روس کا پاکستان زرعی برآمدات پر پابندی ختم کرنے سے انکار

پاکستان سے زرعی مصنوعات کی درآمد زرعی بیماریوں کے لحاظ سے روس کے لیے ہائی رسک ہے، روسی حکام

اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین وحید احمد نے بتایا کہ روسی حکام نے پابندی کے خاتمے کیلیے پاکستان کی درخواست رد کردی ہے۔ فوٹو: فائل

روسی قرنطینہ حکام نے زرعی مصنوعات کی درآمد پر پابندی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی درخواست رد کردی ہے۔

پاکستان کی وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈریسرچ کی جانب سے یکم اکتوبر 2013 کو ماسکو میں پاکستانی سفارتخانے کے ذریعے روسی حکام کو ارسال کردہ خط نمبر F.1-2/2012-DFSC-1 کے ذریعے پاکستانی برآمدات پر عائد پابندی کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا تھا تاہم روس کی فیڈرل سروس فار وٹرنری اینڈ فائیٹو سینٹری سرویلنس نے پاکستان کے قرنطینہ نظام کو غیرموثر قرار دیتے ہوئے پابندی کے خاتمے سے انکار کردیا۔ روسی حکام نے پاکستان کے مطالبے کے جواب میں ارسال کردہ خط میں کہا کہ پاکستان سے زرعی مصنوعات کی درآمد زرعی بیماریوں کے لحاظ سے روس کے لیے ہائی رسک ہے تاہم روسی حکام نے درخواست پر غور کے لیے شرائط عائد کی ہیں جن میں پاکستان سے قرنطینہ نظام کے بارے میں مکمل معلومات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

روسی حکام نے پاکستانی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ سے کہا ہے کہ روس کو ایکسپورٹ کی جانے والی تمام زرعی مصنوعات کے معائنے اور سرٹیفکیٹ کے اجرا کے طریقہ کار اور پاکستان کی سرحد سے باہر جانے تک کنسائنمنٹ کی حالت سمیت قانونی اختیارات اور قرنطینہ اصولوں کی خلاف ورزی پرتادیبی اقدامات کی تفصیل فراہم کی جائے۔ روس کی جانب سے ٹکا سا جواب ملنے کے بعد وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ نے پاکستانی زرعی مصنوعات پر روسی قرنطینہ حکام کی پابندی ختم کرانے کے لیے روسی ماہرین کو پاکستان بلانے کا فیصلہ کیا ہے تاہم پاکستانی ایکسپورٹرز وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اور ماسکو میں پاکستانی سفارتخانے کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دے رہے ہیں۔

اس ضمن میں جمعرات کو اسلام آباد میں وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ میں ایکسپورٹرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ سکندر حیات خان بوسن نے روس کی جانب سے پاکستانی زرعی مصنوعات پر عائد کی جانے والی پابندی کے خاتمے کے لیے اب تک کی جانے والی کوششوں سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کی جانب سے ماسکو میں پاکستانی سفارتخانے کے ذریعے روسی قرنطینہ حکام کو خط روانہ کیا جاچکا ہے جس میں فوری طور پرپاکستانی زرعی مصنوعات پر پابندی کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔


وفاقی وزیر نے کہا کہ زرعی مصنوعات کے معیار بالخصوص قرنطینہ قواعد و ضوابط اور پراسیجرز کے بارے میں روسی قرنطینہ کے تمام خدشات دور کیے جائیں گے، اس مقصد کے لیے روسی قرنطینہ ماہرین کو پاکستان کے دورے پر بلایا جائے گا اور انہیں فارم سے لے کر پراسیسنگ اور پیکنگ اور قرنطینہ کی سطح پر بیماریوں کی روک تھام کے لیے پاکستانی قرنطینہ اور متعلقہ محکموں کے اقدامات سے روشناس کرایا جائے گا۔



اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین وحید احمد نے بتایا کہ روسی حکام نے پابندی کے خاتمے کیلیے پاکستان کی درخواست رد کردی ہے اور پاکستان سے قرنطینہ انتظامات کے نام پر طویل اقدامات کا مطالبہ کردیا ہے جو کینو کی یکم دسمبر سے برآمدات کے آغاز تک پورے نہیں کیے جاسکتے، روسی قرنطینہ حکام کی جانب سے پاکستان پر عائد کی جانے والی پابندی کے خاتمے کے لیے ماسکو میں پاکستانی سفارتخانہ غفلت برت رہا ہے جس سے ملک کی زبوں حال معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کی جانب سے پاکستانی سفارتخانے کو یکم اکتوبر کو مراسلہ بھیجا گیا جس کا جواب سفارتخانے نے 23اکتوبر کو وزارت کو بھیجا جس پر 14اکتوبر کی تاریخ درج ہے، ایک خط کا جواب دینے میں ایک ماہ کی تاخیر سے ماسکو میں پاکستانی سفارتخانے کے احساس ذمے داری کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

یاد رہے کہ روسی قرنطینہ حکام نے پاکستانی آلو میں وائرس کی موجودگی کے خدشے کو جواز بناکر تمام زرعی مصنوعات بشمول پھل سبزیوں اور چاول کی درآمدات پر پابندی عائد کردی ہے، پابندی کا اطلاق یکم اکتوبر سے کیا گیا ہے۔ اجلاس میں آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالمالک، سابق چیئرمین عبدالواحد اور وحید احمد نے شرکت کی۔ پھل اور سبزیوں کے برآمد کنندگان نے وفاقی وزیر کو بتایا کہ روسی حکام نے 6سال قبل پاکستان میں 12 فروٹ فیکٹریوں کا معائنہ کرکے انہیں روسی قرنطینہ ڈپارٹمنٹ کے اصولوں پر پورا اترنے کی سند فراہم کی تھی۔

تاہم روسی حکام کے حالیہ فیصلے میں اپنی ہی منظورشدہ فیکٹریوں کو بھی نظر انداز کردیا گیا، ایکسپورٹرز نے وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ سے اپیل کی کہ مسئلے کی سنگینی کے پیش نظر روسی قرنطینہ حکام کو جلداز جلد پاکستان بلوایا جائے اور ان کے تحفظات کے خاتمے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں بصورت دیگر پاکستان کو 16سے 17 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوگا، پاکستانی پھل اور سبزیوں کی برآمدات جس میں گزشتہ مالی سال 19فیصد اضافہ ہوا روسی پابندی کے نتیجے میں 50فیصد تک کم ہوسکتی ہیں۔
Load Next Story