سینیٹ کی قائمہ کمیٹی3اسپتالوں کی کارکردگی غیر اطمینان بخش قرار دیدی

جناح اسپتال، قومی ادارہ امراض قلب اور بچوں کے اسپتال کو صوبائی خود مختاری کے تحت چلایا جائے۔

مریضوں کومشکلات کاسامناکرنا پڑرہا ہے،اسپتالوں کی مانیٹرنگ سندھ حکومت ہی کریگی،سینیٹرعبدالحسیب ۔فوٹو: فائل

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے ارکان نے 18 ویں ترمیم کی منظوری کے بعد جناح اسپتال، قومی ادارہ امراض قلب اورقومی ادارہ اطفال برائے صحت کی کارکردگی پرعدم اطمینان کا اظہار کیا اورکہا ہے کہ کراچی کے ان تینوں اسپتالوں میں وسائل کے مطابق مریضوں کوطبی سہولتیں میسر نہیں اوریہ اسپتال صوبائی حکومت میں ہیں اور نہ ہی وفاق کے ماتحت،تینوں اسپتالوں کے سربراہ کسی کو جواب دہ نہیں ۔

جس کی وجہ سے اسپتالوں کی کارکردگی شدید متاثر ہورہی ہے جس کاخمیازہ مریضوں کوبھگتنا پڑرہا ہے، اسپتالوں میں آئے دن انتظامی بحران پیداہوتارہتا ہے افسران کی تعیناتیوں اورتقرری وتبادلوں کے حوالے سے کوئی صورتحال واضح نہیں جبکہ صوبائی خود مختاری کے بعد تینوں اسپتال حکومت سندھ کے ماتحت کردیے گئے ہیں ،اب ان تینوں اسپتالوں کووفاق میں نہیں بھیجاجاسکتاکیونکہ خودمختاری کا متفقہ فیصلہ پارلیمان کا ہے،ان تینوں اسپتالوں کومکمل صوبائی خودمختاری کے تحت چلاناہوگاجس کی مانیٹرنگ سندھ حکومت کرے۔

یہ بات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے رکن سینیٹر عبدالحسیب خان نے جمعہ کو صحافیوں کوکمیٹی کے اجلاس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہی، انھوں نے کہاکہ گزشتہ روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کااجلاس چیئرمین سینیٹرظفر علی شاہ کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں کراچی کے جناح اسپتال، قومی ادارہ امراض قلب اور بچوں کے ای آئی سی ایچ اسپتال کی کارکردگی کاجائزہ لیاگیا اجلاس میں جناح اسپتال کی ایگزیکٹوڈائریکٹرپروفیسرتسنیم احسن،جوائنٹ ایگزیکٹوڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی ، پروفیسر جمال رضاسمیت دیگر نے اپنے اپنے اسپتالوں کے مسائل سے سینیٹ کمیٹی کو بھی ا ٓگاہ کیا، تینوں اسپتالوں کے سربراہوں کاکہنا تھا کہ تینوں اسپتالوں کووفاق میں ضم کیاجائے۔




جس پر سینیٹرعبدالحسیب خان نے کمیٹی کوبتایاکہ اسپتالوں کو دوبارہ وفاق میں ضم کرنے کیلیے آئینی ترمیم لانی ہوگی جو ممکن نہیں انھوں نے سندھ کے ان تینوں اسپتالوں کی کارکردگی کے بارے میں بتایا کہ اسپتالوںکی کارکردگی گزشتہ 2سال سے انتہائی مایوس رہی، تینوں اسپتال وفاق میں ہے اور نہ صوبائی حکومت سندھ کے ماتحت، ان اسپتالوں کی مانیٹرنگ کرنے والا کوئی ادارہ نہیں ۔

جس کی وجہ سے اسپتالوں کی ساکھ بھی متاثر ہورہی ہے، انھوں نے کمیٹی کوتجویز دی کہ ان تینوں اسپتالوں کو بہترانداز سے چلانے اور مریضوں کوطبی سہولتوںکی فراہمی کیلیے انھیں مکمل صوبائی خودمختار بنایاجائے اور اس سلسلے میں ایک اتھارٹی بھی قائم کی جائے جو ان اسپتالوں کی مانیٹرنگ بھی کرے، صوبائی خودمختاراتھارٹی کا مسودہ تیار کرکے قانونی شکل دیدی جائے گی،سینیٹر عبدالحسیب خان نے کہا کہ پاکستان میں پہلی بار ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام بھی میری کاوش تھی،انھوں نے بتایا کہ سینیٹرکریم خواجہ نے چیئرمین کمیٹی ظفر علی شاہ کو تجویز دی ہے ان سفارشات کو سی سی اے ( سینٹرل ورکنگ پارٹی ) میں بھیجا جائے ۔
Load Next Story