طالبان سے مذاکرات کا ایشو
طالبان کے ساتھ آئندہ چند روز میں مذاکرات کا آغاز خارج از امکان نہیں ہے، سرتاج عزیز
امریکا کو طالبان سے مذاکرات پر کوئی اعتراض نہیں ہے، سرتاج عزیز۔ ۔فوٹو: فائل
وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے مشیر خارجہ امور سرتاج عزیز نے واشنگٹن میں ایک پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ آئندہ چند روز میں مذاکرات کا آغاز خارج از امکان نہیں ہے۔ جب کہ امریکا ڈرون حملوں پر پاکستان کا موقف سمجھ چکا ہے اور امید ہے اس سال کے آخر تک ان حملوں میں واضح کمی آ جائے گی لیکن یہ الگ بات ہے کہ امریکا کی جانب سے اس بارے میں کوئی باضابطہ اعلان متوقع نہیں ہے۔ سرتاج عزیز نے مزید کہا کہ امریکا کو طالبان سے مذاکرات پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے فیصلے کے مطابق حکومت پاکستان طالبان سے مذاکرات کی حامی ہے۔ امریکا کو معلوم ہے کہ مذاکرات کرنا کوئی سیدھا سادہ معاملہ نہیں۔ جہاں تک 2014ء میں افغانستان سے امریکی انخلا کا تعلق ہے تو یہ امریکا اور افغانستان کا باہمی معاملہ ہے۔ پاکستان اس پر کوئی رائے نہیں دے سکتا۔ ادھر جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان شروع ہی سے طالبان کے ساتھ مذاکرات پر زور دے رہے ہیں جس بنا پر انھیں سیاسی مخالفین کی طرف سے ہدف تنقید بھی بنایا جاتا ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مرکز ختم نبوت چناب نگر میں منعقدہ دو روزہ ''ختم نبوت کانفرنس'' کی اختتامی نشست سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات میں تاخیر ملک کو تباہی کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت نے بھی وفاقی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل فوری طور پر شروع نہ کیا گیا تو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی قیادت میں مذاکراتی عمل شروع کر دیں گے، جمعہ کوخیبر پختون خوا اسمبلی کے اجلاس کے دوران حکومتی اراکین کا کہنا تھا کہ آل پارٹیز کانفرنس کے دوران تمام سیاسی جماعتوں نے وفاقی حکومت کو مینڈیٹ دیا تھا کہ وہ مذاکراتی عمل کا آغاز کرے لیکن کئی ماہ گزرنے کے باوجود مذاکراتی عمل کا شروع نہ ہونا کئی ایک سوالات کو جنم دے رہا ہے، اس وقت دہشت گردی سے سب سے زیادہ خیبر پختون خوا کے عوام متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم وفاق کے ساتھ کھڑے ہیں تاہم ہمیں وفاق اس ضمن میں مطمئن کرے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو پھر ہم اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار رکھتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی پر خاموش نہیں، مرکز کی جانب سے اے پی سی میں مذاکرات کا فیصلہ ہونے کے باوجود کوئی مثبت اشارے نہیں ملے، اس لیے مرکزی حکومت آل پارٹیز کانفرنس کے ذریعے ملنے والے مینڈیٹ کا احترام اور خیبر پختونخوا میں لگی آگ بجھانے میں اپنا کردار ادا کرے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کراچی میں میڈیا سے بات چیت کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا کہ طالبان سے مذاکرات کے لیے ہمیں امریکا سمیت کسی کے بھی این او سی کی ضرورت نہیں، ملک میں دہشت گردی کی سب سے بڑی وجہ ڈرون حملے ہیں، یہ حملے بند ہونے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قیام امن کا بہترین راستہ مذاکرات ہیں اور وفاقی حکومت کو طالبان سے مذاکرات کے لیے تمام سیاسی جماعتوں نے مینڈیٹ دیا ہے جب کہ طالبان سے مذاکرات میں مزید تاخیر بدامنی میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔
اس وقت سب سے زیادہ خون کی ہولی خیبر پختون خوا اور ملحقہ قبائلی علاقوں میں کھیلی جا رہی ہے جس پر قابو پانے کے لیے وقتاً فوقتاً اعلانات و اقدامات کی کوئی نہ کوئی سبیل نکالنی پڑتی ہے، ایک عشرہ سے جاری کشت و خون روکنے کے لیے آپریشن کا آپشن بھی استعمال کیا گیا لیکن نتائج حسب توقع قرارنہیں دیے جا سکتے، اب جب کہ ملک میں قیادت کی تبدیلی کے ساتھ ہی مذاکرات کے لیے حالات سازگار بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں تو تمام سیاسی جماعتوں اور سٹیک ہولڈز کو اعتماد میں لے کر ٹھوس اور مضبوط لائحہ عمل اپنا کر مذاکرات کا عمل آگے بڑھانا چاہیے لیکن اس حوالے سے بظاہر حالات تذبذب کا شکار نظر آتے ہیں۔
پہلا سوال یہ اٹھتاہے کہ طالبان کے درجن بھر سے زیادہ گروہوں میں کس کے ساتھ بات کی جائے، کس کو مذاکرات کی میز پر لانے کی دعوت دی جائے اور کن شرائط پر بات کی جائے، یہ ایسے سوالات ہیں جن پر ضرور ہوم ورک کیا جا چکا ہو گا اور اس کے لیے طریفین نے بھرپور تیاری بھی کر رکھی ہو گی لیکن پھر بھی ہنوز دلی دور است کے مصداق کچھ خدشات اور تحفظات کے سائے منڈلاتے رہیں گے اور یقینا چند قوتیں ان مذاکرات کو ناکامی سے دوچار کرنے کے بھی درپے ہوں گی۔ وہ نہیں چاہیں گی کہ مذاکرات شروع ہوں یا کسی ایک نتیجے پر پہنچ جائیں۔ اس ضمن میں یہ امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات کا عمل شروع کرنے کے لیے آئندہ ہفتے ٹھوس پیش رفت کا امکان ہے، مذاکرات کا طریقہ کار طے ہونے کے بعد سیز فائر کا اعلان کیا جائے گا، امریکا نے بھی تحریک طالبان پاکستان سے حکومت پاکستان کے مذاکرات کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو ان مذاکرات سے حاصل ہونے والے مقاصد پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔
یاد رہے کہ طالبان کی جانب سے شروع میں جو تجاویز پیش کی گئیں ان پر حکومت پاکستان کی جانب سے ایسا تاثر دیا گیا کہ اگر طالبان سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تو حکومت ان کے مطالبات پر غور کر سکتی ہے جس پر انھوں نے بوکھلا کر ایک طرف دہشت گردی کی سرگرمیاں تیز کر دیں اور دوسری جانب ڈرون بند کروانے کی شرط عائد کر دی جو پاکستان کے بس میں نہیں تھا جس سے یہ تاثر ابھر کر سامنے آتا ہے کہ امریکا مبینہ طور پر چند ایک گروہوں کی پشت پناہی بھی کر رہا ہے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے امریکا کے صدر اوباما کے ساتھ ملاقات میں اگرچہ ڈرون حملے بند کرنے کا معاملہ ضرور اٹھایا ہے لیکن امریکا نے اسے سنی ان سنی کر دیا ہے کیوں کہ امریکا وہی کرتا ہے جو اس کے مفاد میں ہوتا ہے، خیر اب وزیراعظم وطن لوٹ چکے ہیں اور کابینہ کو دورہ امریکا کے حوالے سے اعتماد میں بھی لے چکے ہوں گے جس کے بعد یقینا اگلا مرحلہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا عمل شروع کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات شروع کے حوالے سے ہو گا جیسے ہی مذاکرات کا طریقہ کار طے کیا جائے گا اس کے بعد جنگ بندی کا مرحلہ بھی شروع ہونے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔
خیبر پختونخوا حکومت نے بھی وفاقی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل فوری طور پر شروع نہ کیا گیا تو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی قیادت میں مذاکراتی عمل شروع کر دیں گے، جمعہ کوخیبر پختون خوا اسمبلی کے اجلاس کے دوران حکومتی اراکین کا کہنا تھا کہ آل پارٹیز کانفرنس کے دوران تمام سیاسی جماعتوں نے وفاقی حکومت کو مینڈیٹ دیا تھا کہ وہ مذاکراتی عمل کا آغاز کرے لیکن کئی ماہ گزرنے کے باوجود مذاکراتی عمل کا شروع نہ ہونا کئی ایک سوالات کو جنم دے رہا ہے، اس وقت دہشت گردی سے سب سے زیادہ خیبر پختون خوا کے عوام متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم وفاق کے ساتھ کھڑے ہیں تاہم ہمیں وفاق اس ضمن میں مطمئن کرے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو پھر ہم اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار رکھتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی پر خاموش نہیں، مرکز کی جانب سے اے پی سی میں مذاکرات کا فیصلہ ہونے کے باوجود کوئی مثبت اشارے نہیں ملے، اس لیے مرکزی حکومت آل پارٹیز کانفرنس کے ذریعے ملنے والے مینڈیٹ کا احترام اور خیبر پختونخوا میں لگی آگ بجھانے میں اپنا کردار ادا کرے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کراچی میں میڈیا سے بات چیت کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا کہ طالبان سے مذاکرات کے لیے ہمیں امریکا سمیت کسی کے بھی این او سی کی ضرورت نہیں، ملک میں دہشت گردی کی سب سے بڑی وجہ ڈرون حملے ہیں، یہ حملے بند ہونے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قیام امن کا بہترین راستہ مذاکرات ہیں اور وفاقی حکومت کو طالبان سے مذاکرات کے لیے تمام سیاسی جماعتوں نے مینڈیٹ دیا ہے جب کہ طالبان سے مذاکرات میں مزید تاخیر بدامنی میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔
اس وقت سب سے زیادہ خون کی ہولی خیبر پختون خوا اور ملحقہ قبائلی علاقوں میں کھیلی جا رہی ہے جس پر قابو پانے کے لیے وقتاً فوقتاً اعلانات و اقدامات کی کوئی نہ کوئی سبیل نکالنی پڑتی ہے، ایک عشرہ سے جاری کشت و خون روکنے کے لیے آپریشن کا آپشن بھی استعمال کیا گیا لیکن نتائج حسب توقع قرارنہیں دیے جا سکتے، اب جب کہ ملک میں قیادت کی تبدیلی کے ساتھ ہی مذاکرات کے لیے حالات سازگار بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں تو تمام سیاسی جماعتوں اور سٹیک ہولڈز کو اعتماد میں لے کر ٹھوس اور مضبوط لائحہ عمل اپنا کر مذاکرات کا عمل آگے بڑھانا چاہیے لیکن اس حوالے سے بظاہر حالات تذبذب کا شکار نظر آتے ہیں۔
پہلا سوال یہ اٹھتاہے کہ طالبان کے درجن بھر سے زیادہ گروہوں میں کس کے ساتھ بات کی جائے، کس کو مذاکرات کی میز پر لانے کی دعوت دی جائے اور کن شرائط پر بات کی جائے، یہ ایسے سوالات ہیں جن پر ضرور ہوم ورک کیا جا چکا ہو گا اور اس کے لیے طریفین نے بھرپور تیاری بھی کر رکھی ہو گی لیکن پھر بھی ہنوز دلی دور است کے مصداق کچھ خدشات اور تحفظات کے سائے منڈلاتے رہیں گے اور یقینا چند قوتیں ان مذاکرات کو ناکامی سے دوچار کرنے کے بھی درپے ہوں گی۔ وہ نہیں چاہیں گی کہ مذاکرات شروع ہوں یا کسی ایک نتیجے پر پہنچ جائیں۔ اس ضمن میں یہ امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات کا عمل شروع کرنے کے لیے آئندہ ہفتے ٹھوس پیش رفت کا امکان ہے، مذاکرات کا طریقہ کار طے ہونے کے بعد سیز فائر کا اعلان کیا جائے گا، امریکا نے بھی تحریک طالبان پاکستان سے حکومت پاکستان کے مذاکرات کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو ان مذاکرات سے حاصل ہونے والے مقاصد پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔
یاد رہے کہ طالبان کی جانب سے شروع میں جو تجاویز پیش کی گئیں ان پر حکومت پاکستان کی جانب سے ایسا تاثر دیا گیا کہ اگر طالبان سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تو حکومت ان کے مطالبات پر غور کر سکتی ہے جس پر انھوں نے بوکھلا کر ایک طرف دہشت گردی کی سرگرمیاں تیز کر دیں اور دوسری جانب ڈرون بند کروانے کی شرط عائد کر دی جو پاکستان کے بس میں نہیں تھا جس سے یہ تاثر ابھر کر سامنے آتا ہے کہ امریکا مبینہ طور پر چند ایک گروہوں کی پشت پناہی بھی کر رہا ہے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے امریکا کے صدر اوباما کے ساتھ ملاقات میں اگرچہ ڈرون حملے بند کرنے کا معاملہ ضرور اٹھایا ہے لیکن امریکا نے اسے سنی ان سنی کر دیا ہے کیوں کہ امریکا وہی کرتا ہے جو اس کے مفاد میں ہوتا ہے، خیر اب وزیراعظم وطن لوٹ چکے ہیں اور کابینہ کو دورہ امریکا کے حوالے سے اعتماد میں بھی لے چکے ہوں گے جس کے بعد یقینا اگلا مرحلہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا عمل شروع کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات شروع کے حوالے سے ہو گا جیسے ہی مذاکرات کا طریقہ کار طے کیا جائے گا اس کے بعد جنگ بندی کا مرحلہ بھی شروع ہونے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔