پروٹیز نے بے ایمانی سے آلودہ فتح کو گلے لگالیا

مصباح الحق کے 88 رنز، اسد شفیق نے 130کی اننگز کھیلی،دونوں کی مزاحمت مقابلے کو شام تک لے گئی

دبئی: 2میچز کی ٹیسٹ سیریز برابر ہونے کے بعد پاکستانی کپتان مصباح الحق اور پروٹیز قائد گریم اسمتھ ٹرافی تھامے مسکرارہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

لاہور:
دبئی ٹیسٹ میں پروٹیز نے بے ایمانی سے آلودہ فتح کو گلے لگا لیا، منزل سے بھٹکا ہوا پاکستانی کارواں حسب توقع چوتھے روز ہمت ہارگیا۔

مصباح الحق اور اسد شفیق خواب غفلت سے جاگے تو قافلہ لٹ چکا تھا، مڈل آرڈر بیٹسمینوں کی مزاحمت مقابلے کو شام تک لے گئی، جنوبی افریقہ نے اننگز اور 92 رنز کی کامیابی سے سیریز برابرکردی، بال ٹیمپرنگ میں رنگے ہاتھوں پکڑی جانے والی ٹیم نے 7 برس سے دیار غیر میں سیریز نہ ہارنے کا اعزاز برقرار رکھا۔پاکستان ٹیم دوسری اننگز میں 326 رنز پر آئوٹ ہوئی، اپنے ٹیمپرامنٹ سے ماہر بولرز کا بلڈ پریشر بڑھانے والے مصباح پارٹ ٹائمر ڈین ایلجر کی گیند پر بچکانہ انداز میں آئوٹ ہوگئے، انھوں نے 88 رنز بنائے، اسد شفیق 130 رنز پر اسٹمپڈ ہوئے، عمران طاہر اور پال ڈومنی نے 3،3 وکٹیں لیں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے پاس جنوبی افریقہ کیخلاف 2003 کے بعد سیریز جیتنے کا یہ نادر موقع تھا مگر وہ ابوظبی میں حاصل کی گئی فتح سے فائدہ نہیں اٹھا پایا، شکست کے آثار اسی وقت نمایاں ہوگئے جب پہلے روز ٹیم 99 رنز پر آئوٹ ہوگئی تھی۔

جواب میں جنوبی افریقہ نے 517 رنز بناکر 418 کی برتری حاصل کرلی،تیسرے روز 132 رنز پر 4 وکٹیں گرنے سے یہ خطرہ پیدا ہوگیاکہ پاکستان چوتھے روز پہلے سیشن میں ہی پویلین واپس لوٹ جائے گا، مگر مصباح الحق اور اسد شفیق نے حریف بولنگ اٹیک کے سامنے ڈٹ جانے کی کوشش کرتے ہوئے اسکور 70 سے 267 تک پہنچایا، اس دوران دونوں نے اسپنرز اور فاسٹ بولرز کو عمدگی سے کھیلتے ہوئے حریف سائیڈ کی فرسٹریشن میں اضافہ کردیا، ناقابل حصول منزل کے تعاقب میں مصباح اور اسد نے احتیاط پسندی کی تمام حدیں پار کردی، دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ہی ففٹیز تک 121 گیندوں پر پہنچے، اسد نے پال ڈومنی کی گیند پر2 رنز سے نصف سنچری مکمل کی،اگلے اوور میں مورن مورکل کو تھرڈ مین کی جانب سنگل کیلیے کھیل کر مصباح نے کیریئر کی 22 ویں ففٹی مکمل کی۔




جب جنوبی افریقہ نے دوسری نئی گیند لی تو یہ دونوں اور بھی محتاط ہوگئے،لنچ کے بعد اسد نے تھوڑی رفتار پکڑی اور کپتان کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پال ڈومنی کی فل اور وائیڈ گیند پر اسکوائر ڈرائیو سے سنچری مکمل کرڈالی، دوسرے اینڈ پر موجود مصباح کو بھی احساس ہوا کہ انھیں بھی اب کچھ تیزی دکھانی چاہیے، دوسری جانب گریم اسمتھ نے اپنے تمام اسپیشلسٹ بولرز کو اس جوڑی کے سامنے ناکام پاکر چائے کے وقفے سے 2 اوورز قبل گیند ایک پارٹ ٹائم اسپنر ڈین ایلجر کو تھما دی، وہ یہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ ان کی یہ حکمت عملی بہت بڑے بریک تھرو کا موجب بن سکتی ہے، ایلجر کی گیند بھی انتہائی بے ضرر قسم کی تھی مگر انھیں پہلی ٹیسٹ وکٹ پانے کا اعزاز صرف مصباح کی وجہ سے ملا جو خود برداشت کھو چکے تھے۔

انھوں نے آسان بال کو بائونڈری کے باہر پہنچانے کی کوشش کی مگر وہ کنارے سے ٹکرا کرفرسٹ سلپ میں موجود جیک کیلس کے ہاتھوں میں چلی گئی، مصباح 346 منٹ تک وکٹ پر موجود رہے، اس دوران انھوں نے 218 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے ایک چھکا اور 6 چوکے لگائے، کپتان نے اسد شفیق کے ساتھ پانچویں وکٹ کی شراکت میں 197 رنز جوڑے۔ عدنان اکمل (5) اور سعید اجمل (9) کو عمران طاہر نے ایل بی ڈبلیو کیا، محمد عرفان (14) کو ڈومنی نے بولڈ کیا، 326 کے مجموعے پر اسد شفیق 320 بالز پر 130 رنز بناکر پال ڈومنی کو باہر نکل کر کھیلنے کی کوشش میں اسٹمپڈ ہوئے، انھوں نے ایک چھکا اور 15 چوکے جڑے، ذوالفقار بابر انجرڈ ہونے کی وجہ سے بیٹنگ کیلیے نہیں آئے۔
Load Next Story