متحدہ سے بات چیت مفاہمت کا امکان
سندھ کی سیاست میں مفاہمت ،2طرفہ خیر سگالی اور ملکی ترقی و عوام کی خوشحالی کے لیے اشتراک عمل بہت ضرورت ہے۔
دبئی میں سابق صدرآصف علی زرداری اورمتحدہ کے رہنمائوںکے درمیان مذاکرات خوش آئند ہیں. فوٹو؛فائل
ISLAMABAD:
سندھ کی سیاست میں مفاہمت ،رواداری، دو طرفہ خیر سگالی اور ملکی ترقی و عوام کی خوشحالی کے لیے اشتراک عمل کی جتنی ضرورت آج ہے شاید اس سے پہلے کبھی نہ تھی، پی پی اور ایم کیو ایم کو سندھ کی سیاسی حرکیات اور سماجی و معاشی جدلیات کے تناطر میں فطری حلیف ہونے کا حوالہ ایسا کچھ غلط بھی نہیں ۔گزشتہ روز دبئی میں سابق صدرآصف علی زرداری اورمتحدہ کے رہنمائوںکے درمیان مذاکرات اس سمت میں نئے خوش آئند امکانات پیدا ہوئے ہیں جس پر مبصرین کا کہنا ہے سندھ میں سیاسی اور جمہوری عمل میں بلوغت کا ظہور ، سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو تبدیل شدہ زمینی حقائق کا ادراک جب کہ سیاسی اتحاد و مفاہمت کی اہمیت کو صوبہ کی سیاسی جماعتیں محسوس کرنے لگی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اگرچہ ایم کیو ایم نے سندھ حکومت میں فوری شمولیت سے معذرت کا اظہارکیاہے تاہم اس ضمن میں ملاقات مثبت رہی اوردونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے اس بات پراتفاق کیاکہ بلدیاتی انتخابات، حلقہ بندیوں سمیت تمام امورکو بات چیت کے ذریعے طے کیاجائے گا اور جلد گورنرہاؤس کراچی میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں کی ملاقات ہوگی۔ ادھر پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت نے ایم کیو ایم کو جو سندھ کی ایک بڑی پارٹی ہے اور اس کا اشتراک عمل سندھ کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے، یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ سندھ حکومت کراچی آپریشن پرایم کیو ایم کے تحفظات دورکرے گی ۔ پیپلزپارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کو سندھ حکومت میں شامل ہونے کے لیے کوئی دعوت نہیں دی،تاہم اس سے قبل بھی ایسے مواقع آئے جب دونوں جماعتوں کے درمیان جمہوریت کی خاطر مکالمہ کی راہ ہموار ہوئی ،قائد تحریک کی ہدایت کے تحت پھر سے پی پی اور ایم کیو ایم کے درمیان تعلقات کی تجدید ہوئی اور سیاسی و جمہوری تعاون سے وہ سازشیں دم توڑ گئیں جو ان دو اتحادیوں کو الگ رکھنے کے لیے کی جاتی رہی ہیں۔
یوں ماضی میں دوستی اور رابطہ کے پل تعمیر ہوئے، بات چیت کا راستہ کھلا رہا ، تو اب بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک دوسرے کے جمہوری حقوق اور مینڈیٹ کا پاس لحاظ رکھا جائے، اختلافات کو جمہوری اسپرٹ سے دور کیا جائے۔ منی پاکستان سمیت سندھ بھر کی سیاسی فضا میں بد اعتمادی اورکشیدگی کاخاتمہ ہوگا تو صوبہ سمیت پورے ملک میں امن ، ترقی،روزگار،اور خوشحالی کی منزل قریب آئیگی ۔ یہ حقیقت ہے کہ وزیراعظم نواز شریف مفاہمانہ سیاست اور پرامن سیاسی ماحول کی حمایت اور عملی کوشش میں مصروف ہیں جب کہ کراچی اور سندھ کی پرامن اور روادارانہ سیاست کا پوری ملکی سیاست پر بھی گہرا اور مثبت اثر پڑے گا۔چنانچہ امید کی جانی چاہیے کہ سندھ کے شراکت دار اپنی جمہوری ذمے داریوں سے بہ حسن وخوبی عہدہ برآ ہوں گے۔
سندھ کی سیاست میں مفاہمت ،رواداری، دو طرفہ خیر سگالی اور ملکی ترقی و عوام کی خوشحالی کے لیے اشتراک عمل کی جتنی ضرورت آج ہے شاید اس سے پہلے کبھی نہ تھی، پی پی اور ایم کیو ایم کو سندھ کی سیاسی حرکیات اور سماجی و معاشی جدلیات کے تناطر میں فطری حلیف ہونے کا حوالہ ایسا کچھ غلط بھی نہیں ۔گزشتہ روز دبئی میں سابق صدرآصف علی زرداری اورمتحدہ کے رہنمائوںکے درمیان مذاکرات اس سمت میں نئے خوش آئند امکانات پیدا ہوئے ہیں جس پر مبصرین کا کہنا ہے سندھ میں سیاسی اور جمہوری عمل میں بلوغت کا ظہور ، سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو تبدیل شدہ زمینی حقائق کا ادراک جب کہ سیاسی اتحاد و مفاہمت کی اہمیت کو صوبہ کی سیاسی جماعتیں محسوس کرنے لگی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اگرچہ ایم کیو ایم نے سندھ حکومت میں فوری شمولیت سے معذرت کا اظہارکیاہے تاہم اس ضمن میں ملاقات مثبت رہی اوردونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے اس بات پراتفاق کیاکہ بلدیاتی انتخابات، حلقہ بندیوں سمیت تمام امورکو بات چیت کے ذریعے طے کیاجائے گا اور جلد گورنرہاؤس کراچی میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں کی ملاقات ہوگی۔ ادھر پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت نے ایم کیو ایم کو جو سندھ کی ایک بڑی پارٹی ہے اور اس کا اشتراک عمل سندھ کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے، یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ سندھ حکومت کراچی آپریشن پرایم کیو ایم کے تحفظات دورکرے گی ۔ پیپلزپارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کو سندھ حکومت میں شامل ہونے کے لیے کوئی دعوت نہیں دی،تاہم اس سے قبل بھی ایسے مواقع آئے جب دونوں جماعتوں کے درمیان جمہوریت کی خاطر مکالمہ کی راہ ہموار ہوئی ،قائد تحریک کی ہدایت کے تحت پھر سے پی پی اور ایم کیو ایم کے درمیان تعلقات کی تجدید ہوئی اور سیاسی و جمہوری تعاون سے وہ سازشیں دم توڑ گئیں جو ان دو اتحادیوں کو الگ رکھنے کے لیے کی جاتی رہی ہیں۔
یوں ماضی میں دوستی اور رابطہ کے پل تعمیر ہوئے، بات چیت کا راستہ کھلا رہا ، تو اب بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک دوسرے کے جمہوری حقوق اور مینڈیٹ کا پاس لحاظ رکھا جائے، اختلافات کو جمہوری اسپرٹ سے دور کیا جائے۔ منی پاکستان سمیت سندھ بھر کی سیاسی فضا میں بد اعتمادی اورکشیدگی کاخاتمہ ہوگا تو صوبہ سمیت پورے ملک میں امن ، ترقی،روزگار،اور خوشحالی کی منزل قریب آئیگی ۔ یہ حقیقت ہے کہ وزیراعظم نواز شریف مفاہمانہ سیاست اور پرامن سیاسی ماحول کی حمایت اور عملی کوشش میں مصروف ہیں جب کہ کراچی اور سندھ کی پرامن اور روادارانہ سیاست کا پوری ملکی سیاست پر بھی گہرا اور مثبت اثر پڑے گا۔چنانچہ امید کی جانی چاہیے کہ سندھ کے شراکت دار اپنی جمہوری ذمے داریوں سے بہ حسن وخوبی عہدہ برآ ہوں گے۔