اسپورٹس تنظیموں کی عدالتی جنگ میں کھیلوں کا خون
من پسند فیصلوں کی خواہش رکھنے والے اصولوں کو روند کر آگ بڑھنے میں کوئی برائی نہیں سمجھتے۔
عہدیدار قانونی داؤ پیچ آزمانے میں مصروف ہیں جبکہ کھلاڑی دربدر پھر رہے ہیں۔ فوٹو : فائل
مفادات کی جنگ میں اختیارات کے لیے رسہ کشی اداروں کو پامال کردیتی ہے۔
من پسند فیصلوں کی خواہش رکھنے والے اصولوں کو روند کر آگ بڑھنے میں کوئی برائی نہیں سمجھتے، ملک و قوم کی خدمت کے دعوے بھی صرف عوام کے خوابوں کو بیچنے کے لیے کئے جاتے ہیں، مسائل کے حل کے لیے نہیں، اصل مقاصد اقتدار کے مزلے لوٹنا ہوتا ہے، پاکستان کی سیاست میں ایسے کھیل برسوں سے جاری ہیں، تاہم اب کھیلوں کی دنیا میں سیاست کے منفی رجحانات کی بازگشت بھی مسلسل سنائی دینے لگی ہے۔ ملک میں مختلف اسپورٹس تنظیموں کی باگ ڈور سنبھالنے کے خواہشمندوں کی لائن لگی ہوئی ہے، ہر کسی کا دعویٰ ہے کہ موقع مل جائے تو کھیلوں کی کایا پلٹ کر رکھ دے گا،تلخ حقیقت یہ ہے کھلاڑی عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے میں بری طرح ناکام ہورہے ہیں، کھیلوں سے زیادہ اختیارات کے لیے کھینچاتانی پر توانائی صرف کی جائے تو نتائج میں بہتری کا خواب کیسے دیکھا جاسکتا ہے۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے انتظامات عبوری کمیٹی کے سپرد ہیں۔ ذکاء اشرف نے خود ساختہ جمہوری عمل کے ذریعے بطور چیئرمین اپنے اقتدار کو طول دینے کی کوشش کی، من پسند ریجنل ایسوسی ایشنز اور اپنے ہی بنائے گورننگ بورڈ کی بدولت انتخاب عدالت میں چیلنج ہونے کے بعد ان پر سابق کا لیبل لگ گیا۔ عبوری طور پر چیئرمین بنائے جانے والے نجم سیٹھی بھی عہدہ سنبھالتے ہی اختیارات کے لیے بیتاب ہوگئے، نشریاتی حقوق کی فروخت سمیت مختلف معاملات میں فیصلے کرنے کے لیے نت نئے طریقے تلاش کئے جانے لگے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے انھیں قائم مقام کے بجائے نگران قرار دیتے ہوئے اختیارات محدود کرکے 90 روز میں الیکشن کروانے کی ہدایت کی، ڈیڈلائن گزرنے تک نئے چیئرمین کا انتخاب نہ ہونے پر ان کی کرسی ہلتی نظر آرہی تھی مگر متبادل راستہ تلاش کرتے ہوئے عبوری کمیٹی بناکر انھیں سربراہی سونپ دی گئی، عدالت نے بہر صورت 2 نومبر تک نئے چیئرمین کے انتخاب کا حکم دیا تو اپیل میں جانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ملک میں کئی ریجنل اور ڈسٹرکٹ ایسوسی ایشنز کے تنازعات بھی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، کہیں ایڈہاک تو کہیں ایک دوسرے پر دھاک بٹھانے کی کوشش عروج پر ہے۔
ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا آغاز ہوچکا، ایک ساتھ قائداعظم، پریذیڈنٹ ٹرافی، انڈر 19 کے طویل اور مختصر فارمیٹ کے مقابلے شروع کرنے سے سفارشیوں کی بڑی تعداد سمیت زیادہ سے زیادہ کرکٹرز کو میدانوں میں اتارنے کا موقع مل گیا، پی سی بی کا ڈھانچہ اوپر سے نچلی سطح تک کھوکھلا ہونے کی وجہ سے ارباب اختیار کو میرٹ کی دھجیاں بکھیرنے کی کھلی اجازت ہے، اس صورتحال میں عالمی معیار کا نیا ٹیلنٹ سامنے آنے کی توقعات وابستہ نہیں کی جاسکتیں۔ ڈومیسٹک کرکٹ کے بے رونق میلہ تو کئی کرتا دھرتا افراد کو مالی طور پر آسودہ کرتے ہوئے ختم ہوجائے گا، کھیل کے نام نہاد خدمتگاروں کی اختیارات کے لیے عدالتی جنگ کب ختم ہوگی کچھ کہا نہیں جاسکتا۔
دوسری طرف پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن میں متوازی دھڑوں کی لڑائی بھی طول پکڑتی جارہی ہے۔ جنرل (ر) عارف حسن جس الیکشن کے ذریعے صدر منتخب ہوئے اس میں جنرل (ر) اکرم ساہی گروپ بھی شریک تھا، زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ اسپورٹس پالیسی کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی بنیاد پر عارف حسن کے 2 سے زیادہ ٹرم کے لیے انتخاب کو غلط قرار دیتے ہوئے متوازی باڈی تشکیل دیدی گئی۔ اب حالات یہ ہیں کہ حکومتی پی او اے کو انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی تسلیم نہیں کرتی، ملک کی مختلف اسپورٹس فیڈریشنز بھی خانوں میں بٹ چکیں، کوئی دائیں بازو کے ساتھ ہے تو کسی کا جھکاؤ بائیں طرف ہے، کئی عالمی مقابلوں میں شرکت کے لیے اظہار دلچسپی صرف عارف حسن گروپ کی پی او اے کے ذریعے ہی جمع کروایا جاسکتا ہے۔
متوازی باڈی اپنے طورپر نام بھجوانے کی کوشش کرتی ہے جسے رد کردیا جاتا ہے، اس تنازع کے نتیجے میں پاکستان کامن ویلتھ گیمز ہاکی سمیت کئی انٹرنیشنل ایونٹس میں شرکت کا حق کھو بیٹھا ہے۔ عارف حسن گروپ کے کھلاڑی ملک سے روانہ ہونے لگیں تو انھیں ایئرپورٹ پر روک لیا جاتا ہے،لاہور میں پاکستان اولمپک ہاؤس پر اکرم ساہی گروپ کا قبضہ ہے، قومی کھیلوں سمیت مختلف مقابلے بھی الگ الگ کروائے گئے، کھلاڑی اس تذبذب کا شکار ہیں کہ بہتر مستقبل کی طرف پیش قدمی جاری رکھنے کے لیے کسی دھڑے میں شامل ہوں۔آئی او سی کے گزشتہ اجلاس میں فریقین کا مؤقف سننے کے بعد بھی مسئلے کا کوئی حل سامنے نہیں آسکا، حکومت کی پرا سرار خاموشی معاملات کو مزید گھمبیر بنارہی ہے۔
پاکستان ہاکی ٹیم ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے کے تمام تر مواقع گنواچکی، آصف باجوہ کی جگہ رانا مجاہد علی کو سیکریٹری پی ایچ ایف کا عہدہ سپرد کیا گیا، ہیڈکوچ اختر رسول نے استعفیٰ دیا، چند سینئر کھلاڑیوں کو ڈراپ کرکے نو تشکیل اسکواڈ محمد عمران کی قیادت میں 9 اے سائیڈ انٹرنیشنل سپر سیریز میں شرکت کیلئے آسٹریلیا روانہ ہوا، پاکستان نے ملائشیا کو 3-2 سے زیر کرتے ہوئے فاتحانہ آغاز کرنے کے بعد ایونٹ میں بہتری کے بجائے زوال کی طرف سفر جاری رکھا، ارجنٹائن کے خلاف 4-0 کی برتری حاصل ہونے کے باوجود مقابلہ آخری لمحات میں گول کی بدولت 5-5 سے برابر کیا، آسٹریلیا کے ہاتھوں 0-2 سے شکست کے نتیجے میں ٹائٹل کی دوڑ سے باہر ہونے کے بعد گرین شرٹس تیسری پوزیشن کے میچ میں ملائشیا سے بھی مات کھاگئے، برانز میڈلسٹ ٹیم نے سیریز میں واحد فتح پاکستان کیخلاف حاصل کی۔
گرین شرٹس کے لیے اگلا چیلنج ایشین چیمپئنز ٹرافی ہے جس کے بارے میں کوچ طاہر زمان پہلے ہی قوم کی خوش فہمیاں دور کرچکے، سابق اولمپئن کا روانگی سے قبل کہنا تھا کہ قوم ایونٹ کی دفاعی چیمپئن ٹیم سے اس بار کسی میڈل کی توقع نہ رکھے۔ دوسری طرف پی ایچ ایف نے جمہوری انداز میں ہاکی کے ''خدمت گار'' لانے کے لیے سرگرمیاں بھی شروع کردی ہیں، اس کے ساتھ ہی عدالتی جنگ کا بھی آغاز ہوگیا۔ سابق اولمپئن نوید عالم نے لاہور ہائیکورٹ میں انتخابی عمل کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ رجسٹرڈ کلبز کو انتخابی عمل سے دور رکھتے ہوئے جعلی کلبز بناکر الیکشن کروائے جارہے ہیں، دھاندلی کے ذریعے من پسند افراد کو آگے لانے کی تیاری مکمل کرلی گئی ہیں، انتخابات کرانے اور لڑنے والے پہلے ہی فیڈریشن کے مختلف عہدوں پر فائز ہیں، اس صورتحال میں منصفانہ الیکشن کی توقع نہیں کی جاسکتی۔یاد رہے کہ صوبوں میں انتخابی عمل 15 سے 20 نومبر تک مکمل ہونا ہے جبکہ پی ایچ ایف کا انتخاب 21 سے 25 نومبر تک ہوگا۔ نوید عالم کی درخواست پر فیڈریشن اور اسپورٹس بورڈ سے 11 نومبر کو جواب طلب کیا گیا ہے۔
دنیا کے مختلف ملکوں میں کھلاڑی اور کھیلوں کی مختلف تنظیمیں اپنے اپنے دائرہ کار میں کام کررہی ہیں لیکن جو حالات پاکستان میں ہیں، شاید ہی کہیں اور نظر آئیں، یہاں سیاست کی طرح اسپورٹس عہدے بھی کاروباری ضرورت بن چکے ہیں، حکومت بدلتی ہے تو کئی ایسی سیاسی شخصیات کو بھی کھیلوں کی فیڈریشز اور ایسوسی ایشنز پر قبضہ جمانے کے خواب نظر آنے لگتے ہیں جنہوں نے خود کبھی میدان میں اترنے کی زحمت نہیں کی ہوتی،ان کا خیال ہوتا ہے کہ جب دیگر کئی معاملات میں اختیارات ہمارے ہاتھ میں ہیں تو کھیلوں کو کیوں بخش دیا جائے، عہدہ ہاتھ میں کرو، وقت ہو تو سرکاری خرچ پر سرسپاٹے ہی کریں گے، دوسری صورت میں کسی دوست یا رشتہ دار کو ہی نوازنے کا موقع تو ہوگا۔
اسپورٹس میں سیاست کا چلن ہی من پسند افراد کو آگے لانے کا ذریعہ بنتا ہے، حکومت نہ بدلتی تو چیئرمین پی سی بی ذکاء اشرف کو کون بدلتا،اب باگ ڈور نجم سیٹھی کے ہاتھ اور حکمران بھی ان کے ساتھ ہیں تو آسانی سے عہدہ چھوڑنے پر کیسے آمادہ ہوجائیں؟حکومتی حلقوں اور پاکستان اسپورٹس بورڈ کی آشیرباد اکرم ساہی کا حوصلہ جوان رکھنے کے لیے کافی ہے، ہاکی فیڈریشن کو سیاسی سپورٹ حاصل رہے تو کسی اور کی پرواہ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں حکومتیں انفراسٹرکچر اور وسائل کی فراہمی کے لیے اسپورٹس تنظیموں کی معاونت تو کرتی ہیں لیکن ان کے معاملات میں مداخلت نہیں، پاکستان میں کھیلوں کو حقیقی معنوں میں فروغ دینے کے لیے متعلقہ اداروں کو سیاسی پنجوں سے آزاد کرنا ہوگا ورنہ اختیارات کی ہوس اسپورٹس معاملات کو عدالتوں میں گھسیٹتی پھرے گی اور کھلاڑی دربدر نظر آئیں گے۔ n
abbas.raza@express.com.pk
من پسند فیصلوں کی خواہش رکھنے والے اصولوں کو روند کر آگ بڑھنے میں کوئی برائی نہیں سمجھتے، ملک و قوم کی خدمت کے دعوے بھی صرف عوام کے خوابوں کو بیچنے کے لیے کئے جاتے ہیں، مسائل کے حل کے لیے نہیں، اصل مقاصد اقتدار کے مزلے لوٹنا ہوتا ہے، پاکستان کی سیاست میں ایسے کھیل برسوں سے جاری ہیں، تاہم اب کھیلوں کی دنیا میں سیاست کے منفی رجحانات کی بازگشت بھی مسلسل سنائی دینے لگی ہے۔ ملک میں مختلف اسپورٹس تنظیموں کی باگ ڈور سنبھالنے کے خواہشمندوں کی لائن لگی ہوئی ہے، ہر کسی کا دعویٰ ہے کہ موقع مل جائے تو کھیلوں کی کایا پلٹ کر رکھ دے گا،تلخ حقیقت یہ ہے کھلاڑی عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے میں بری طرح ناکام ہورہے ہیں، کھیلوں سے زیادہ اختیارات کے لیے کھینچاتانی پر توانائی صرف کی جائے تو نتائج میں بہتری کا خواب کیسے دیکھا جاسکتا ہے۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے انتظامات عبوری کمیٹی کے سپرد ہیں۔ ذکاء اشرف نے خود ساختہ جمہوری عمل کے ذریعے بطور چیئرمین اپنے اقتدار کو طول دینے کی کوشش کی، من پسند ریجنل ایسوسی ایشنز اور اپنے ہی بنائے گورننگ بورڈ کی بدولت انتخاب عدالت میں چیلنج ہونے کے بعد ان پر سابق کا لیبل لگ گیا۔ عبوری طور پر چیئرمین بنائے جانے والے نجم سیٹھی بھی عہدہ سنبھالتے ہی اختیارات کے لیے بیتاب ہوگئے، نشریاتی حقوق کی فروخت سمیت مختلف معاملات میں فیصلے کرنے کے لیے نت نئے طریقے تلاش کئے جانے لگے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے انھیں قائم مقام کے بجائے نگران قرار دیتے ہوئے اختیارات محدود کرکے 90 روز میں الیکشن کروانے کی ہدایت کی، ڈیڈلائن گزرنے تک نئے چیئرمین کا انتخاب نہ ہونے پر ان کی کرسی ہلتی نظر آرہی تھی مگر متبادل راستہ تلاش کرتے ہوئے عبوری کمیٹی بناکر انھیں سربراہی سونپ دی گئی، عدالت نے بہر صورت 2 نومبر تک نئے چیئرمین کے انتخاب کا حکم دیا تو اپیل میں جانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ملک میں کئی ریجنل اور ڈسٹرکٹ ایسوسی ایشنز کے تنازعات بھی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، کہیں ایڈہاک تو کہیں ایک دوسرے پر دھاک بٹھانے کی کوشش عروج پر ہے۔
ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا آغاز ہوچکا، ایک ساتھ قائداعظم، پریذیڈنٹ ٹرافی، انڈر 19 کے طویل اور مختصر فارمیٹ کے مقابلے شروع کرنے سے سفارشیوں کی بڑی تعداد سمیت زیادہ سے زیادہ کرکٹرز کو میدانوں میں اتارنے کا موقع مل گیا، پی سی بی کا ڈھانچہ اوپر سے نچلی سطح تک کھوکھلا ہونے کی وجہ سے ارباب اختیار کو میرٹ کی دھجیاں بکھیرنے کی کھلی اجازت ہے، اس صورتحال میں عالمی معیار کا نیا ٹیلنٹ سامنے آنے کی توقعات وابستہ نہیں کی جاسکتیں۔ ڈومیسٹک کرکٹ کے بے رونق میلہ تو کئی کرتا دھرتا افراد کو مالی طور پر آسودہ کرتے ہوئے ختم ہوجائے گا، کھیل کے نام نہاد خدمتگاروں کی اختیارات کے لیے عدالتی جنگ کب ختم ہوگی کچھ کہا نہیں جاسکتا۔
دوسری طرف پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن میں متوازی دھڑوں کی لڑائی بھی طول پکڑتی جارہی ہے۔ جنرل (ر) عارف حسن جس الیکشن کے ذریعے صدر منتخب ہوئے اس میں جنرل (ر) اکرم ساہی گروپ بھی شریک تھا، زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ اسپورٹس پالیسی کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی بنیاد پر عارف حسن کے 2 سے زیادہ ٹرم کے لیے انتخاب کو غلط قرار دیتے ہوئے متوازی باڈی تشکیل دیدی گئی۔ اب حالات یہ ہیں کہ حکومتی پی او اے کو انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی تسلیم نہیں کرتی، ملک کی مختلف اسپورٹس فیڈریشنز بھی خانوں میں بٹ چکیں، کوئی دائیں بازو کے ساتھ ہے تو کسی کا جھکاؤ بائیں طرف ہے، کئی عالمی مقابلوں میں شرکت کے لیے اظہار دلچسپی صرف عارف حسن گروپ کی پی او اے کے ذریعے ہی جمع کروایا جاسکتا ہے۔
متوازی باڈی اپنے طورپر نام بھجوانے کی کوشش کرتی ہے جسے رد کردیا جاتا ہے، اس تنازع کے نتیجے میں پاکستان کامن ویلتھ گیمز ہاکی سمیت کئی انٹرنیشنل ایونٹس میں شرکت کا حق کھو بیٹھا ہے۔ عارف حسن گروپ کے کھلاڑی ملک سے روانہ ہونے لگیں تو انھیں ایئرپورٹ پر روک لیا جاتا ہے،لاہور میں پاکستان اولمپک ہاؤس پر اکرم ساہی گروپ کا قبضہ ہے، قومی کھیلوں سمیت مختلف مقابلے بھی الگ الگ کروائے گئے، کھلاڑی اس تذبذب کا شکار ہیں کہ بہتر مستقبل کی طرف پیش قدمی جاری رکھنے کے لیے کسی دھڑے میں شامل ہوں۔آئی او سی کے گزشتہ اجلاس میں فریقین کا مؤقف سننے کے بعد بھی مسئلے کا کوئی حل سامنے نہیں آسکا، حکومت کی پرا سرار خاموشی معاملات کو مزید گھمبیر بنارہی ہے۔
پاکستان ہاکی ٹیم ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے کے تمام تر مواقع گنواچکی، آصف باجوہ کی جگہ رانا مجاہد علی کو سیکریٹری پی ایچ ایف کا عہدہ سپرد کیا گیا، ہیڈکوچ اختر رسول نے استعفیٰ دیا، چند سینئر کھلاڑیوں کو ڈراپ کرکے نو تشکیل اسکواڈ محمد عمران کی قیادت میں 9 اے سائیڈ انٹرنیشنل سپر سیریز میں شرکت کیلئے آسٹریلیا روانہ ہوا، پاکستان نے ملائشیا کو 3-2 سے زیر کرتے ہوئے فاتحانہ آغاز کرنے کے بعد ایونٹ میں بہتری کے بجائے زوال کی طرف سفر جاری رکھا، ارجنٹائن کے خلاف 4-0 کی برتری حاصل ہونے کے باوجود مقابلہ آخری لمحات میں گول کی بدولت 5-5 سے برابر کیا، آسٹریلیا کے ہاتھوں 0-2 سے شکست کے نتیجے میں ٹائٹل کی دوڑ سے باہر ہونے کے بعد گرین شرٹس تیسری پوزیشن کے میچ میں ملائشیا سے بھی مات کھاگئے، برانز میڈلسٹ ٹیم نے سیریز میں واحد فتح پاکستان کیخلاف حاصل کی۔
گرین شرٹس کے لیے اگلا چیلنج ایشین چیمپئنز ٹرافی ہے جس کے بارے میں کوچ طاہر زمان پہلے ہی قوم کی خوش فہمیاں دور کرچکے، سابق اولمپئن کا روانگی سے قبل کہنا تھا کہ قوم ایونٹ کی دفاعی چیمپئن ٹیم سے اس بار کسی میڈل کی توقع نہ رکھے۔ دوسری طرف پی ایچ ایف نے جمہوری انداز میں ہاکی کے ''خدمت گار'' لانے کے لیے سرگرمیاں بھی شروع کردی ہیں، اس کے ساتھ ہی عدالتی جنگ کا بھی آغاز ہوگیا۔ سابق اولمپئن نوید عالم نے لاہور ہائیکورٹ میں انتخابی عمل کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ رجسٹرڈ کلبز کو انتخابی عمل سے دور رکھتے ہوئے جعلی کلبز بناکر الیکشن کروائے جارہے ہیں، دھاندلی کے ذریعے من پسند افراد کو آگے لانے کی تیاری مکمل کرلی گئی ہیں، انتخابات کرانے اور لڑنے والے پہلے ہی فیڈریشن کے مختلف عہدوں پر فائز ہیں، اس صورتحال میں منصفانہ الیکشن کی توقع نہیں کی جاسکتی۔یاد رہے کہ صوبوں میں انتخابی عمل 15 سے 20 نومبر تک مکمل ہونا ہے جبکہ پی ایچ ایف کا انتخاب 21 سے 25 نومبر تک ہوگا۔ نوید عالم کی درخواست پر فیڈریشن اور اسپورٹس بورڈ سے 11 نومبر کو جواب طلب کیا گیا ہے۔
دنیا کے مختلف ملکوں میں کھلاڑی اور کھیلوں کی مختلف تنظیمیں اپنے اپنے دائرہ کار میں کام کررہی ہیں لیکن جو حالات پاکستان میں ہیں، شاید ہی کہیں اور نظر آئیں، یہاں سیاست کی طرح اسپورٹس عہدے بھی کاروباری ضرورت بن چکے ہیں، حکومت بدلتی ہے تو کئی ایسی سیاسی شخصیات کو بھی کھیلوں کی فیڈریشز اور ایسوسی ایشنز پر قبضہ جمانے کے خواب نظر آنے لگتے ہیں جنہوں نے خود کبھی میدان میں اترنے کی زحمت نہیں کی ہوتی،ان کا خیال ہوتا ہے کہ جب دیگر کئی معاملات میں اختیارات ہمارے ہاتھ میں ہیں تو کھیلوں کو کیوں بخش دیا جائے، عہدہ ہاتھ میں کرو، وقت ہو تو سرکاری خرچ پر سرسپاٹے ہی کریں گے، دوسری صورت میں کسی دوست یا رشتہ دار کو ہی نوازنے کا موقع تو ہوگا۔
اسپورٹس میں سیاست کا چلن ہی من پسند افراد کو آگے لانے کا ذریعہ بنتا ہے، حکومت نہ بدلتی تو چیئرمین پی سی بی ذکاء اشرف کو کون بدلتا،اب باگ ڈور نجم سیٹھی کے ہاتھ اور حکمران بھی ان کے ساتھ ہیں تو آسانی سے عہدہ چھوڑنے پر کیسے آمادہ ہوجائیں؟حکومتی حلقوں اور پاکستان اسپورٹس بورڈ کی آشیرباد اکرم ساہی کا حوصلہ جوان رکھنے کے لیے کافی ہے، ہاکی فیڈریشن کو سیاسی سپورٹ حاصل رہے تو کسی اور کی پرواہ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں حکومتیں انفراسٹرکچر اور وسائل کی فراہمی کے لیے اسپورٹس تنظیموں کی معاونت تو کرتی ہیں لیکن ان کے معاملات میں مداخلت نہیں، پاکستان میں کھیلوں کو حقیقی معنوں میں فروغ دینے کے لیے متعلقہ اداروں کو سیاسی پنجوں سے آزاد کرنا ہوگا ورنہ اختیارات کی ہوس اسپورٹس معاملات کو عدالتوں میں گھسیٹتی پھرے گی اور کھلاڑی دربدر نظر آئیں گے۔ n
abbas.raza@express.com.pk