بھارتی فوج کی سیالکوٹ سیکٹر میں فائرنگ و گولہ باری 5 افراد زخمی متعدد مکانات تباہ

ہر گھر پرگولہ باری کے نشان، گلیوں میں گولیاں اوربموں کے ٹکڑے پڑے ہیں، رپورٹ،جوان کی شہادت پر بھارتی وضاحت مسترد

سیالکوٹ: بھارتی فوج کی گولہ باری کے نتیجے میں سرحدی علاقے کے مکین نقل مکانی کررہے ہیں۔ فوٹو: آئی این پی

بھارتی سیکیورٹی فورسز کی سرحدی خلاف ورزیاں جمعے کوبھی جاری رہیں۔سیالکوٹ کے مختلف سیکٹرز پربلااشتعال فائرنگ سے 5 شہری زخمی جبکہ متعدد مویشی ہلاک ہو گئے۔

بھارتی فوج نے جمعے کو چارواہ، سجیت گڑھ، باجرہ گڑھی اور بجوات سیکٹر پر بلا اشتعال فائرنگ کی جس میں چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں کے ساتھ مارٹر گولے بھی فائر کیے گئے جس سے 2 افراد شدید زخمی جبکہ متعدد مویشی ہلاک ہو گئے۔ کئی گھروں کی چھتیں اوردیواریں زمین بوس ہو گئیں۔ نہتے دیہاتیوں نے انڈین فورسز کو بددعائیں دیں جبکہ مکینوں کی بڑی تعداد نقل مکانی میں مصروف ہے۔چناب رینجرز نے بھرپورجواب دیتے ہوئے دشمن کی گنیں خاموش کرا دیں۔آئی این پی کے مطابق بھارتی فوج کی فائرنگ اور گولہ باری سے 5 افراد زخمی ہوئے جنھیں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔




رینجرز حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی سے بھارتی توپیں خاموش ہوگئیں تاہم علاقے میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ بی بی سی کے مطابق سیالکوٹ میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے چناب رینجرز کے سیکٹر کمانڈر بریگیڈیئر متین احمد خان نے بتایا کہ بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس مکانوں، مساجد اور دوسری جگہوں کو نشانہ بنا رہی ہے اور گزشتہ ایک ہفتے میں ایک فوجی اور ایک شہری ہلاک جبکہ 14 زخمی ہوئے ہیں۔ اس علاقے کا دورہ کرنے والی بی بی سی کی نمائندہ کے مطابق ان دیہات میں لگ بھگ ہر گھر پر بموں کے ٹکڑوں کے نشان موجود تھے اور علاقے کی گلیوں میں گولیوں کے خول اور بموں کے ٹکڑے پڑے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ مقامی افراد اور فوج کے مطابق اس علاقے میں 14 اکتوبر سے فائرنگ شروع ہوئی جو ابتک جاری ہے۔ فائرنگ اور شیلنگ رات ہوتے ہی شروع ہوتی ہے اور صبح تک وقفے وقفے سے جاری رہتی ہے۔
Load Next Story