پی ٹی اے نے غیرمصدقہ سمزکی بلاکنگ کی جانچ شروع کردی

ڈی جی انفورسمنٹ کی سربراہی میں ٹیم کا سیلولر موبائل آپریٹرزکے دفاتر کا دورہ

دورے کے دوران پی ٹی اے نے سی ایم اوز کی جانب سے غیر تصدیق شدہ سموں کی شناخت اور بلاکنگ سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا۔ فوٹو: فائل

KARACHI:
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے غیر تصدیق شدہ سموں کی بلاکنگ کی جانچ پڑتال کیلیے سیلولر موبائل آپریٹرز (سی ایم اوز) کے ہوم لوکیشن رجسٹرز (ایچ ایل آر) کا معائنہ شروع کر دیا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل انفورسمنٹ کی سربراہی میں ٹیم نے جمعرات اور جمعہ کو ان موبائل سموں کی بلاکنگ کے حوالے سے سیلولر موبائل آپریٹرز کے دفاتر کا دورہ کیا جن کی ستمبر 2013 تک دوبارہ تصدیق نہیں ہو سکی تھی، دورے کے دوران پی ٹی اے نے سی ایم اوز کی جانب سے غیر تصدیق شدہ سموں کی شناخت اور بلاکنگ سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر سی ایم اوز نے پی ٹی اے کو اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ شناختی کارڈ ہولڈر کے علم کے بغیر ایکٹیویٹ اور استعمال ہونے والی سموں کے خلاف بھرپور کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔




واضح رہے کہ پی ٹی اے کی جانب سے موبائل سمزکے کوائف کی تصدیق کے لیے ''سم انفارمیشن سسٹم 668 ''متعارف کرایا گیاتھا جس کے ذریعے صارفین اپنا قومی شناختی کارڈ نمبر668پر بذریعہ ایس ایم ایس بھیج کر یہ جان سکتے ہیں کہ ان کے قومی شناختی کارڈ پر کس موبائل کمپنی کی کتنی سمیں جاری کی گئی ہیں، ریکارڈ میں کسی غلطی کی صورت میں صارف متعلقہ کسٹمر سروس سینٹرپر جا کر شکایت کا اندراج کرتے ہوئے اپنے شناختی کارڈ سے اضافی سمز ہٹواسکتا ہے۔

ایسی تمام غیرمصدقہ سموں کے صارفین اپنے متعلقہ آپریٹروں سے رابطہ کرکے اپنے شناختی کارڈ پر جاری کی جانے والی سموں کو15دن کے اند اندر بلاک کراسکتے ہیں، اس سلسلے میں صارفین سے گزارش ہے کہ بغیر علم ان کے شناختی کارڈ پر جاری ہونے والی سموں کو بلاک کر نے کے اس نظام کی حمایت کرتے ہوئے پی ٹی اے اور موبائل آپریٹرز کے ساتھ تعاون کریں، پی ٹی اے کی جانب سے غیر تصدیق شدہ سموں کی شناخت اور بلا کنگ کا عمل حکومت کی پالیسی کے مطابق کیا جا رہا ہے، امید کی جاتی ہے کہ غیر تصدیق شدہ سموں کا مسئلہ عوام سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ کاوشوں سے حل ہو سکے گا۔
Load Next Story