٹر امین یوسفزئی کی نگرانی میں ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس نے سی ٹی ڈی سول لائن میں کامیاب چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے مغوی شہباز کو بازیاب کرتے ہوئے اے ایس آئی زاہد سلیم کو گرفتار کرلیا۔

مغوی شہباز گزشتہ ماہ 30 اکتوبر کو دبئی سے آیا تھا تاہم پولیس اس حوالے سے تحقیقات کر رہی ہے کہ شہباز کے اغوا کے پس پردہ کیا مقاصد تھے۔

شہر میں پولیس گردی کے ایک اور واقعے میں ایس ایس پی ایسٹ کے معتمد خاص عمران گجر کا ایک اور کارنامہ منظر عام پر آگیا جس میں احمد شاہ راہو نامی شخص کی جانب سے کراچی پولیس چیف کی دی جانے والی درخواست اور ویڈیو بیان سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ جمشید کوارٹر کے علاقے میں پولیس موبائل میں سوار سادہ لباس اہلکاروں نے مجھے دیگر 3 دوستوں عثمان ، آصف اور معدود اشرف کو اسلحے کے زور پر اغوا کر کے آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر اپنے پولیس موبائل میں ڈال کر لے گئے اس وقت ہمارے پاس نیاز حلیم کے لیے جمع کیے گئے 55 ہزار روپے تھے۔


بعدازاں انھوں نے کچھ فاصلے پر لیجا کر ہمیں ایک کمرے میں لیجایا گیا تو ایک آواز آئی کہ میں انسپکٹر عمران گجر ہوں زیادہ شور مچایا تو سنسان مقام پر لیجا کر پولیس مقابلہ کر دونگا تم لوگ علاقے میں چرس فروخت کرتے ہو لہذا دو، دو لاکھ روپے کا بندوبست کرو بعدازاں اسی رات کو فجر کے وقت میں نے ، آصف اور معددو اشرف نے 50 ، 50 ہزار روپے رشوت دیکر جان چھڑائی تاہم انھوں نے عثمان کو نہیں چھوڑا اور اس کی رہائشی کے عوض 2 لاکھ روپے طلب کیے۔

احمد شاہ راہو نے مزید الزام عائد کرتے ہوئے بتایا کہ عثمان کی اہلیہ نے زیور گروی رکھوا کر ایک لاکھ روپے کا بندوبست کیا جسے مبینہ طور پر عمران گجر اور شارق نامی شخص نے عثمان کے گھر آکر رقم وصول کی اور مزید ایک لاکھ روپے نہ دینے پر سنگین نتائج کی دھمکی دی جبکہ انھوں نے ایس ایچ او سولجر بازار سے فون پر بات کرائی جس کے بعد پولیس نے عثمان کو چھوڑ دیا۔

احمد شاہ کے مطابق عثمان جب مزید ایک لاکھ روپے نہیں دے سکا تو رینجرز نے عثمان کو گھر پر چھاپہ مار کر اپنی حراست میں لے لیا بعدازاں رینجرز حکام کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا تو انھوں نے تحقیقات کر کے ایک ہفتے کے بعد عثمان کو بغیر کچھ ثبوت کے بلوچ کالونی تھانے کے حوالے کر دیا جس نے عثمان کے خلاف منشیات برآمد ہونے کا مقدمہ درج کرلیا تاہم بعدازاں جب عثمان ضمانت پر رہا ہو کر آیا تو عمران گجر نے شارق کو عثمان کے گھر بھیجا اور اہلخانہ کو دھمکی دی کہ اگر ہمارے خلاف زبانی کھولی تو سب کو دوبارہ بند کر دیں گے۔

درخواست گزار احمد شاہ راہو کا کہنا ہے کہ اب بھی عمران گجر کے پاس میری موٹر سائیکل کے کاغذات ، والد مرحوم کی انگوٹھی ، عثمان کا موبائل فون اور 55 ہزار روپے نقد جو کہ ہمیں حراست میں لیے جانے کے وقت ہمارے پاس موجود تھے وہ انہی کے پاس موجود ہیں۔

پولیس گردی کے متاثرہ احمد شاہ نے کراچی پولیس چیف سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی غیر جانبدار تحقیقات کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی جائے اگر ہم غلط پائے گئے تو ہمارے خلاف کارروائی کی جائے۔
Load Next Story