کراچی چیمبرکاحلال سرٹیفکیشن کیلیے قانون سازی پر زور

حلال سرٹیفکیشن کیلیے اسٹیک ہولڈرزکو مشترکہ طور پرتحقیقی کام کرنا چاہیے،عبداللہ ذکی

آگہی پھیلانے کی بھی ضرورت ہے،تھائی حلال سائنس سینٹرکے وفدکی چیمبر آمد پرگفتگو، فوٹو فائل

کراچی چیمبر آف کامرس نے حلال مصنوعات کی سرٹیفکیشن کی پارلیمنٹ میں قانون سازی شروع کرنے کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے خدشہ ظاہرکیا ہے کہ قانون سازی میں مزید تاخیرکے نتیجے میںعلما و مشائخ کی اس ضمن میں کی جانے والی تمام کوششیں رائیگاں ہوجائیں گی۔

چیمبر نے حلال مصنوعات کی سرٹیفیکشن سے متعلق آگہی پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ اس امر کا اظہار تھائی حلال سائنس سینٹرچولالونگ کورن (Chulalongkorn) یونیورسٹی(ایچ ایس سی سی یو)کے 4 رکنی وفد کے کراچی چیمبر آف کامرس کے دورے کے موقع پر کیا گیا۔ اس موقع پرکے سی سی آئی کے صدر عبداللہ ذکی، سینئر نائب صدر مفسر عطا ملک، نائب صدر محمد ادریس، عبدالجبار دلال اور منیجنگ کمیٹی کے اراکین بھی موجود تھے، وفد میں تھائی حلال سائنس سینٹرچولالونگ کورن (Chulalongkorn)، یونیورسٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹربان چانگ ویتھایا میتھا، پلاننگ وپالیسی آفیسر نیروفار، واراکل سلام اورسوپاک نونابی شامل تھے۔




وفد حلال فائونڈیشن پاکستان اور حلال سائنس سینٹرتھالی لینڈ(ایچ ایس سی سی یو) کے ساتھ ایم او یو کے تحت پاکستان کے دورے پر ہے، حلال فائونڈیشن پاکستان جامعتہ الرشید کی مشاورت سے کام کررہاہے۔ ایچ ایس سی سی یو تھائی لینڈ کے وفد نے فیصل آباد کا بھی دورہ کیا جہاں حلال مصنوعات کی سرٹیفکیشن کی اہمیت اجاگر کرنے کے علاوہ اس سے متعلق آگہی اور حلال سائنس سینٹرتھالی لینڈ کے بارے میں معلومات بھی فراہم کی گئیں، حلال سائنس سینٹرتھالی لینڈدنیا کا پہلا جدیدسینٹر ہے ۔

جہاں حلال مصنوعات کے معیار کی جانچ کے لیے جدید آلات کا استعمال کیا جاتاہے جبکہ تحقیق کاعمل بھی جاری ہے۔ کراچی چیمبر کے صدر عبداللہ ذکی نے تجویز پیش کی کہ حلال سرٹیفکیشن اور اس کے تصور کو اجاگر کرنے کے لیے اسٹیک ہولڈرز، ماہرین اور علما ومشائخ کو ایک چھت تلے مشترکہ طور پر تحقیقی کام سرانجام دینے کی دعوت دی جانے چاہیے تاکہ حلال سرٹیفکیشن کے حوالے سے چیلنجز سے باآسانی نمٹا جاسکے۔ وفد نے اس موقع پر حلال مصنوعات اور اس کی سرٹیفکیشن پر پریزنٹیشن بھی دی۔ اس موقع پر حلال فاؤنڈیشن کے شریعہ ڈپارٹمنٹ کے رکن مفتی عبدالرزاق اور شریعہ کنسلٹنٹ عارف علی شاہ بھی موجود تھے۔
Load Next Story