ٹیسٹ کرکٹ اسپیشلسٹ کا کھیل ہے سلمان بٹ
یاسر شاہ اسپن بولنگ میں پیس دکھارہے ہیں، کوالٹی اسپنرز نہیں آرہے ، اوپنر
یاسر شاہ اسپن بولنگ میں پیس دکھارہے ہیں، کوالٹی اسپنرز نہیں آرہے ، اوپنر ۔ فوٹو: فائل
سابق ٹیسٹ کپتان سلمان بٹ نے کہا ہے کہ آسٹریلیا میں سب سے اچھی بیٹنگ وکٹ ہوتی ہیں۔
سابق ٹیسٹ کپتان سلمان بٹ نے کہا ہے کہ آسٹریلیا میں سب سے اچھی بیٹنگ وکٹ ہوتی ہیں۔ وکٹ کو سمجھ کر اگر کھیلا جائے تو رنز بنائے جاسکتے تھے، تجربہ کار کھلاڑیوں کو ایسی کنڈیشنز میں کھلانا چاہیے تھا،میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ آسٹریلیا کیخلاف پاکستان ٹیم ٹیسٹ چیمپیئن شپ کھیل رہی ہے،10 سال بعد جو کھلاڑی بنانے ہیں ان کیساتھ ابھی نہیں چلنا ہے۔
ایسے کھلاڑیوں کو شامل کرنا تھا جو موجودہ کنڈیشن میں پرفارمنس دے رہے ہوں،ٹیسٹ کرکٹ اسپیشلسٹ کا کھیل ہے اگر مگر کا نہیں، یاسر شاہ اسپن بولنگ میں پیس دکھارہے ہیں،پاکستان میں کوالٹی اسپنرز نہیں آرہے،اس ملک میں جو وکٹیں بن رہی ہیں وہ فاسٹ بولرز کیلیے فائدہ مند ہیں،ٹی 20 فارمیٹ میں بولنگ کرنے والے اسپنرز قومی ٹیم میں آرہے ہیں،فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے بعد ہی اچھا اسپنر مل سکتا ہے، سابق ٹیسٹ کرکٹر کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کا دورہ سب کیلیے مشکل رہتا ہے،بولرز زیادہ تجربہ کار نہیں ہیں، میچ جیتنے کیلیے ہمیں وکٹیں لینا لازمی ہونگی،اگلے میچ کیلیے مناسب حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔
بابراوراظہر نے پہلی اننگز میں اچھا کھیل پیش کیا،دیگر ٹیموں سے پاکستان کا ابھی موازنہ نہیں کیا جاسکتا،اکثر ٹیمیں اپنے ہوم گراؤنڈ پر سیریز کھیل رہی ہیں،نسیم شاہ کی غیر ملکی صحافی اور کھلاڑی تعریف کرچکے ہیں،یاسر شاہ کئی میچز پاکستان کو جیتوا چکا ہے،نئے بال کیساتھ بھی ہمیں وکٹیں نہیں مل رہیں، حریف سائیڈ کی ابتدائی تین سے چار وکٹیں گر جائیں تو یاسر شاہ کا کام شروع ہوتا ہے۔
ہمارے ابتدائی بیٹسمینوں کو بڑی اننگز کھیلنا پڑیں گی،اگر یہ سوچ ہے کہ چوتھا یا پانچویں نمبر کا کھلاڑی سنچری بنائے تو غلط ہے، ٹیسٹ کرکٹر عمران فرحت نے کہا کہ آسٹریلیا کیخلاف بولنگ میں پاکستان ٹیم نے زیادہ رنز دیے،آسٹریلیا میں مثبت سوچ کیساتھ کرکٹ کھیلنی پڑتی ہے،ایسے کھلاڑیوں کو بھی شامل کرنا چاہیے جو وہاں کا تجربہ رکھتے ہوں،نئی مینجمنٹ ابھی کمبینیشن بنا رہی ہے،پاکستان کرکٹ کا سسٹم بدلنے میں تھوڑا وقت لگے گا۔
سابق ٹیسٹ کپتان سلمان بٹ نے کہا ہے کہ آسٹریلیا میں سب سے اچھی بیٹنگ وکٹ ہوتی ہیں۔ وکٹ کو سمجھ کر اگر کھیلا جائے تو رنز بنائے جاسکتے تھے، تجربہ کار کھلاڑیوں کو ایسی کنڈیشنز میں کھلانا چاہیے تھا،میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ آسٹریلیا کیخلاف پاکستان ٹیم ٹیسٹ چیمپیئن شپ کھیل رہی ہے،10 سال بعد جو کھلاڑی بنانے ہیں ان کیساتھ ابھی نہیں چلنا ہے۔
ایسے کھلاڑیوں کو شامل کرنا تھا جو موجودہ کنڈیشن میں پرفارمنس دے رہے ہوں،ٹیسٹ کرکٹ اسپیشلسٹ کا کھیل ہے اگر مگر کا نہیں، یاسر شاہ اسپن بولنگ میں پیس دکھارہے ہیں،پاکستان میں کوالٹی اسپنرز نہیں آرہے،اس ملک میں جو وکٹیں بن رہی ہیں وہ فاسٹ بولرز کیلیے فائدہ مند ہیں،ٹی 20 فارمیٹ میں بولنگ کرنے والے اسپنرز قومی ٹیم میں آرہے ہیں،فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے بعد ہی اچھا اسپنر مل سکتا ہے، سابق ٹیسٹ کرکٹر کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کا دورہ سب کیلیے مشکل رہتا ہے،بولرز زیادہ تجربہ کار نہیں ہیں، میچ جیتنے کیلیے ہمیں وکٹیں لینا لازمی ہونگی،اگلے میچ کیلیے مناسب حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔
بابراوراظہر نے پہلی اننگز میں اچھا کھیل پیش کیا،دیگر ٹیموں سے پاکستان کا ابھی موازنہ نہیں کیا جاسکتا،اکثر ٹیمیں اپنے ہوم گراؤنڈ پر سیریز کھیل رہی ہیں،نسیم شاہ کی غیر ملکی صحافی اور کھلاڑی تعریف کرچکے ہیں،یاسر شاہ کئی میچز پاکستان کو جیتوا چکا ہے،نئے بال کیساتھ بھی ہمیں وکٹیں نہیں مل رہیں، حریف سائیڈ کی ابتدائی تین سے چار وکٹیں گر جائیں تو یاسر شاہ کا کام شروع ہوتا ہے۔
ہمارے ابتدائی بیٹسمینوں کو بڑی اننگز کھیلنا پڑیں گی،اگر یہ سوچ ہے کہ چوتھا یا پانچویں نمبر کا کھلاڑی سنچری بنائے تو غلط ہے، ٹیسٹ کرکٹر عمران فرحت نے کہا کہ آسٹریلیا کیخلاف بولنگ میں پاکستان ٹیم نے زیادہ رنز دیے،آسٹریلیا میں مثبت سوچ کیساتھ کرکٹ کھیلنی پڑتی ہے،ایسے کھلاڑیوں کو بھی شامل کرنا چاہیے جو وہاں کا تجربہ رکھتے ہوں،نئی مینجمنٹ ابھی کمبینیشن بنا رہی ہے،پاکستان کرکٹ کا سسٹم بدلنے میں تھوڑا وقت لگے گا۔