رنز کا ماؤنٹ ایورسٹ دیکھ کر ہی بیٹسمین ہانپنے لگے
خرم کا پیئر، ہیرو سے زیرو بن گئے،شان بھی صفر پر آؤٹ، یونس نے ’’خودکش شاٹ‘‘ کھیلتے ہوئے وکٹ گنوائی
دبئی ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں جنوبی افریقی کھلاڑی جیک کیلس ، یونس خان کا کیچ ڈراپ کررہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
دبئی ٹیسٹ میں رنز کا مائونٹ ایورسٹ دیکھ کر ہی پاکستانی بیٹسمین ہانپنے لگے، ٹیم 132 رنز پر 4 وکٹیں گنوا کر رسوائی کی گہری کھائی کے دہانے پر پہنچ گئی۔
مصباح الحق (42) اور اسد شفیق (28) نے 62 رنز کی شراکت سے شکست کو ایک روز کیلیے ٹال دیا، ٹیم کو اب بھی 286 رنز کے خسارے کا سامنا ہے، اس وقت ایک بات طے تقریباً ہو چکی کہ اتوار کا دن کھلاڑی ہوٹل میں آرام یا سیرو تفریح کرکے ہی گذاریں گے، تیسرے دن اوپنرز کو کھانا کھانے کی اتنی جلدی تھی کہ صرف 2 رنز پر وکٹیں گنوا کر وقفہ کرا دیا، ابوظبی میں سنچری بنانے والے خرم منظور ہیرو سے زیرو بن گئے اور دوسری اننگز میں بھی صفر پر آئوٹ ہو کر پیئر کی خفت کا شکار ہوئے، یونس خان نے ''خودکش شاٹ'' کھیلتے ہوئے غیرذمہ داری سے وکٹ گنوائی، وہ ڈراپ کیچ سے بھی فائدہ نہ اٹھا سکے، قبل ازیں تیسرے روز میزبان بولرز نے جب ہوش کے ناخن لیے تو پانی سروں سے گذر چکا تھا، گوکہ آخری 6 وکٹیں 57 رنز کے دوران حاصل کر لیں مگر اس دوران جنوبی افریقہ کا مجموعہ 517 تک پہنچ گیا، یوں اسے 418 کی سبقت حاصل ہوئی، گریم اسمتھ اور ابراہم ڈی ویلیئرز گذشتہ روز کے عمدہ کھیل کا سلسلہ جاری نہ رکھ پائے، دونوں بالترتیب 234 اور 164 کے مجموعی اسکورز پر رخصت ہوئے، سعید اجمل نے 6 وکٹوں کیلیے 151 رنز دیے۔
تفصیلات کے مطابق پہلی اننگز میں 99 پر ڈھیر ہونے والی پاکستانی ٹیم کے ہوش 418 رنز کا خسارہ دیکھ کر ہی اُڑ گئے، 3 روز وکٹ پر قیام تو دور کی بات تین منٹ ہی پہاڑ جیسے لگنے لگے، لنچ سے قبل اوپنرز کو دوسری اننگز میں 6 منٹ بیٹنگ کرنا تھی مگر اس ٹاسک کو بھی پورا نہ کیا جا سکا، نجانے شان مسعود اور خرم منظور کے حلق سے کھانا کیسے نیچے اترا ہو گا کیونکہ صفر پر آئوٹ ہونے سے بھوک ویسے ہی مرگئی ہو گی، لیفٹ ہینڈر کو اسٹین نے ایل بی ڈبلیو کیا ، انھوں نے امپائر کے فیصلے کو چیلنج کر کے ریویو بھی گنوا دیا، ساتھی بیٹسمین نے فلینڈر کی گیند کو بیٹ سے چھو کر سلپ میں کیلس کے پاس پہنچایا، یوں پچھلے میچ میں سنچری جڑنے والے خرم پیئر کا شکار ہو کر عرش سے فرش پر آ گئے، 2 رنز پر اتنی ہی وکٹیں لینے والے پروٹیز خوش خوش کھانا کھانے کیلیے واپس گئے مگر وکٹوں کیلیے ان کی بھوک پھر بھی ختم نہ ہوئی، ''کیریئر بچائو'' اننگز میں اظہر علی نے میدان میں ڈٹ جانے کا عزم کیا مگر اس دوران رنز بنانا بھول گئے، 73 گیندوں پر 19 کی اننگز کھیلنے کے بعد وہ بوجھل قدموں سے وطن واپس گئے، شائد اظہر سمجھ چکے تھے کہ سری لنکا سے سیریز کے میچز ٹی وی پر ہی دیکھنا پڑیں گے۔
ڈومنی نے گیند سنبھالتے ہی انھیں ایل بی ڈبلیو کیا، یونس نے بمشکل ساتھی بیٹسمین کو آخری ریویو گنوانے سے باز رکھا، 28 رنز پر انھیں ایک موقع ملا جب سلپ میں کیچ ڈراپ کر دیا گیا، بھلا ڈومنی میں اتنی ہمت کہاں تھی کہ وہ اس غلطی پر سینئر پلیئر کیلس سے شکوہ کر سکتے، چائے کے سپ لیتے ہوئے یقیناً یونس اور مصباح اسی سوچ میں گم ہونگے کہ ٹیم کی نائو کو منجھدار سے کیسے نکالا جائے، آخری سیشن کے آغاز میں پروٹیز پلیئر ڈوپلیسس کی ٹیمپرنگ کے سبب گیند تبدیل ہوئی اور پاکستان کو 5 پنالٹی رنز ایوارڈ کیے گئے، کچھ دیر بعد یونس خان ، شاہد آفریدی جیسی کیفیت کا شکار ہوگئے، عمران طاہر کی گیند مڈ وکٹ بائونڈری کے پار پہنچانے کی کوشش میں کریز چھوڑ کر آگے نکلے مگر وہ دغا دیتی ہوئی وکٹوں سے جا ٹکرائی، ایسے میں عمران طاہر کو اسٹینڈز میں موجود اہلیہ کو اشارے سے اپنی محبت کا یقین دلانے کا ایک اور موقع مل گیا، اسد شفیق 18 کے اسکور پر ڈی ویلیئرز کے ہاتھوں اسٹمپڈ ہونے سے بال بال بچے، بدقسمت بولر ڈومنی نے سر کھجا کر مایوسی کم کی،ون ڈے میں احتیاط سے کھیلنے والے مصباح نے عمران کی گیند اسٹینڈز میں پہنچاکر شائقین کو چٹکی نوچنے پر مجبور کیا کہ کہیں وہ کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہے۔
خالی نشستوں کے نیچے سے بڑی کوشش کے بعد گیند ملی،اختتامی لمحات میں مصباح کیخلاف اپیل مسترد ہونے پر عمران نے ریویو کا سہارا لیا، مگر گیند گلوز سے چھونے کا واضح ثبوت نہ ملنے پر انھیں ڈی ویلیئرز کا کیچ قرار نہیں دیا گیا، جس وقت کھیل ختم ہوا پاکستان نے 55 اوورز میں 4وکٹ پر132رنز بنائے تھے،مصباح 42اور اسد28پر ناٹ آئوٹ رہے، دونوں کے درمیان پانچویں وکٹ کیلیے62رنز کی شراکت ہو چکی، یہ میچ کی پاکستانی واحد ففٹی پارٹنر شپ ہے، چوتھے روز مزید 286رنز بنا کر ٹیم کو اننگز کی شکست سے بچانا ان دونوں کیلیے سخت چیلنج ہو گا،قبل ازیں پاکستانی بولرز جب خواب غفلت سے جاگے تو بہت دیر ہو چکی تھی، تیسرے روز پروٹیز کی اختتامی 6وکٹیں57 رنز کے دوران حاصل کر لیں مگر اس دوران مجموعی اسکور517ہو گیا، یوں 418رنز کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا،ڈی ویلیئرز (164) اور اسمتھ (234) سابقہ اسکور میں7،7رنز کا اضافہ کر سکے، ڈو پلیسس17پر ناٹ آئوٹ رہے، سعید اجمل نے 6وکٹوں کیلیے151رنز دیے جبکہ عرفان نے 102 رنز کی پٹائی برداشت کر کے 2کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔
مصباح الحق (42) اور اسد شفیق (28) نے 62 رنز کی شراکت سے شکست کو ایک روز کیلیے ٹال دیا، ٹیم کو اب بھی 286 رنز کے خسارے کا سامنا ہے، اس وقت ایک بات طے تقریباً ہو چکی کہ اتوار کا دن کھلاڑی ہوٹل میں آرام یا سیرو تفریح کرکے ہی گذاریں گے، تیسرے دن اوپنرز کو کھانا کھانے کی اتنی جلدی تھی کہ صرف 2 رنز پر وکٹیں گنوا کر وقفہ کرا دیا، ابوظبی میں سنچری بنانے والے خرم منظور ہیرو سے زیرو بن گئے اور دوسری اننگز میں بھی صفر پر آئوٹ ہو کر پیئر کی خفت کا شکار ہوئے، یونس خان نے ''خودکش شاٹ'' کھیلتے ہوئے غیرذمہ داری سے وکٹ گنوائی، وہ ڈراپ کیچ سے بھی فائدہ نہ اٹھا سکے، قبل ازیں تیسرے روز میزبان بولرز نے جب ہوش کے ناخن لیے تو پانی سروں سے گذر چکا تھا، گوکہ آخری 6 وکٹیں 57 رنز کے دوران حاصل کر لیں مگر اس دوران جنوبی افریقہ کا مجموعہ 517 تک پہنچ گیا، یوں اسے 418 کی سبقت حاصل ہوئی، گریم اسمتھ اور ابراہم ڈی ویلیئرز گذشتہ روز کے عمدہ کھیل کا سلسلہ جاری نہ رکھ پائے، دونوں بالترتیب 234 اور 164 کے مجموعی اسکورز پر رخصت ہوئے، سعید اجمل نے 6 وکٹوں کیلیے 151 رنز دیے۔
تفصیلات کے مطابق پہلی اننگز میں 99 پر ڈھیر ہونے والی پاکستانی ٹیم کے ہوش 418 رنز کا خسارہ دیکھ کر ہی اُڑ گئے، 3 روز وکٹ پر قیام تو دور کی بات تین منٹ ہی پہاڑ جیسے لگنے لگے، لنچ سے قبل اوپنرز کو دوسری اننگز میں 6 منٹ بیٹنگ کرنا تھی مگر اس ٹاسک کو بھی پورا نہ کیا جا سکا، نجانے شان مسعود اور خرم منظور کے حلق سے کھانا کیسے نیچے اترا ہو گا کیونکہ صفر پر آئوٹ ہونے سے بھوک ویسے ہی مرگئی ہو گی، لیفٹ ہینڈر کو اسٹین نے ایل بی ڈبلیو کیا ، انھوں نے امپائر کے فیصلے کو چیلنج کر کے ریویو بھی گنوا دیا، ساتھی بیٹسمین نے فلینڈر کی گیند کو بیٹ سے چھو کر سلپ میں کیلس کے پاس پہنچایا، یوں پچھلے میچ میں سنچری جڑنے والے خرم پیئر کا شکار ہو کر عرش سے فرش پر آ گئے، 2 رنز پر اتنی ہی وکٹیں لینے والے پروٹیز خوش خوش کھانا کھانے کیلیے واپس گئے مگر وکٹوں کیلیے ان کی بھوک پھر بھی ختم نہ ہوئی، ''کیریئر بچائو'' اننگز میں اظہر علی نے میدان میں ڈٹ جانے کا عزم کیا مگر اس دوران رنز بنانا بھول گئے، 73 گیندوں پر 19 کی اننگز کھیلنے کے بعد وہ بوجھل قدموں سے وطن واپس گئے، شائد اظہر سمجھ چکے تھے کہ سری لنکا سے سیریز کے میچز ٹی وی پر ہی دیکھنا پڑیں گے۔
ڈومنی نے گیند سنبھالتے ہی انھیں ایل بی ڈبلیو کیا، یونس نے بمشکل ساتھی بیٹسمین کو آخری ریویو گنوانے سے باز رکھا، 28 رنز پر انھیں ایک موقع ملا جب سلپ میں کیچ ڈراپ کر دیا گیا، بھلا ڈومنی میں اتنی ہمت کہاں تھی کہ وہ اس غلطی پر سینئر پلیئر کیلس سے شکوہ کر سکتے، چائے کے سپ لیتے ہوئے یقیناً یونس اور مصباح اسی سوچ میں گم ہونگے کہ ٹیم کی نائو کو منجھدار سے کیسے نکالا جائے، آخری سیشن کے آغاز میں پروٹیز پلیئر ڈوپلیسس کی ٹیمپرنگ کے سبب گیند تبدیل ہوئی اور پاکستان کو 5 پنالٹی رنز ایوارڈ کیے گئے، کچھ دیر بعد یونس خان ، شاہد آفریدی جیسی کیفیت کا شکار ہوگئے، عمران طاہر کی گیند مڈ وکٹ بائونڈری کے پار پہنچانے کی کوشش میں کریز چھوڑ کر آگے نکلے مگر وہ دغا دیتی ہوئی وکٹوں سے جا ٹکرائی، ایسے میں عمران طاہر کو اسٹینڈز میں موجود اہلیہ کو اشارے سے اپنی محبت کا یقین دلانے کا ایک اور موقع مل گیا، اسد شفیق 18 کے اسکور پر ڈی ویلیئرز کے ہاتھوں اسٹمپڈ ہونے سے بال بال بچے، بدقسمت بولر ڈومنی نے سر کھجا کر مایوسی کم کی،ون ڈے میں احتیاط سے کھیلنے والے مصباح نے عمران کی گیند اسٹینڈز میں پہنچاکر شائقین کو چٹکی نوچنے پر مجبور کیا کہ کہیں وہ کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہے۔
خالی نشستوں کے نیچے سے بڑی کوشش کے بعد گیند ملی،اختتامی لمحات میں مصباح کیخلاف اپیل مسترد ہونے پر عمران نے ریویو کا سہارا لیا، مگر گیند گلوز سے چھونے کا واضح ثبوت نہ ملنے پر انھیں ڈی ویلیئرز کا کیچ قرار نہیں دیا گیا، جس وقت کھیل ختم ہوا پاکستان نے 55 اوورز میں 4وکٹ پر132رنز بنائے تھے،مصباح 42اور اسد28پر ناٹ آئوٹ رہے، دونوں کے درمیان پانچویں وکٹ کیلیے62رنز کی شراکت ہو چکی، یہ میچ کی پاکستانی واحد ففٹی پارٹنر شپ ہے، چوتھے روز مزید 286رنز بنا کر ٹیم کو اننگز کی شکست سے بچانا ان دونوں کیلیے سخت چیلنج ہو گا،قبل ازیں پاکستانی بولرز جب خواب غفلت سے جاگے تو بہت دیر ہو چکی تھی، تیسرے روز پروٹیز کی اختتامی 6وکٹیں57 رنز کے دوران حاصل کر لیں مگر اس دوران مجموعی اسکور517ہو گیا، یوں 418رنز کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا،ڈی ویلیئرز (164) اور اسمتھ (234) سابقہ اسکور میں7،7رنز کا اضافہ کر سکے، ڈو پلیسس17پر ناٹ آئوٹ رہے، سعید اجمل نے 6وکٹوں کیلیے151رنز دیے جبکہ عرفان نے 102 رنز کی پٹائی برداشت کر کے 2کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔